5 ماہ میں بینکوں کی غیر سرکاری شعبے میں 2 ہزار 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) بینکوں نے رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران غیر سرکاری شعبے بالخصوص نجی شعبے اور بینکوں سے ہٹ کر مالیاتی اداروں (این بی ایف آئیز) میں 2 ہزار 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک انکریمنٹل ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنے قرضوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے میں جلد بازی کر رہے ہیں، جو 31 دسمبر کو ادا کرنا ہوگا۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے ایسے بینکوں پر 15 فیصد تک ٹیکس عائد کیا تھا، جو 31 دسمبر تک ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کو 50 فیصد تک بڑھانے میں ناکام رہیں گے۔

مالی سال 25 کی دوسری سہ ماہی میں بینکوں نے بڑے پیمانے پر قرضے دینا شروع کیے، بڑے ڈپازٹس پر فیس وصول کرکے ڈپازٹس کو کم کیا اور مزید ڈپازٹس کی حوصلہ شکنی کی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا نومبر کے دوران غیر سرکاری شعبے کو قرضے 2 ہزار 270 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 142 ارب 80 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے۔

نجی شعبے کے لیے بینکوں کی جانب سے انتہائی سست پیش قدمی کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا ہے، جس سے معاشی ترقی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، تاہم قرضوں میں کمی کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 22 فیصد شرح سود اور ریکارڈ افراط زر تھی، جو مئی 2023 میں اب تک کی بلند ترین سطح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

بینکوں کی جانب سے حالیہ تیز پیش قدمی میں اضافے کی بنیادی وجہ اے ڈی آر کی شرط کی وجہ سے انکریمنٹل ٹیکس سے بچنا تھا، شرح سود مزید نیچے جانے سے پہلے بینک بڑے پیمانے پر قرض دے رہے ہیں، نومبر میں 4.9 فیصد افراط زر نے پالیسی ریٹ میں مزید نمایاں کمی کی گنجائش پیدا کی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ (شرح سود) کو جون کے 22 فیصد سے 700 بی پی ایس کم کرکے 15 فیصد کردیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران بینکوں نے این بی ایف آئیز کو ایک ہزار 142 ارب روپے کا ریکارڈ قرض دیا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 55 ارب 40 کروڑ روپے کی خالص ادائیگی کی گئی تھی، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جون 2024 کے اختتام تک این بی ایف آئیز کو دیے گئے قرضوں کا حجم 441 ارب 60 کروڑ روپے تھا۔

نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں سب سے بڑا حصہ روایتی بینکوں کا تھا کیونکہ ان کے قرضے 5 ماہ کے دوران 698 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ان کا خالص قرض 48 ارب 60 کروڑ روپے تھا۔

اسلامی بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کے لیے قرضے بھی 28 ارب 30 کروڑ روپے کے خالص قرض سے بڑھ کر324 ارب 90 کروڑ روپے کی سطح پر جاپہنچے۔

تاہم، روایتی بینکوں کی اسلامی شاخوں کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے پانچ ماہ کے دوران خالص قرض 25 ارب 70 کروڑ روپے رہا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کے خالص قرضے جاری کیے گئے تھے۔

بینکنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے بھاری قرضوں کے اخراج نے انہیں اپنا اے ڈی آر بڑھا کر 47 فیصد کی سطح پر رکھنے میں مدد دی ہے، تاہم بینکوں کو دسمبر کے آخر تک اسے 50 فیصد کی سطح پر لے کر جانا چاہیے، تاہم ماہرین سمجھتے ہیں کہ بینکوں نے پہلے ہی کامیابی سے اپنا ہدف حاصل کرلیا ہے۔

بینکرز کہتے ہیں کہ اگر بینکوں کا اے ڈی آر 40 سے 50 فیصد کے درمیان رہے گا تو انہیں 6 فیصد انکریمنٹل ٹیکس حکومت کو ادا کرنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

بھارت میں حجاب پر پابندی؛ خواتین کی آزادی کے خلاف

?️ 21 فروری 2022سچ خبریں:حالیہ ہفتوں میں ہندوستان میں حجاب پر پابندی ایک گرما گرم

فلسطینی مجاہدین میں جنین میں کیسے صیہونیوں کی ہوا نکال دی

?️ 23 جون 2023سچ خبریں:حالیہ دنوں میں جنین میں پیش آنے والے واقعات اور پھر

برطانوی خاتون پولیس آفیسر کو فلسطین کا نام لینا بھاری پڑ گیا

?️ 19 مئی 2021سچ خبریں:گذشتہ ہفتہ صہیونی جارحیت کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران

بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد، گمراہ کن اور بلا جواز بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ دفتر خارجہ

?️ 18 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے

سعودی عرب کی فلسطین کو تسلیم کرنے اور صیہونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی اپیل

?️ 23 ستمبر 2025 سچ خبریں:سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود

سینیٹ میں PTI اپنے ارکان کے ووٹ سے بھی محروم رہے گی، مریم نواز

?️ 27 فروری 2021لاہور{سچ خبریں} مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اورنگزیب  نے

تل ابیب-ابوظہبی روٹ پر موت کی ٹرین

?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:15ستمبر 2020ء کو واشنگٹن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی

مراکش کے سابق وزیر اعظم کی ایران کی مکمل حمایت اور نارملائزیشن کو فروغ دینے والوں پر کڑی تنقید

?️ 2 جولائی 2025سچ خبریں: انصاف اور ترقی کے سکریٹری جنرل اور مراکش کے سابق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے