جائیداد کی قدر کوآمدنی سمجھنا ’وفاقی دائرہ اختیار سے باہر‘ ہے، لاہور ہائیکورٹ

?️

لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن ای-7 کے تحت غیر منقولہ جائیدادوں سے متوقع آمدن پر ٹیکس کو آئین کے خلاف قرار دیا ہے، یعنی یہ دائرہ کار سے متجاوز اور اختیار سے باہر ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ غیر منقولہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کو آمدنی سمجھنا وفاقی مقننہ کی اہلیت سے باہر ہے۔ 50 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس شاہد جمیل خان نے یہ بھی قرار دیا کہ آرڈیننس کے تحت بعض افراد کو، مثال کے طور پر شہدا اور ان کے زیر کفالت افراد اور سابق فوجیوں کو چھوڑنا امتیازی سلوک ہے اور آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور قانون کے مساوی تحفظ کے حقدار ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں غیر منقولہ جائیداد پر انکم ٹیکس لگانے کی وفاقی مقننہ کی اہلیت کا جائزہ لیا گیا۔

فیصلے میں جسٹس شاہد جمیل خان نے ٹیکس دہندگان کی ایک ہزار سے زائد درخواستوں کو منظور کیا جس میں وفاقی حکومت کی ٹیکس عائد کرنے کی قانون سازی کی اہلیت اور سیکشن 7 ای کے قوانین کو چیلنج کیا گیا تھا۔

جج نے مشاہدہ کیا کہ مقننہ کی جانب سے سیاسی، اقتصادی اور سماجی عوامل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہدوں اور معاہدوں سے متاثر ہو کر تمام قسم کے ٹیکس لگانے کے واقعات یا حالات، براہ راست یا بالواسطہ، قانون سازی کا فیصلہ کیا جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی شخص یا جائیداد پر ٹیکس عام طور پر براہ راست ٹیکس ہوتا ہے اور لین دین پر ٹیکس بالواسطہ ہوتا ہے،چونکہ یہ لین دین کے ساتھ جاتا ہے اور جہاں لین دین ختم ہوتا ہے وہاں لاگو ہوتا ہے۔

جج نے مشاہدہ کیا کہ ٹیکس کا ریاست کا اختیار قانون سازی کی صوابدید کے ذریعے استعمال ہونے والی خودمختاری کا حصہ ہے، جسے سخت یا غیر معقول ہونے کی بنیاد پر کم نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا یا کہ چونکہ وفاقی مقننہ ٹیکس لگانے کے لیے جائیداد رکھنے یا کنٹرول کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنے کی مجاز ہے اس لیے اس کے پاس ناجائز اثاثوں کو کنٹرول کرنے اور اس پر قابو پانے کی بھی واضح طاقت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’غیر شفاف ذرائع سے دولت جمع کرنے کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے اور دیگر متعلقہ قوانین کی متعلقہ دفعات میں ترامیم کے ساتھ ٹیکس کی دفعات کے ذریعے مجرمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘

جسٹ جمیل شاہد خان نے کہا کہ آرڈیننس کے سیکشن 7 ای (2)(d) کی شق (i)، (iii) اور (iv)کے تحت لوگوں کو چھوڑنا امتیازی سلوک ہے۔

اس شق میں پاکستان کی مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے شہید یا شہید کے زیر کفالت افراد، مسلح افواج یا وفاقی یا صوبائی حکومت کی سروس کے دوران مرنے والا شخص یا اس کے زیر کفالت افراد، دورانِ جنگ زخمی ہونے والے شخص ، سابق فوجی اور مسلح افواج کے حاضر سروس اہلکار یا سابق ملازمین یا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حاضر سروس اہلکار، جو کہ الاٹمنٹ اتھارٹی کے ذریعے مستند کیپٹل اثاثے کے اصل الاٹی ہیں، انہیں استثنیٰ دیا گیا ہے۔

جج نے فیصلہ دیا کہ یہ شق ان لوگوں کے لیے انتہائی امتیازی ہے جو اپنی بچت سے جائیداد خریدتے ہیں لیکن انہیں ان کی سروس کے دوران کبھی بھی غیر منقولہ جائیداد سمیت کوئی اثاثہ الاٹ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بعض افراد کو چھوڑ کر، مقننہ نے ان افراد کو نظر انداز کیا، جنہیں غیر منقولہ جائیداد وراثت میں ملی لیکن وہ کیپٹل ویلیو ٹیکس ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے، خاص طور پر جب ٹیکس فرد پر ہو نہ کہ جائیداد پر۔

مشہور خبریں۔

بھارت تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے: سول سوسائٹی ارکان

?️ 26 فروری 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

غزہ میں قحط اور بھوک کی وجہ سے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی موت

?️ 25 فروری 2024سچ خبریں:فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کیا سینیٹ الیکشن میں 20 نشستیں ملنے کا دعویٰ

?️ 6 فروری 2021اسلام آباد {سچ خبریں} حکمران جماعت تحریک انصاف کو وزیر دفاع پرویز

امریکی دباؤ کے بعد یروشلم میں کشیدہ کابینہ کا اجلاس منعقد

?️ 12 دسمبر 2025سچ خبریں: نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے ایک

محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کی الٹی گنتی شروع

?️ 2 جون 2022سچ خبریں:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان گزشتہ چھ سال سے

غزہ کی پٹی کے مکینوں کے تباہ کن حالات

?️ 11 جولائی 2024سچ خبریں: المیادین کے رپورٹر کے مطابق اس پٹی کے وسط میں واقع

شوکت ترین کوسینیٹر بنانے کی راہ ہموار ہو گئی

?️ 23 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)سینیٹر ایوب آفریدی کی جانب سے استعفی دینے کے

سری لنکا کے لیے پاکستان کی امدادی پرواز 60 گھنٹے تک بھارت کی اجازت کا انتظار کر رہی ہے

?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: پاکستانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ ہندوستان نے اسلام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے