افغانستان میں کیسی حکومت ہو، فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے: بابر افتخار

بھارتی آرمی چیف کے بیان پر میجر جنرل بابر افتخار کا ردعمل

?️

راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کسی حکومت ہو، فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے، پاکستان نے خلوص نیت سےامن عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی افغانستان میں بندوق 20سال میں فیصلہ نہیں کرسکی، افغانستان میں تمام دھڑے بھی جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے افغانستان کی صورت حال پر اے آروائی نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان میں امن عمل کےبہت سےپہلوہیں، پاکستان نے خلوص نیت سےامن عمل آگےبڑھانے کی کوشش کی اور اس امن عمل میں سہولت کارکردارکرتارہا، افغانستان نے کیسے آگے بڑھنا ہے فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان سےکچھ خبریں آرہی ہیں، امریکا نے افغان فوج کی تربیت پربہت پیسے خرچ کیے ہیں، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کریں گے یہ دیکھناہوگا، تاہم اس وقت افغان فوج کی پیش رفت خا ص نہیں، اب تک کی خبروں کے مطابق طالبان کی پروگریس زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پوری سنجیدگی سے افغان امن عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی، کافی عرٖ صےسے کہہ رہے ہیں افغانستان میں حکومت کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے اور بالآخرافغان عوام نے طےکرناہوگاکہ وہ کیسی افغان حکومت چاہتےہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں بندوق 20سال میں فیصلہ نہیں کرسکی، افغانستان میں تمام دھڑے بھی جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے حوالے سے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں سے متعلق تمام خدشات موجود ہیں، افغانستان سرحد پر 90 فیصد سے زائد حصے پر باڑ لگ چکی ہے اور بارڈر سے متعلق ایک لائحہ عمل طے ہوچکا ہے۔

انھوں نے مزید کہا سب جانتے ہیں داعش اور ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہیں، افغانستان میں خانہ جنگی کے امکان کے پیش نظرتیاری کی ہیں اور افغانستان سرحد سے حملوں سے متعلق معاملات افغان حکومت سے اٹھائے ہیں۔

بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس وقت ہمارے بارڈر مینجمنٹ کےمعاملات بہت بہترہیں، باڑ لگانے کے دوران افغانستان سے ہم پر حملے ہوتے رہے ہیں، افغانستان میں حالات خراب ہونےپرافغان سرحدسےپناہ گزینوں کی آمدکاخدشہ موجود ہوگا، پناہ گزینوں کی ممکنہ آمدپرتمام اداروں کو مل کرکام کرنےکی ضرورت ہوگی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے واضح کیا کہ ہم نے اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی، جیسےانتظام ہم نے کیے وہ دوسری طرف سےبھی ہونےچاہیےتھے جونہیں ہوئے، سرحد پر انتظامات کودوسری طرف سےایئرٹائٹ نہیں رکھاگیا۔

بھارت کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری نیک نیتی سےہوتی توپریشان نہ ہوتے، آج بھارت کوافغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظرآرہی ہے، پاکستان نے پوری کوشش کہ مسئلے کا حل بغیر لڑائی پرامن طریقے سے ہوسکے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت دنیا کو بتانا چاہتا ہے افغانستان کے مسائل کی وجہ پاکستان ہے ، ہم چاہتے ہیں افغانستان کے مسئلے کا حل بغیرتشدد ہو، افغانستان میں ہماراکوئی پسندیدہ نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا امریکہ میں یہودی ریاست بنے گی؟

?️ 27 ستمبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی حکومت میں سیاسی، سیکورٹی اور سماجی عدم استحکام کے بعد

امارات کے اعلیٰ حکام کا ایران جنگ کے ابتدائی ایام میں مقبوضہ علاقوں کا خفیہ دورہ

?️ 17 جون 2026سچ خبریں:صیہونی نیٹ ورک کان نے انکشاف کیا ہے کہ امارات کے

اسرائیلی فوجیوں میں خودکشیوں کی غیرمعمولی تعداد میں اضافہ

?️ 26 اپریل 2026سچ خبریں: ہآرتض اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی حکومت کی

ایوارڈز شوز جھوٹے ہوتے ہیں، زارا نور عباس

?️ 9 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ زارا نور عباس نے کہا ہے کہ انہیں

چوہدری پرویز الٰہی کیوں غائب ہیں؟

?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کو رہا

2023 میں بھی عمران خان ہی وزیر اعظم بنائیں گے

?️ 11 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہےکہ

صیہونی کابینہ تباہی سے ایک قدم کے فاصلہ پر

?️ 16 جون 2022سچ خبریں:نفتالی بینیٹ کی اتحادی کابینہ ایک نمائندے کے جانے کی وجہ

طالبان ترجمان: اگر پاکستان نے جنگ جاری رکھی تو ہم سختی سے جواب دیں گے

?️ 27 فروری 2026سچ خبریں: طالبان کی نگراں حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے