یورپ کے پاس ٹرمپ کے سامنے ڈٹ جانے کے لیے نہ وسائل ہیں نہ ہی ارادہ

ٹرمپ

?️

یورپ کے پاس ٹرمپ کے سامنے ڈٹ جانے کے لیے نہ وسائل ہیں نہ ہی ارادہ

بین الاقوامی امور کے ایک مورخ اور ماہرِ خطرات کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی کے مقابلے میں یورپ نہ تو مؤثر ذرائع رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس نوعیت کی مزاحمت کا سیاسی عزم موجود ہے۔

فرانسیسی اخبار لو پاریزین کی رپورٹ کے مطابق، وینزویلا میں امریکہ کی اچانک کارروائی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اب گرین لینڈ پر توجہ مرکوز کر لی ہے جو ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے۔ کسی یورپی اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک کے خلاف اس طرح کی دھمکی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا کہ چند ہفتوں کے اندر گرین لینڈ کے معاملے پر بات کی جائے گی، جس سے یورپی دارالحکومتوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈنمارک امریکہ کا دیرینہ اتحادی ہے اور اپنی زیادہ تر عسکری ضروریات واشنگٹن سے پوری کرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باوجود ڈنمارک نے امریکہ سے نئے گشتی طیارے بھی خریدے ہیں۔ ڈنمارک، جس میں فارو جزائر اور گرین لینڈ شامل ہیں، نیٹو کے قیام سے ہی اس اتحاد کا رکن رہا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کھلے عام کسی نیٹو رکن کی سرزمین کے بارے میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی ہے۔

بین الاقوامی خطرات کے آزاد مشیر اور فرانسیسی بحریہ کے ریزرو افسر اسٹیفن اودراند کے مطابق، گرین لینڈ پر زبردستی قبضے کا امکان کم ہے کیونکہ امریکی کانگریس شاید کسی اتحادی ملک کی خود مختار سرزمین پر قبضے کی حمایت نہ کرے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکہ دباؤ، دھمکیوں اور سیاسی بلیک میلنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن یورپ کے سامنے یہ انتخاب رکھ سکتا ہے کہ یا تو گرین لینڈ کے معاملے میں تعاون کیا جائے یا نیٹو کے بعض اڈے بند کیے جائیں، معاشی پابندیاں سخت کر دی جائیں اور یوکرین کو اسلحہ مزید مہنگے داموں فراہم کیا جائے۔

اودراند کا کہنا ہے کہ یورپ نے طویل عرصے تک امریکہ کو ایک ایسے اتحادی کے طور پر دیکھا جو اگرچہ معاشی دباؤ ڈالتا تھا لیکن کبھی اتحادیوں کی علاقائی سالمیت کو براہِ راست خطرے میں نہیں ڈالتا تھا۔ اب صورتحال بدل چکی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ یورپی ممالک سے ایسے مطالبات کر رہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں کبھی سامنے نہیں آئے تھے۔

ان کے مطابق یورپ کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی اندرونی تقسیم ہے۔ کچھ ممالک جیسے پولینڈ اور اٹلی ٹرمپ کے قریب نظر آتے ہیں اور واشنگٹن کی ناراضی سے بچنے کے لیے ہر طرح کی رعایت دینے کو تیار ہیں، جبکہ جرمنی، برطانیہ اور نیدرلینڈز جیسے ممالک ابھی تک صدمے اور انکار کی کیفیت میں ہیں اور کسی سیاسی تبدیلی یا معجزے کے منتظر ہیں۔

فرانس کے ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے اودراند نے کہا کہ پیرس کی پوزیشن کمزور رہی ہے کیونکہ صدر ایمانوئل میکرون ٹرمپ کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اگرچہ فرانسیسی وزیر خارجہ نے نسبتاً سخت زبان استعمال کی، لیکن مجموعی طور پر یورپی قیادت کھلے تصادم سے گریزاں دکھائی دیتی ہے۔

اودراند کے مطابق اگر امریکہ واقعی گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش کرے تو یورپ میں کوئی بھی ملک، حتیٰ کہ خود ڈنمارک بھی، امریکہ کے خلاف براہِ راست فوجی تصادم میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کے پاس نہ ایسی فوجی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس نوعیت کے تصادم کا ارادہ۔ مزید یہ کہ یورپی افواج کی بڑی تعداد اس انداز میں تشکیل دی گئی ہے کہ وہ امریکی قیادت میں کارروائیاں کریں، نہ کہ امریکہ کے خلاف۔

ان کے نزدیک اس بحران سے بچنے کا راستہ براہِ راست محاذ آرائی نہیں بلکہ سفارتی حکمت عملی ہے۔ یورپ کو چاہیے کہ وہ گرین لینڈ کی سلامتی سے متعلق خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے نیٹو کے دائرے میں اس کے دفاع کو مضبوط بنانے کی بات کرے اور ساتھ ہی امریکہ پر نرم مگر مؤثر معاشی اور سفارتی دباؤ ڈالے، خاص طور پر بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے حوالے سے۔ ان کے مطابق اگرچہ اس راستے پر یورپ کو مالی قیمت ادا کرنا پڑے گی، لیکن اس سے ایک بڑے اور خطرناک تصادم کو روکا جا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ اور جن پنگ کے درمیان ملاقات کا امکان بڑھا

?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی

یوکرین میں جنگ جاری رکھنے میں امریکہ کا مقصد کیا ہے؟

?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکہ کی جانب سے یوکرین کو کلسٹر بم بھیجنے کے

نفتالی بینیٹ؛ تازہ ترین پولز میں نیتن یاہو کے نئے حریف

?️ 12 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل کے ٹی وی چینل 12 کے مطابق آج انتخابات

مولانا فضل الرحمٰن نے ایک بار پھر نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا

?️ 27 اکتوبر 2024خوشاب: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن

ہمارے اقدام سےغریب کو احساس ہوگا سیاستدان تنگی برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

?️ 22 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کفایت

ٹرمپ کا اپنی حریف کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال

?️ 28 اکتوبر 2024سچ خبریں:ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹ

شمالی وزیرستان میں فورسز اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 2 جوان شہید

?️ 27 فروری 2023شمالی وزیرستان: (سچ خبریں) شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سیکیورٹی

طالبان کا انگریزی الفاظ استعمال کرنے کے بارے میں حکم

?️ 8 جولائی 2023سچ خبریں: طالبان کے رہنما نے افغانستان کے انتظامی ڈھانچے میں اپنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے