نوٹیفکیشنز کے ذریعے گوگل اور ایپل کی جانب سے جاسوسی کیے جانے کا انکشاف

?️

سچ خبریں: معروف انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیز گوگل اور ایپل کی جانب سے موبائل نوٹی فکیشنز کے ذریعے دنیا بھر کے صارفین کی جاسوسی کیے جانے اور پھر صارفین کے ڈیٹا کو بعض حکومتوں کو دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

تقریباً تمام ممالک کے موبائل صارفین تازہ ترین حالات سے باخبر رہنے کے لیے موبائل میں موجود تمام ایپلی کیشنز اور ویب سائٹس کے نوٹی فکیشنز آن کرتے ہیں۔

زیادہ تر صارفین کو اس بات کا علم نہیں کہ مذکورہ نوٹی فکیشنز اگرچہ براہ راست ان کے پاس آتے ہیں لیکن نوٹی فکیشنز کی تمام معلومات موبائل کے آپریٹنگ سسٹمز کے سافٹ ویئرز کے پاس بھی جاتی ہے۔

یعنی نوٹی فکیشنز کی معلومات آئی فون کے آپریٹنگ سسٹم ’آئی او ایس‘ کی مالک کمپنی ایپل اور اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی مالک کمپنی گوگل کے پاس بھی جاتی ہے۔

اور اب یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گوگل اور ایپل صارفین کے نوٹی فکیشنز کی معلومات مختلف حکومتوں کو فراہم کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سینیٹر رون وائڈن کی جانب سے وزارت انصاف کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا گیا کہ گوگل اور ایپل، نوٹی فکیشنز کی صورت میں صارفین کی حاصل ہونے والی معلومات کو مختلف ایجنسیوں اور حکومتوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔

انہوں نے محکمہ انصاف سے مذکورہ معاملے پر قوانین کے تحت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ سنگین مسئلے کو دیکھا جانا چاہیے۔

خط میں ایپل کی جانب سے مذکورہ معاملے پر سینیٹر کو ملنے والا جواب بھی شامل کیا گیا، جس میں کمپنی نے تسلیم کیا کہ وہ نوٹی فکیشنز سے حاصل ہونے والی معلومات حکومتوں کو فراہم کرتی ہے۔

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ وہ قانون کے تحت جلد ہی اس ضمن میں تمام معلومات فراہم کرے گی کہ وہ کس طرح کی نوٹی فکیشنز سے حاصل ہونے والی معلومات حکومتوں یا ایجنسیوں کو فراہم کرتی رہی ہے۔

گوگل نے بھی امریکی سینیٹر کی جانب سے اٹھائے جانے والے معاملے پر تمام معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

نوٹی فکیشنز کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کیے جانے کے انکشاف کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گوگل اور ایپل نہ صرف ایپلی کیشنز بلکہ موبائل نیٹ ورک پر آنے والے پیغامات کے نوٹی فکیشنز کی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں اور وہ درخواست پر حکومتوں اور ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔

امریکی سینیٹر کے خط کے مطابق گوگل اور ایپل کی مدد سے نہ صرف امریکا بلکہ دوسرے ممالک کی حکومتیں اور ایجنسیاں بھی صارفین کی جاسوسی کرتی آئی ہیں، لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کون کون سے ممالک مذکورہ ٹولز کے ذریعے کس طرح کے صارفین کی جاسوسی کرتے رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

کیا ٹرمپ کا کینیڈا، پاناما کینال اور گرین لینڈ کے بارے میں ملکیتی نظریہ واقعی سنجیدہ ہے؟

?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکی میڈیا رپورٹس اور ٹرمپ کے قریبی افراد کے بیانات سے

عمران خان نے بیان حلفی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا

?️ 1 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) خاتون جج سے متعلق توہین آمیز الفاظ کے معاملے

ماداگاسکر کا  صدر احتجاجی تشدد کے بعد ملک سے فرار 

?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: ماداگاسکر کے اپوزیشن لیڈر، ایک فوجی ذریعے اور ایک غیر

پاک بھارت فضائی جھڑپ طویل ترین قرار، حملوں کے بعد پاکستان نے5 طیارے گرائے

?️ 8 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) 6 اور 7 مئی کی شب پاکستان اور

زلفی بخاری کی درخواست پر کمشنر راولپنڈی کوعدالت میں طلب کر لیا

?️ 10 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی زلفی

پاکستان اور چین کے درمیان اعتماد بحال

?️ 8 جولائی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے سیل

پیوٹن کا چین کے دورے پر جانے کا اعلان

?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: کریملن نے اعلان کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اپنے

100 سے زائد این جی اوز نے غزہ کی صورتحال پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: غزہ میں بھوک کا بحران شدت اختیار کرنے کے ساتھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے