اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججز نے سینیارٹی کا معاملہ پھر اٹھادیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے سینیارٹی کا معاملہ ایک بار پھر اٹھا دیا، سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کو بھجوا دی جب کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو بھی ججز ریپریزنٹیشن کی کاپی بھجوا دی گئی ہے۔

میڈیا کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار نے ججز ریپریزنٹیشن بھیجی جب کہ جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی ریپریزنٹیشن بھیجنے والوں میں شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر کی جانب سے الگ سے ریپریزنٹیشن فائل کیے جانے کا امکان ہے۔

ججز ریپریزنٹیشن میں کہا گیا کہ جج جس ہائیکورٹ میں تعینات ہوتا ہے اُسی ہائیکورٹ کے لیے حلف لیتا ہے، آئین کی منشا کے مطابق دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے پر جج کو نیا حلف لینا پڑتا ہے۔

ریپریزنٹیشن کے مطابق دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے جج کی سینیارٹی نئے حلف کے مطابق طے ہو گی۔

دوسری جانب، عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ججز کی جانب سے دائر ریپریزنٹیشن سینیارٹی سے متعلق ہے اور ان کا ججز کے تبادلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری سے گزشتہ روز سینیارٹی لسٹ جاری کی گئی تھی۔

جسٹس سرفراز ڈوگر کو انسداد دہشت گردی اور احتساب عدالتوں کے انتظامی جج تعینات کردیا گیا ہے، اس سے قبل جسٹس محسن اختر کیانی اے ٹی سی اور احتساب عدالتوں کے انتظامی جج تھے، چیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری سے آفس آرڈر جاری کردیا گیا ہے۔

آفس آرڈر کے مطابق جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس اعظم خان کو ڈسٹرکٹ کورٹس ویسٹ کا انتظامی جج تعینات کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح، جسٹس ارباب محمد طاہر ایف آئی اے کورٹس کے انتظامی جج تعینات کردیے گئے ہیں جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو بینکنگ کورٹس کی انتظامی جج تعینات کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر مملکت آصف زرداری نے یکم فروری کو لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے ایک، ایک جج کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کردیا تھا۔

31 جنوری کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے ملک کی کسی دوسری ہائی کورٹ سے جج لانے کی ممکنہ کوشش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی سمیت دیگر ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا تھا۔

ججز خط کے مطابق 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان میں سیاسی جمہوری حکومتوں کے ادوار میں آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ کے مستقل جج کی تعیناتی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

یاد رہے کہ 10 دسمبر کو ڈان اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کو سپریم کورٹ کا جج بنایا جانا متوقع ہے اس لیے عدالتی بیوروکریسی میں مبینہ طور پر موجودہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی ترقی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کی سربراہی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے ایک جج لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

روایتی طور پر ہائی کورٹ کے سینئر جج کو چیف جسٹس مقرر کیا جاتا ہے لیکن رواں سال کے شروع میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے 26ویں ترمیم کی روشنی میں سنیارٹی کے معیار کے حوالے سے نئے قواعد متعارف کرائے تھے۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے تجویز پیش کی کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر 5 سینئر ترین ججوں کے پینل میں سے کیا جا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن پر تمام نظریں مرکوز

?️ 4 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں}  سینیٹ انتخابات میں اپ سیٹ کے بعد اپوزیشن

بغداد میں13دہشتگرد گرفتار

?️ 7 فروری 2021سچ خبریں:عراقی انٹیلی جنس اورسکیورٹی ایجنسی نےاس ملک کے دارالحکومت بغداد میں

روسی ماہر: قیادت کے محور پر عوامی اتحاد ایران کی کامیابی کا راز ہے

?️ 7 جون 2026سچ خبریں: روس کے پریماکوف سینٹر فار فارن پالیسی کوآپریشن کے علمی

صحافیوں کو صیہونیوں سے بچایا جائے:فلسطینی صحافیوں کی انجمن

?️ 24 جنوری 2026سچ خبریں:فلسطینی صحافیوں کی انجمن کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل

سحر حیات نے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا

?️ 14 جون 2021لاہور (سچ خبریں)ٹک ٹاک پر فالوورز کی تعدادکے حوالے سے  پاکستان  کی

اسرائیلی فوجیوں کا ڈراؤنا خواب

?️ 16 دسمبر 2023سچ خبریں:15 دسمبر کی صبح، فلسطینی میڈیا نے اعلان کیا کہ مزاحمتی

افغانستان میں پولیو پھیلنے کا خطرہ

?️ 21 جون 2022سچ خبریں:     افغانستان کے لیے امریکی خصوصی جنرل انسپکٹر نے افغانستان

الیکشن سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا قوم کے نام پیغام

?️ 30 جولائی 2024سچ خبریں: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے