آئی ایم ایف نے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتبار نہیں:شہباز شریف

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر آئی ایم ایف نے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتبار نہیں، آپ بھی تو پاکستان کی حکومت ہیں، ہم آپ پر کس طرح اعتبار کریں۔

اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ وہ قیمتوں کو بڑھائے گی، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ بھی معاہدہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں بھی 30 روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے جو معاہدہ کیا بعد میں ان تمام شرائط کی دھجیاں بکھیر دیں جن کی مثال یہ ہے کہ مارچ میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں مگر تحریک انصاف کی حکومت نے قیمتوں کو کم کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ساڑھے تین برس کی حکومت میں ان کو یہ یاد نہیں آیا کہ غریب عوام کو ریلیف دیں مگر رواں برس مارچ میں جب انہوں نے دیکھا کہ شکست ان کا مقدر ہے تو پھر اچانک تیل کی قیمتیں کم کردیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ رواں سال اپریل میں جب میں نے حلف اٹھایا تو سب سے پہلے یہ شاک لگا کہ گزشتہ حکومت نے فنڈ مہیا نہیں کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال نے جو ترقی پسند پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہو سکا اور مجھ سمیت جو بھی لوگ حکومتوں میں آئے انہوں نے اس خواب کو پورا نہیں کیا جو کہ پورا ہونا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک ہم سے آگے نکلے گئے اور ہم وہیں کے وہیں ہیں لیکن میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پرسوں چین نے ایسے حالات میں ہمیں 2.3 ارب ڈالر کا قرض دیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ بے پناہ ہیں اور وہ اس لیے ہیں کہ 75 برس گزرنے کے باوجود اب بھی ہم کشکول لے کر پھرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر سمیت دیگر دوست ممالک کی بات ہمیشہ کرتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کا مالی طور پر سیاسی طور پر اور سفارتی محاذ پر ساتھ دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اقوام جو ہم سے بہت پیچھے تھیں اب وہ ہم سے بہت آگے نکل چکی ہیں وہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے راستے کا تعین کیا، وہ یکجہا ہوگئے، اتحاد اور تنظیم کے ساتھ آگے بڑھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اب ماضی میں جھانکنے اور رونے سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں آج بھی اگر ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں اپنے حالات کی اصلاح کرنی ہے، قوم کی تقدیر بدلنی ہے تو ہمیں خود فیصلے کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا چین کب تک ہماری مدد کرے گا، چین کہتا ہوگا کہ یہ کب تک ہم سے مانگے گے اسی طرح سعودی عرب بھی سوچتا ہوگا کہ یہ ہمارے بھائی ہیں یہ کب اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے گندم، چینی اور دیگر اشیا پر سبسڈی دے کر ملک کا خزانہ خالی کردیا اور اسکینڈل پر اسکینڈل کرتے رہے جس کی وجہ سے ہم قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہیں اور مسلم لیگ کے قائد نواز شریف سمیت تمام قیادت اس بات پر دکھی ہے کہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن سب کے ذہن میں ایک بات تھی کہ پہلے ریاست پھر سیاست، اگر ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف تلا ہوا تھا کہ معاہدے تمام شقیں پوری کی جائیں اور ہمیں اعتبار نہیں ہے، ریاست کا طرہ امتیاز ہوتا ہے کہ معاہدے کی پاسداری کی جائے، یا تو آئی ایم ایف کی شرطیں نہ مانتے کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے لیکن شرطیں مان کر ان پر دستخط کرنے کے بعد ان کی دھجیاں اڑا دیں، تو آج آئی ایم ایف کہتا تھا کہ آپ بھی تو پاکستان کی حکومت ہیں، ہم آپ پر کس طرح اعتبار کریں۔

شہبازشریف نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ہماری شرائط طے ہو گئی ہیں اور امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اگر آئی ایم ایف نے مزید کوئی اور شرط نہ لگا دی تو یہ معاہدہ طے پا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتیجے میں راتوں رات خوشحالی نہیں آئے گی، ہمیں اپنی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے جس کے بعد ورلڈ بینک اور ایشین بینک بھی ہم سے رجوع کریں گے اور آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد اسلامی ممالک سے بھی تعاون پروان چڑھے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ تاریخ میں پہلی بار امیر طبقے پر ٹیکس لگایا گیا ہے کیونکہ غیرب آدمی نے ہر دور میں قربانی دی ہے اور وہ ہی پاکستان کا اصل معمار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر اب کم ہو رہے ہیں اور ہمیں اب گیس کی ضرورت ہے مگر گیس مل نہیں رہی کیونکہ پچھلی حکومت نے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے چین پر اتنی غیرضروری تنقید کی، ان پر الزامات عائد کیے کہ سی پیک پلانٹس میں کرپشن ہوئی لیکن اس کے باوجود بھی چین نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے اور اسی طرح انہوں نے 2.3 ارب ڈالر کا قرضہ دینے کی خاطری کروائی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا میں ہر روز بیٹھ کر متعلقہ حکام سے معلوم کرتا ہوں کہ گیس، پیٹرول، ڈیزل کا جہاز کب پہنچ رہا ہے ، گوادر کا کیا ہوا، کراچی میں پانی کا کیا معاملہ ہے اور بلوچستان کی کیا صورتحال ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں قوم کو ترقی کی راہ پے لے جانا ہے اور ہم اس لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو کا انجام ہٹلر جیسا ہوگا:اردوگان

?️ 17 ستمبر 2025نیتن یاہو کا انجام ہٹلر جیسا ہوگا:اردوگان ترکی کے صدر رجب طیب

نیب ترامیم کالعدم، 6 سابق وزرائے اعظم کے خلاف کرپشن کیسز دوبارہ کھلنے کا امکان

?️ 16 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نیب قوانین میں متنازع ترامیم کو کالعدم قرار

اردنی عوام کا وسیع مظاہرہ؛الکرامہ کاروائی کے ہیرو کا جنازہ واپس کرنے کا مطالبہ

?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: اردنی شہریوں نے اس ملک کے دارالحکومت میں ایک بڑی

حماس کو دہشت گرد قرار دینے والی برطانوی وزیر داخلہ کون ہیں؟/ صہیونیوں سے دوستی اور مہاجرین کے ساتھ سختی

?️ 21 نومبر 2021سچ خبریں:برطانوی وزیر داخلہ پریٹی پٹیل اس سے پہلے بھی بہت سے

حکومت کا پیٹرولیم قیمتوں میں فی لیٹر 55، 55 روپے اضافے کا اعلان

?️ 6 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول

فلسطینی طاقت کا دشمن نے بھی کیا اعتراف

?️ 17 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کو غزہ کی پٹی پر زمینی حملے کے بارے

’انتظار ختم‘ ماہرہ خان، ہمایوں سعید کی ’لو گُرو‘ کا ٹریلر ریلیز

?️ 6 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) شائقین کا طویل انتظار ختم ہوا، ماہرہ خان اور

ٹرمپ انتظامیہ کا شٹ ڈاؤن غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا:امریکی سینیٹ

?️ 17 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی سینیٹ نے اعلان کیا ہے کہ عارضی بجٹ بل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے