?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) یونیورسٹی آف کیمبرج کے کاولی انسٹی ٹیوٹ آف کاسمولوجی کے ماہرین فلکیات کے مطابق جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی مدد سے قدیم ترین ‘مردہ کہکشاں‘ کے بارے میں ملنے والے حقائق اس کائنات کو زیادہ بہتر انداز سے سمجھنے میں معاون ہوں گے۔ یہ کہکشاں 13.1بلین (ارب) سال پرانی ہے، جس میں کسی وجہ سے ستاروں کے بننے کا عمل بند ہوگیا تھا۔
نیچر سائنس جنرل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یہ مردہ کہکشاں بگ بینگ یا کائنات کی ابتدا کے 700 ملین سال بعد وجود میں آئی تھی۔ ماہرین فلکیات نے اسے JADES-GS-z7-01-QU کا نام دیا ہے، جو اب تک دریافت ہونے والی قدیم ترین مردہ کہکشاں ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی مدد سے انفراریڈ روشنی میں ان قدیم ترین اجسام کو دیکھا جا سکتا ہے، جو پہلے کاسمک ڈسٹ یا کائناتی دھول کے گہرے پردے میں چھپے ہوئے تھے۔
یہ مردہ کہکشاں اب تک دریافت ہونے والی قدیم ترین خاموش کہکشاؤں سے کئی گنا ہلکی بھی ہے۔
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی پہلی رنگین تصویر، کائنات کے نئے رازوں سے پردہ اٹھنے کی امید
ہبل اور جیمز ویب ٹیلی سکوپ مشن میں اہم کردار ادا کرنے والی نوجوان سائنسدان ڈاکٹر منزہ عالم
کیمبرج یونیورسٹی کے کاولی انسٹی ٹیوٹ آف کاسمولوجی سے وابستہ سائنسدان ٹوبیاس جے لوزر اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں۔
انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اگر کسی کہکشاں میں ستارے بننے کا عمل بند ہو جائے تو اسے علم فلکیات کی اصطلاح میں ’مردہ یا خا موش کہکشاں‘ کہا جاتا ہے۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی کئی مردہ کہکشائیں دریافت کی جا چکی ہیں مگر یہ نئی کہکشاں ان سے نہ صرف بہت چھوٹی ہے بلکہ یہ بگ بینگ سے صرف 700 ملین سال بعد وجود میں آئی تھی۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے ایڈوانسڈ ڈیپ سپیس سروے سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق اس کہکشاں میں ابتدا میں ستاروں کے بننے کا عمل بہت تیز تھا، جو تقریبا 30 سے 90 ملین سال کے در میان تک جاری رہا اور پھر اچانک یہ عمل کسی وجہ سے بند ہوگیا۔
کاولی انسٹی ٹیوٹ آف کاسمولوجی سے وابستہ اس تحقیق کے شریک مصنف رابرٹو مائی لینو کہتے ہیں کہ اس نئی دریافت نے ماہرین فلکیات کو حیرت زدہ کر دیا ہے کیونکہ جس وقت اس کہکشاں میں ستارے بننے کا عمل بند ہوا، وہ کائنات کی ابتدا کے بعد انتہائی ’ایکٹیو‘ یا متحرک و فعال دورانیہ تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ بگ بینگ کے بعد کئی بلین (ارب) سال تک کائنات میں ستاروں کے بننے کا عمل عروج پر تھا کیونکہ اس وقت کائناتی دھول یا کاسمک ڈسٹ اور گیسیں وافر مقدار میں موجود تھیں۔
مائی لینو کے مطابق ان کی ٹیم ان تمام امکانات پرغور کر رہی ہے، جن کے باعث اس قدیم کہکشاں میں ستارے بننا بند ہوگئے تھے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ کائنات کی ابتدا کو سمجھنے کے لیے ماہرین فلکیات اس کی ابتدا سے متعلق جدید ماڈلز استعمال کرتے ہیں۔
ان کے مطابق اس نئی دریافت شدہ مردہ کہکشاں نے ماہرین کو اس لیے بھی حیران کیا ہے کیونکہ بگ بینگ سے ایک بلین (ارب) سال سے بھی کم عرصے میں نہ صرف یہ مکمل کہکشاں کے خدوخال میں ڈھل گئی بلکہ فورا ہی اس میں ستارے بننے کا عمل بھی بند ہوگیا۔
مائی لینو بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے جو مردہ کہکشائیں دریافت ہوئی ہیں، ان میں ستارے بننے کا عمل بگ بینگ کے تقریبا 3 بلین (ارب) سال بعد بند ہوا تھا۔
لہذا اس نئی کہکشاں پر تحقیق سے ماہرین کائنات کی ابتدا کے متعلق نئی معلومات حاصل کر سکیں گے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ نئی تحقیق سے جدید کائناتی ماڈلز کو از سر نو ترتیب دینا پڑے۔
ماہر فلکیات طاہر کریول نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بگ بینگ ایک جدید فلکیاتی ماڈل ہے، جو کاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ اور دور کے اجسام کے زیادہ ریڈ شفٹ میں وضاحت کرتا ہے۔
اس ماڈل کے مطابق کائنات کی ابتدا کے وقت ہائیڈروجن گیس وافر مقدار میں تھی، جس سے ستارے بنتے ہیں۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ پھر چھوٹی کہکشاؤں کے آپس میں مدغم ہونے سے بڑی کہکشائیں بنیں۔ ان کہکشاؤں میں ستارے بننے کا عمل بند ہونے میں بھی کئی ارب سال لگتے ہیں کیونکہ یہ ایک سست رفتارعمل ہوتا ہے۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ کائنات کے کون سے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھائے گی؟
ہبل کا متبادل جیمز ویب تنازعے کی زد میں
طاہر کریول کے مطابق JADES-GS-z7-01-QU نامی کہکشاں دراصل 2010 میں دریافت ہوئی تھی۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے جائزے سے ملنے والے نئے ڈیٹا کے نتائج مارچ 2024 میں شائع کیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کہکشاں میں خاص بات یہ ہے کہ بگ بینگ کے 700 ملین سال بعد جب دیگر کہکشائیں بن رہی تھیں تو یہ اس وقت تک غیر متحرک یا مردہ ہو چکی تھی۔
سائنسی لکھاری اور ماہر فلکیات شاہزیب صدیقی بھی اس بات سے متفق ہیں کہ نئی تحقیق کے نتائج بگ بینگ کو رد نہیں کرتے بلکہ ماہرین غور کر رہے ہیں کہ اس طرح کی کہکشاؤں کو پرانے ماڈل میں کیسے فٹ کریں۔
وہ کہتے ہیں کہ سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا کیا ہوا جس کے باعث اس کہکشاں میں ستارے بننےکا عمل بند ہو گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس کہکشاں میں ستارے بننے کا عمل تیزی سے پھٹنے کے باعث اس میں کاسمک ڈسٹ اور گیسوں کے ذخائر ختم ہوگئے ہوں جو نئے ستارے بننے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
شہباز شریف کا ملک سے باہر جانے پر فردوس عاشق کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 9 مئی 2021لاہور(سچ خبریں) لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران فردوس عاشق اعوان نے
مئی
جارحین کے ساتھ انصار اللہ نے کی حجت تمام
?️ 7 جنوری 2025سچ خبریں: کل رات انصار اللہ کے سیاسی دفتر نے ایک بیان
جنوری
برطانوی وزیر خارجہ نے آرمی چیف سے ملاقات کی
?️ 4 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے چیف آف
ستمبر
بغیر اجازت ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ
?️ 12 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے جائیداد کے لیے ولدیت کا تنازع
اپریل
غزہ کے باشندوں کو 3 افریقی خطوں میں منتقل کرنے کا ٹرمپ کا منصوبہ بے نقاب
?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: اسرائیل کے چینل 12 نے بدھ کی شام اعلان کیا
فروری
عراق میں امریکی فوج کی تعداد اور مشن؛عراقی پارلیمنٹ رکن کی زبانی
?️ 12 ستمبر 2023سچ خبریں: عراقی سرزمین میں امریکی فوجیوں کی زیادہ تعداد کو مشکوک
ستمبر
امریکیوں کو عراق سے نکالنے کے لیے عراقی سیاسی جماعتوں کا اتحاد
?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں:عراقی سیاسی گروہوں نے تمام جماعتوں اور گروہوں بالخصوص شیعوں کے
نومبر
امریکا کے اسپیشل فورسز کے ریٹائرڈ افسر: ایران کے ساتھ جنگ ‘اسٹریٹجک شکست’ ثابت ہوئی
?️ 7 اپریل 2026 سچ خبریں: سابق سرکاری عہدیداروں سے لے کر فوجیوں اور آزاد
اپریل