?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ بحیثیت وزیراعظم مجھے 3 سال عدالت سے ریلیف نہیں ملا۔ ہم اپنےملک میں کمزور فوج افورڈ نہیں کرسکتے۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ میں ایوب خان کے دور میں بڑا ہوا، ہم نے کبھی جمہوریت نہیں دیکھی تھی، اگر عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو ہم کبھی تباہ نہیں ہوں گے، میں 18سال کی عمر میں برطانیہ گیا وہاں جمہوریت دیکھی، مغربی ممالک میں جمہوریت مستحکم ہے، پاکستان میں طاقتور شخص قانون سے اوپر ہے، برطانیہ میں قانون کی بالادستی ہے جس کی وجہ سے جمہوریت مضبوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے انسان کو زمین پر انصاف کے لیے بھیجا ہے، برطانیہ میں کسی کی کردار کشی کرنے پر سخت قوانین ہیں، قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ملک تباہ ہوا، یورپ میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے، یورپ میں کسی کی کردار کشی نہیں کی جا سکتی، خوشحال اور غریب معاشرے میں صرف قانون کا فرق ہے، جس معاشرے میں انصاف ہو وہ کامیاب ہوتا ہے، میں نے کبھی بھی جمہوریت نہیں دیکھی تھی، میں 18 سال کی عمر میں برطانیہ گیا تو جمہوریت دیکھی ، سارے آمروں نے خود کو قانون کے اوپر رکھ دیا اداروں کو کمزور کیا، آمروں نے ملکی اداروں کو کمزور دیا، جب آمر جمہوری بننے کی کوشش کرتا ہے تو میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے، عدلیہ بحالی تحریک چلی تو پرویز مشرف نے میڈیا کو کنٹرول کیا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ دونوں خاندان کرپشن میں پکڑے گئے، جس معاشرے میں قانون اور انصاف ہے وہ خاموش ہے، پرویز مشرف نے اقدتار سنھبالا تو لوگ خوش تھے۔ دو خاندانوں کے دورمیں رول آف لاء کیوں نہیں آیا، ان دو خاندانوں نے میڈیا کو کنٹرول کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے جتنی مجھ پر تنقید کی گئی کسی اور پر نیں کی گئی۔ بحیثیت وزیراعظم مجھے تین سال عدالت سے ریلیف نہیں ملا۔ میڈیا کو پیسے کھلانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ میں وزیراعظم بنا تو مجھے میڈیا سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ میرے وزیروں کے خلاف ٹیکس چوری کی فیک نیوز چلائی گئیں، بطورِ وزیراعظم میری ہدایت تھی کسی صحافی کو نہیں اٹھانا۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مضبوط فوج ملک کے لیے بہت ضروری ہے، ہم اپنے ملک میں کمزور فوج افورڈ نہیں کرسکتے کیونکہ جن ممالک کی فوج کمزور تھی ان کا حال سب نے دیکھا۔ سوشل میڈیا پر گند اور غلیظ چیزیں آرہی ہیں، اس وقت پوری دنیا میں بحث چل رہی ہے کہ سوشل میڈیا کو کیسے سنبھالا جائے۔ جنہوں نے بھی امریکی سازش نہ روکنے کا فیصلہ کیا بتائیں یہ ملک کے مفاد میں ہے؟ صدر مملکت نے سائفر چیف جسٹس کو بھیجا لیکن سائفر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ ایسے سائفر تو آتے رہتے ہیں، سپریم کورٹ اس سائفر کی انکوائری نہیں کرتا الٹا دھمکی دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے سائفر تو بنانا ری پبلک کو بھی نہیں آتے، سوال ہے کیا اس طرح کسی بڑے ملک کے منتخب وزیراعظم کو ہٹایا جاسکتا ہے؟ اگر آج ایسا ہوا تو آگے کوئی کسی کی دھمکی کے سامنے کھڑا ہوسکے گا؟ ہم نے اپنے دور میں عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی، عدالتی فیصلوں کے لیے کبھی کال نہیں کی۔


مشہور خبریں۔
ترکی کی شام کی تقسیم سے متعلق مشکوک سرگرمیوں پر وارننگ
?️ 26 جولائی 2025ترکی کی شام کی تقسیم سے متعلق مشکوک سرگرمیوں پر وارننگ ترکی
جولائی
صہیونی ریاست کے سابق سفارتکاروں نے اسرائیل کو فرقہ پرست قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اہم اپیل کردی
?️ 9 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں) صہیونی ریاست کے سابق سفارتکاروں نے اسرائیل کو
جون
امریکہ-چین معاشی جنگ اور پاکستان کی حکمت عملی
?️ 19 مارچ 2021(سچ خبریں) امریکہ اور چین کے درمیان سیاسی و معاشی حالات کی
مارچ
بھارت روس سے تیل نہیں خریدے گا:ٹرمپ
?️ 3 فروری 2026بھارت روس سے تیل نہیں خریدے گا:ٹرمپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
فروری
فرانس،آزادی، اسلام دشمنی اور ہولوکاسٹ
?️ 6 جنوری 2023سچ خبریں: فرانسیسی حکومت نے حال ہی میں ایک بار
جنوری
فلسطینی گروہوں کو غیرمسلح کرنے کا معاہدہ
?️ 8 جون 2025سچ خبریں: دو ہفتے قبل (21 مئی 2025) محمود عباس، فلسطینی خودمختار اتھارٹی
جون
نواز شریف کی واپسی سے قبل لندن میں مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم سے مشاورت
?️ 17 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) لندن میں گزشتہ روز مسلم لیگ (ن)کے ہیڈکوارٹرز اسٹین
ستمبر
یوکرین کے توپ خانے پر روسی فوج کا حملہ
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں: اتوار کو روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک پریس
ستمبر