?️
سچ خبریں: عراق کے ایک سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ امریکہ کا دورہ کرنے والے سکیورٹی وفد نے اس ملک کی سکیورٹی تنظیم الحشد الشعبی فورسز سے متعلق مسائل بالخصوص ان کے لیے مختص بجٹ کی تحقیقات کی مخالفت کی۔
المعلومہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے سیاسی تجزیہ کار ہیثم الخزعلی نے اس بات پر زور دیا کہ حال ہی میں امریکہ کا دورہ کرنے والے سکیورٹی وفد نے اس واضح نظریے کے ساتھ امریکی حکام سے ملاقات کی کہ عراق میں موجود بین الاقوامی افواج کا مشن صرف فوجی اور تعلیمی مشورے تک محدود ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہتھیار کے بدلے الحشد الشعبی منحل کرنے کا مطالبہ،وجہ؟
مذکورہ وفد کے ارکان نے اپنی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا کہ فوجی اور تعلیمی مشورے کے مقصد سے امریکی افواج کو عراق میں ایک خاص تعداد میں رہنا چاہیے۔
الخزعلی نے تاکید کی کہ اس کے علاوہ ان فورسز کی تعداد اور عراق میں ان کے مقام کا بھی علم ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ میں عراقی وفد کی یہ پہلی کامیابی ہے۔
یاد رہے کہ اس وفد نے الحشد الشعبی فورسز کے لیے خصوصی بجٹ پر نظرثانی کی بھی مخالفت کی کیونکہ اس بجٹ پر امریکہ کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عراقی وفد نے ان ملاقاتوں میں تاکید کی کہ الحشد الشعبی فورسز کا بجٹ ملک کا اندرونی مسئلہ ہے، یاد رہے کہ عراق کی المعلومہ نیوز سائٹ نے اس سے پہلے بھی امریکہ کے ہاتھوں اس ملک کی بلیک میلنگ کے بارے میں لکھا کہ امریکیوں نے درحقیقت اعلیٰ سطح کے عراقی سکیورٹی وفد کو بلیک میل کیا۔
یاد رہے کہ امریکی حکام نے شرط رکھی کہ عراقی فوج کو مسلح کرنے کے عمل کی تکمیل کا انحصار اس ملک کی حکومت کی جانب سے ملکی سلامتی کی ضامن سمجھی جانے والی تنظیم الحشد الشعبی کو تحلیل کرنے کے عزم پر ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق امریکیوں نے عراق اور شام کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے 150000 شامی کرد ملیشیاجسے QSD کہا جاتا ہے، کی تعیناتی کی بھی درخواست کی ۔
مزید پڑھیں: الحشد الشعبی عراق کی خودمختاری اور استحکام کی حامی
عراق میں الفتح اتحاد کے رہنماؤں میں سے ایک، عائد الہلالی نے کہا کہ عراقی حکومت کا امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدوں میں باقی رہنا اس ملک کے لیے نقصان دہ ہے جبکہ واشنگٹن نے فرانس سے عراق کی طرف سے جنگی جہازوں کی خریداری کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عراق کے ساتھ اسلحے کے معاہدوں کی کسی بھی شق پر عمل نہیں کرتے، اس لیے کہ انھوں نے ان میں سے کچھ شقوں پر دستخط کرنے کے آٹھ سال بعد عمل درآمد کیا ہے۔


مشہور خبریں۔
سعودی عرب کی صنعا کے ہوائی اڈے پر ایک بار پھر بمباری
?️ 28 فروری 2022سچ خبریں:سعودی اتحاد نے کئی بار محصور صنعا کے ہوائی اڈے کو
فروری
روس کی متعدد امریکیوں پر پابندی
?️ 7 ستمبر 2022سچ خبریں:روس نے ہالی ووڈ اداکاروں سمیت متعدد امریکی شخصیتوں پر پابندی
ستمبر
عمران خان کی نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کو سخت قانونی جنگ کا سامنا
?️ 22 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنے چیئرمین
اکتوبر
جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ پر صیہونیوں کے حملے جاری
?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں: الجزیرہ کے مطابق صیہونی فوج نے گزشتہ رات مشرقی غزہ
اکتوبر
55 فیصد صیہونی ایران کے ساتھ نئی جنگ سے خوف زدہ: صیہونی اخبار
?️ 5 ستمبر 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار معاریو کے تازہ سروے کے مطابق 55 فیصد صیہونی
ستمبر
عمران خان بتائیں کیا ان کرپشن کی تحقیقات کرنا دیوار سے لگانا ہے۔رانا ثناءاللہ
?️ 6 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے سابق وزیر اعظم پر
جولائی
نیویارک ٹائمز نے ٹرمپ اور صیہونی حکومت کے درمیان گہری دراڑ کا اعتراف کیا ہے
?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: نیویارک ٹائمز کے ایک کالم نگار نے لکھا ہے کہ
مئی
سیلاب، سخت مالیاتی پالیسیوں کے باوجود معاشی شرح نمو بڑھی ہے۔ احسن اقبال
?️ 30 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ
دسمبر