?️
سچ خبریں:معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان کے مطابق ایران نے اسلام آباد مذاکرات میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ منصوبے کو ناکام بنا دیا، اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے واشنگٹن کے لیے نئے اسٹریٹجک بحران پیدا کر دیے ہیں۔
عبدالباری عطوان نے اسلام آباد مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔
انہوں نے اپنے تازہ اداریے میں لکھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس اعتراف کے بعد کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران سے افزودہ یورینیم کا اخراج اور مستقبل میں یورینیم افزودگی روکنا تھا، یہ واضح ہو گیا کہ اسلام آباد مذاکرات آغاز سے ہی تعطل کا شکار تھے۔ ان کے مطابق ان مذاکرات کا اصل ایجنڈا درحقیقت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی نگرانی میں طے کیا گیا تھا، نہ کہ امریکہ کی آزاد پالیسی کے تحت۔
عبدالباری عطوان کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کے ذریعے وہی پرانے تجربات دہرانے کی کوشش کی جو عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کے بہانے اور لیبیا میں جوہری پروگرام ختم کرنے کے نام پر کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے ان مقاصد کو بخوبی سمجھتے ہوئے کسی بھی مرحلے پر یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری قبول نہیں کی اور نہ ہی افزودہ مواد ملک سے باہر منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
عطوان کے مطابق ایران کی قیادت اس بات سے آگاہ تھی کہ لیبیا اور عراق جیسے تجربات اگر ایران میں دہرائے گئے تو اس کا مقصد صرف سیاسی تبدیلی اور ممکنہ قبضہ ہوگا، اسی لیے تہران نے سخت موقف اختیار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی دراصل ایرانی وفد اور بالخصوص اسپیکر محمدباقر قالیباف کی سیاسی و عسکری بصیرت کا نتیجہ تھی، جنہوں نے امریکی منصوبے کے اہم نکات کو مسترد کر دیا۔
عطوان نے ایرانی رکن پارلیمنٹ علی نیکزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کا مقصد دراصل ایران میں موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا تھا، نہ کہ صرف کسی فوجی یا فضائی مشن کی تکمیل۔
اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ نے دباؤ بڑھانے کے لیے ایران کی بندرگاہوں پر محاصرے کی دھمکی دی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے ایرانی تیل کی برآمدات کو روکنا تھا۔
عطوان کے مطابق اس اقدام کو ایران نے بحری قزاقی قرار دیا اور سخت ردعمل کی دھمکی دی، جبکہ اسرائیل نے اس امریکی حکمت عملی کی مکمل حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو خلیجی ممالک کی بندرگاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
عطوان نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے حالیہ 40 روزہ کشمکش میں ایرانی طاقت اور صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا، جس کے نتیجے میں نہ صرف اس کے عسکری منصوبے ناکام ہوئے بلکہ اسٹریٹجک سطح پر بھی اسے نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اس دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس میں متعدد طیاروں اور عسکری اہداف کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
عطوان کے مطابق آبنائے ہرمز اب ایک ایسے اسٹریٹجک مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کسی بھی ممکنہ امریکی مداخلت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنی تحریر کے اختتام پر کہا کہ اگر امریکہ نے زمینی یا بحری کارروائی کی کوشش کی تو اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور آبنائے ہرمز خطے کی بڑی طاقتوں کے لیے ایک خطرناک محاذ بن جائے گا۔


مشہور خبریں۔
صہیونی فوج کو گزرتے دن کے ساتھ اپنی طاقت کم ہونے کا اعتراف
?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے بدھ کو اعتراف کیا کہ
جولائی
بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی جماعتوں پر بڑا الزام
?️ 23 جون 2024سچ خبریں: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو
جون
ملکہ کی آخری رسومات کے درمیان لندن میں چاقو کشی
?️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں: لندن پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ دو افسروں کو
ستمبر
یمنی فوج کی سعودی عرب کو خطرناک دھمکی
?️ 28 مارچ 2021سچ خبریں:یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے کہاکہ ہم سعودی عرب پر
مارچ
قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں: اسرائیلی ذرائع
?️ 26 ستمبر 2021 سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سیاسی ذرائع نے حماس کے ساتھ
ستمبر
رائے الیوم: ایران کے میزائلوں نے اسرائیل کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کردیا
?️ 25 جون 2025سچ خبریں: ایک عرب میڈیا نے صیہونی حکومت کے ساتھ 12 روزہ
جون
امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے لیے 14.3 بلین ڈالر کے امداد
?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں:جمعرات کی شام امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کے لیے 14.3
نومبر
ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی پر فیصلہ سنا دیا
?️ 10 مارچ 2021اسلام آبا (سچ خبریں) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس
مارچ