اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 14 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں چین سے تین اقساط میں 1.3 ارب ڈالر کی آمد سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بہتری نظر آرہی ہے۔

پاکستان کمرشل اور نان کمرشل قرضوں کے لیے بڑے پیمانے پر چین پر انحصار کر رہا ہے اور اس وقت سب سے زیادہ بیجنگ کا قرض 30 ارب ڈالر ہے۔

چین سب سے بڑی شراکت دار کی حیثیت سے پاکستان میں 30 فیصد سے زائد براہ راست بیرونی سرمایہ کار کر رہا ہے اور مالی سال 2023 کے 9 ماہ میں یہ سرمایہ پاکستان میں آئی تاہم تجارت کا توازن چین کی طرف زیادہ ہے۔

اسٹیٹ بینک نے رپورٹ کیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 4.432 ارب ڈالر ہوگئے ہیں، جس میں رواں ہفتے کمرشل بینکوں کے 30 کروڑ ڈالر قرض بھی شامل ہے۔

رواں مالی سال میں زرمبادلہ کے ذخائر کی یہ سطح سب سے زیادہ ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 مارچ کو 4.6 ارب ڈالر ہوگئے تھے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود تاحال دونوں ممالک نے فنڈز کا اجرا نہیں کیا۔

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں انتہائی کمی آئی تھی اور رواں مالی سال کے دوران ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بھی بدترین گراوٹ ہوئی اور ڈالر 105 روپے مہنگا ہوگیا، جس کی وجہ سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان کو مہنگے ڈالر کے ساتھ درآمدات کرنا پڑی جس کی وجہ سے مارچ میں مہنگائی کی سطح 35 فیصد تک پہنچ گئی تھی، افراط زر میں ریکارڈ اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک کو شرح سود 21 فیصد کرنا پڑا، جس سے تجارتی اور صنعتوں سرگرمیوں پر فرق پڑا۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2023 کے دوران معاشی نمو 0.5 فیصد رہے گا اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کردیں، اس دوران بدترین معاشی حالات کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی روزگار سے محروم ہوئے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے لیے تمام شرائط مکمل کرلی ہیں تاہم 1.1 ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کے لیے اب تک آئی ایم ایف سے عملے کی سطح پر معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔

حکومت کی خواہش ہے کہ جون کے اختتام تک 6 ارب ڈالر کا قرض حاصل کیا جائے جبکہ 2 ارب ڈالر چین کی جانب سے رول اوور ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین معیشت اور تجزیہ کار حکومت کو خبردار کرتے آئے ہیں کہ معاشی عدم استحکام کا مسئلہ فوری حل کریں، جو سابق وزیراعظم عمران خان کی بے دخلی کے بعد مزید خراب ہوگیا ہے۔

حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے بعد درآمدات پر سختی کی لیکن 9 ماہ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی خسارہ اس وقت بھی 20 ارب ڈالر ہے اور مالی سال 2023 کے پہلے 9 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 74 فیصد گرگیا لیکن ملک کو سال کے اختتام پر خسارے پر قابو پانے کے لیے 6 ارب ڈالر درکا ہیں۔

اس دوران کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 5.5 ارب ڈالر ہوا اور مجموعی تعداد 9.96 ارب ڈالر ہوگئی، جس کے بعد ملک کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 17 مارچ کو 10.1 ارب ڈالر پر پہنچ گئے تھے۔

مشہور خبریں۔

مغربی کنارے پر صہیونی فوج کا دھاوا، آنسو گیس کی شیلنگ

?️ 7 جنوری 2026 مغربی کنارے پر صہیونی فوج کا دھاوا، آنسو گیس کی شیلنگ

جلاؤ گھیراؤ مقدمہ: صحافی عمران ریاض کی ضمانت منظور

?️ 9 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے زمان پارک پولیس

2022 میں جاپانی طالب علموں کی خودکشی کا ریکارڈ قائم

?️ 26 مارچ 2023سچ خبریں:جاپانی حکومت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ

’پاکستان آئیڈل‘ کے ججز پینل کا انتخاب دوستی کی بنیاد پر کیا گیا، سنیگتا

?️ 29 نومبر 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف ہدایت کارہ و اداکارہ سنیگتا نے ’پاکستان آئیڈل‘

وزیراعظم نےآئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا

?️ 24 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے آج (بروز پیر) انٹر

دو سالہ جنگ نے اسرائیلی فوج کو بُری طرح فرسودہ کر دیا:صہیونی میڈیا

?️ 2 دسمبر 2025 دو سالہ جنگ نے اسرائیلی فوج کو بُری طرح فرسودہ کر

آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا مبینہ منصوبہ؛ وال اسٹریٹ جرنل کی زبانی

?️ 4 مئی 2026سچ خبریں:وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے جہازوں

بھارت نے حملوں کے دوران شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا۔ خواجہ آصف

?️ 9 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے