کیا نیتن یاہو غزہ جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنا دیں گے؟

نیتن یاہو

?️

کیا نیتن یاہو غزہ جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنا دیں گے؟

مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو ایک بار پھر اپنے سابقہ رویے کو دہرا سکتے ہیں اور غزہ میں حالیہ جنگ بندی معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، جیسے جیسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد آگے بڑھ رہا ہے، نتن یاہو ایک مشکل سیاسی صورتحال سے دوچار ہیں جس میں ان کے لیے زیادہ گنجائش نہیں بچی۔ ماضی میں وہ معاہدوں سے پیچھے ہٹنے اور وعدے توڑنے میں مہارت رکھتے رہے ہیں، جس کے باعث تجزیہ کاروں میں موجودہ سمجھوتے کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔

تاہم، موجودہ حالات میں نتن یاہو کے لیے پچھلے رویے کو دہرانا آسان نہیں ہوگا۔ جنگ بندی کو نہ صرف امریکی منصوبے بلکہ آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ شرم الشیخ میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان اور ٹرمپ کی مصری دورے کے دوران دی گئی ضمانتوں نے معاہدے کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

نتن یاہو کے لیے سب سے بڑا سیاسی دباؤ اسرائیل کے اندر سے آرہا ہے جہاں عوام اور سیاسی حلقے اپنے قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر متحد ہیں۔ اگر وہ دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسے قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

سیاسی مبصر ساری عرابی کے مطابق، امریکہ کا واضح موقف ہی واحد رکاوٹ ہے جو نتن یاہو کو اس معاہدے سے پیچھے ہٹنے سے روکے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے حماس کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ اسرائیل قیدیوں کی رہائی کے بعد جنگ دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی عالمی تنہائی اور اندرونی تھکاوٹ بھی جنگ کے دوبارہ آغاز میں بڑی رکاوٹ ہے۔ نیتن یاہو کو اب ایک ایسے دور کی ضرورت ہے جس میں ملک اپنے دو سالہ طویل جنگی نقصانات سے سنبھل سکے، کیونکہ مسلسل لڑائی نے اسرائیلی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اگرچہ بظاہر معاہدہ مضبوط نظر آتا ہے، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی موجودگی مستقبل میں کسی نئی کارروائی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اسرائیل ممکنہ طور پر جنگ کے بجائے محدود کارروائیوں، سرحدی ناکہ بندیوں، امدادی سامان پر کنٹرول یا مخصوص ہدف پر حملوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

شرم الشیخ میں دستخط ہونے والے اس معاہدے نے دو سالہ جنگ کا اختتام کیا ہے، تاہم خدشہ برقرار ہے کہ اسرائیلی قیادت کسی بھی بہانے سے اس امن کو دوبارہ خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا یا عنوان میں تبدیلی؟

?️ 30 جولائی 2021سچ خبریں:اگرچہ امریکیوں نے 2021 کے آخر تک عراق چھوڑنے کا دعوی

امریکیوں سے جنرل سلیمانی کا بدلہ ان کے گھروں سے لیا جائے گا:قدس فورس کے کمانڈر

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاآنی نے امریکہ کو انتباہ

ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں۔شاہد خاقان عباسی

?️ 3 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ

سورۃ البقرہ پڑھیں، آج جو کچھ ہورہا ہے پہلے ہی بتادیا گیا تھا: اُشنا شاہ

?️ 25 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ نے اسرائیل کی جانب سے

چین اور روس کو وسطی ایشیائی ممالک میں افراتفری کو روکنا ہوگا:چین

?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں:چینی وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب سے خطاب کرتے

لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے: امریکہ

?️ 23 جون 2026سچ خبریں:  امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو

شام میں امریکی فوجی کیمپ داعشیوں کی پناہ گاہ

?️ 31 مارچ 2021سچ خبریں:شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ

وزیر اعلی بلوچستان کا صوبے کے پسماندہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے پر زور

?️ 27 مارچ 2021کوئٹہ(سچ خبریں) وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے صوبے کے پسماندہ علاقوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے