’مہنگی‘ اسٹارلنک سروسز فوری خطرہ نہیں ہیں، ٹیلی کام کمپنیاں

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) جلد ہی پاکستان میں کام شروع کرنے کے لیے اسٹارلنک کو حتمی منظوری دینے کے لیے تیار ہے جس کے باعث ٹیلی کام انڈسٹری میں شکوک و شبہات اور نامعلوم کا خوف نمایاں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹار لنک کی آمد کے حوالے سے کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن پاکستان کے چاروں ٹیلی کام آپریٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی نتائج کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

سوالات کا جواب دیتے ہوئے جاز، زونگ، ٹیلی نار، اور یوفون نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اسٹارلنک اپنی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروسز پریمیم قیمتوں پر پیش کرے گا، اور اس سے خاص طور پر شہری علاقوں میں فائبر پر موجودہ ڈیٹا سروسز کے تبدیل ہونے کا امکان کم ہے۔

ایک ٹیلی کام کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو نے کہا کہ ’قلیل مدت میں، اسٹارلنک سروسز کو سبسکرائب کرنے والے کلائنٹس ہو سکتے ہیں، لیکن یہ سروسز بہت مہنگی ہیں اس لیے ہر کوئی اس کا حصہ نہیں بنے گا، اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ اسٹارلنک مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے اپنی سروسز پر بہت زیادہ سبسڈی دے گا۔‘

اگرچہ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ اسٹارلنک اپنی سروسز کے لیے بہت زیادہ ریٹ رکھے گا جیسا کہ یہ دوسری مارکیٹوں میں پیش کر رہا ہے، تاہم اسٹارلنک پاکستان کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ سروسز کے افتتاح کے وقت مارکیٹنگ کی حکمت عملی کو بعد کے مرحلے میں حتمی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر شعبوں کی طرح اسٹارلنک کے پورے ملک کے لیے یکساں نرخ نہیں ہوں گے، اور پیکجز خطے کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

اسٹار لنک کے پاس پہلے سے ہی ایک دفتر موجود ہے جس کا عملہ پاکستانی ماہرین ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی مارکیٹ نہ تو مشرق وسطیٰ کی طرح اعلیٰ درجے کے صارفین پر مبنی ہے اور نہ ہی بھارت جیسی وسیع مارکیٹ ہے بلکہ دونوں کا مجموعہ ہے۔

دریں اثنا، وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس کے کلیدی کلائنٹ عام شہری ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مسلح افواج، پولیس، ایف سی، دیگر محکمے جیسے کسٹم وغیرہ اس کے صارفین ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں بااثر افراد اسٹارلنک کی سروسز کو سبسکرائب کریں گے، چاہے ان کے ریٹس کچھ بھی ہو، جہاں فائبر کی رسائی کم ہے یا موجود نہیں ہے۔‘

تاہم اگر اسٹارلنک کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ ریاست کی ملکیت والی اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او ایم) کا براہ راست مدمقابل ہو سکتا ہے، جو صرف اسی علاقے میں کام کرتی ہے۔

ملک کے چاروں صوبوں میں کام کرنے والی چار ٹیلی کام کمپنیاں جہاں پاکستان کے دور دراز اور ناہموار حصوں میں محدود موجودگی رکھتی ہیں، وہیں اسٹارلنک مقامی سیلولر آپریٹرز کے ساتھ ریونیو شیئر کی بنیاد پر شراکت کر سکتا ہے۔

دریں اثنا، جاز کے چیف ایگزیکٹو عامر ابراہیم اسٹارلنک کی آمد کو پوری صنعت اور صارفین کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کے ساتھ کھلے دل سے بات چیت کے دوران بھی کھل کر کہا ہے کہ اسٹارلنک جیسے منصوبے گیم چینجرز ہیں۔

عامر ابراہیم نے کہا کہ ’اسٹارلنک کی پاکستان آمد کچھ رکاوٹوں کا سبب بن سکتی ہے، لیکن اس سے ہمیں مقابلہ دیکھنے، سیکھنے اور بڑھنے کا موقع ملے گا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسٹارلنک شٹ ڈاؤن سے محفوظ نہیں ہے اور اسے شٹ ڈاؤن کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت قومی سلامتی کے خدشات یا سروس بلیک آؤٹ کے دوران اپنے لینڈنگ اسٹیشنز تک رسائی کو مسدود کرکے یا ریگولیٹری اقدامات کو نافذ کرکے پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔

ٹیلی کام کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریگولیٹر لیول پلیئنگ فیلڈ کو یقینی بنائے اور صرف روایتی آپریٹرز پر نیٹ ورک کی بندش کے معاشی اور اعتماد پر اثر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، موجودہ نیٹ ورک آپریٹرز نے نوٹ کیا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام سروسز کے لیے مخصوص اینٹی ڈمپنگ قوانین کا فقدان ہے، اور اگر اسٹارلنک موجودہ ٹیلی کام اور براڈ بینڈ فراہم کنندگان کو مشکل وقت دے کر مارکیٹ میں خلل ڈالنے کے لیے بڑے پیمانے پر سبسڈی متعارف کراتا ہے تو کچھ ایسے ریگولیٹری میکانزم ہونے چاہئیں جو ایسے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد کر سکیں۔

مشہور خبریں۔

وفاقی کابینہ کے حوالے سے آج اہم فیصلوں کے اعلان کا امکان

?️ 14 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر اور وفاقی کابینہ کے حوالے

غزہ جنگ کی وجہ سے صیہونی حکومت پر اٹلی کی سخت تنقید

?️ 14 فروری 2024سچ خبریں:ایک بیان میں، اٹلی کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ

طورخم سرحد پر پاک افغان فورسز میں فائرنگ، گولا باری، فوجیوں سمیت 8 افراد زخمی

?️ 4 مارچ 2025طور خم: (سچ خبریں) طورخم سرحد پر پاکستان اور افغان طالبان فورسز

ملک میں معیشت کی تباہی کی ذمہ دار مسلم لیگ ن ہے

?️ 20 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر

پاکستان کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی اسلحے کی تفصیلات شائع

?️ 13 فروری 2023سچ خبریں:بھارتی اخبار اکنامک ٹائمزنے لکھا ہے کہ پاکستان نے یوکرین کو

ایران اور روس کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے مغربی میڈیا کا پروپگنڈہ

?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں:تہران میں روسی سفارت خانے نے بعض مغربی میڈیا کی ان

لاہور: آصف زرداری کا ایک بارپھر ’چارٹر آف اکانومی‘ کی ضرورت پر زور

?️ 8 جون 2023لاہور: (سچ خبریں) وفاق میں براجمان حکمران اتحاد کے اہم رہنما، سابق

Women in Politics: Urgency of Quota System For Women In Regional Elections

?️ 27 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے