اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کردیا۔

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں)اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید 125 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے 15 فیصد کردی۔قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مہنگائی بہت زیادہ ہوگئی ہے، کھانے پینے کی اشیا بہ مہنگی ہوگئی ہیں، پھر حکومت نے ابھی مشکل فیصلہ کیا ہے جو صحیح فیصلہ تھا کہ بجلی اور پیٹرول کی سبسڈی ختم کردی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے عام آدمی پر بہت دباؤ آرہا ہے، اسٹیٹ بینک اور زری پالیسی کمیٹی اس چیز پر بہت زیادہ زور دے رہی ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنا ہے کیونکہ یہ ہمارے عام آدمی کے لیے بہت مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کنٹرول کرنا اب ہمارا سب سے اہم مقصد ہے تاکہ ہمارے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

قائم مقام گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ شرح سود کو 1.25 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کردی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے، 1970 کے بعد مارکیٹ میں اتنی زیادہ مہنگائی پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ کے بعد جب معشتیں بحال ہونے لگیں تو طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا اور شپنگ اور دیگر مد میں لاگت میں اضافہ ہونے لگا۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ خیال تھا کہ قیمتیں بتدریج نیچے آنا شروع ہوں گی لیکن فروی میں روس یوکرین جنگ کے بعد اشیا کی چیزیں اور بھی اوپر چلی گئیں اور عالمی مسئلہ بھی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہمارے اندرونی سطح پر بھی چند وجوہات ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے، سب سے پہلی یہ ہے کہ مالی سال 2021 اور 2022 میں ہم نے بہت تیزی سے شرح نمو دیکھا جو تقریباً 6 فیصد تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ویسے تو 6 فیصد شرح نمو بڑی اچھی چیز ہے لیکن دو سال تک شرح نمو 6 فیصد رہے تو ہماری معیشت کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ مسئلے شروع ہوجاتے ہیں، مہنگائی شروع ہوتی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ آجاتا ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ شرح نمو میں ہماری تیز رفتاری کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بدقسمتی سے مالی وسعت ہوگی اور اس وجہ سے بھی طلب بڑھ گئی اور اس سال پھر سے شرح نمو 6 فیصد ہوگئی حالانکہ رواں سال تھوڑی سی کم ہونی چاہیے تھی تو اس وجہ سے بھی مہنگائی ہو رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ جنگ نہ صرف اسرائیل کی ہے بلکہ امریکہ کی بھی ہے: نیتن یاہو

?️ 14 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی تقریر

تل ابیب میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاجی ریلی

?️ 27 اکتوبر 2023سچ خبریں:آج صبح 27 اکتوبر کو قابضین کے خلاف الاقصیٰ طوفانی آپریشن

موسمیاتی تبدیلی کی غلط معلومات سےمتعلق  گوگل کا اہم فیصلہ

?️ 10 اکتوبر 2021نیویارک( سچ خبریں)انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے موسمیاتی

صہیونی حکام گرفتاری سے بچنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے صیہونی حکام کی

مقدونیہ نے مزید چھ روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کیا

?️ 15 اپریل 2022سچ خبریں:  جمہوریہ شمالی مقدونیہ کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو اعلان

اسرائیل کو ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے: فیدان

?️ 27 جون 2026سچ خبریں: ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ایران

قطر نے پاکستان کو ایل پی جی دینے کا عندیہ دے دیا

?️ 24 اگست 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں) قطر نے پاکستان کو ایل پی جی

جفری اپسٹین کی برطانوی ہوائی اڈوں کے ذریعے انسانی اسمگلنگ، برطانیہ کے حکام کو الزامات کا سامنا

?️ 18 فروری 2026سچ خبریں:جفری اپسٹین نے برطانوی ہوائی اڈوں کو انسانی اسمگلنگ کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے