کیا اسرائیل عنقریب ٹکڑوں میں بٹنے والا ہے،موساد کے سابق سربراہ کیا کہتے ہیں؟

موساد

?️

سچ خبریں: موساد کے سابق سربراہ نے ایک کالم میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور اقدامات سے صیہونی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں تیزی لائی ہے۔

موساد انٹیلی جنس اور دہشت گرد تنظیم کے سابق سربراہ تمیر پردو نے Yediot Aharonot اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ یہاں کے انتہا پسند یاجوج ماجوج کے درمیان جنگ کی تلاش میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی میڈیا کو بھی اپنی غیر قانونی ریاست کی تباہی کا یقین

العربی الجدید ویب سائٹ کے مطابق تمیر پاردو نے اس کالم میں لکھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم صیہونیت کے خواب کے خاتمے کے قریب ہوتے جا رہے ہیں؛ نیتن یاہو کی موجودہ پالیسیوں اور اقدامات نے امریکہ کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا ہے کہ اسرائیل اپنی اسٹریٹجک قدر کھو چکا ہے اور اسرائیلی جمہوریت، جس نے دونوں ممالک کو مشترکہ اقدار کے مطابق متحد کیا تھا، اب موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس انتباہ سے مراد صیہونی حکومت کے عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے منصوبے کی طرف اشارہ ہے، جسے نیتن یاہو کی کابینہ اصلاحات سے تعبیر کرتی ہے۔

ایک ایسا منصوبہ جس سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں بڑی حد تک کمی آئے گی، اس طرح کہ یہ عدالت اب کابینہ کی منظوریوں اور وزراء کے انتخاب کی نگرانی نہیں کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین اس منصوبے کو نیتن یاہو کی سیاسی بغاوت اور اس کی آمریت سے تعبیر کرتے ہیں نیز اس کے خلاف عوام مہینوں سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ صیہونیت کے خاتمے کے حوالے سے تمیر پردو کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتہا پسند صہیونی جماعتیں کابینہ میں موجود ہیں، جن میں بزالل اسموٹریچ کی سربراہی میں مذہبی صیہونیت پارٹی اور ایتمار بن گوئیر کی سربراہی میں یہودی طاقت پارٹی شامل ہی جبکہ دونوں کو نیتن یاہو کی کابینہ میں سب سے زیادہ متنازعہ شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: صیہونی حکومت کے تباہی کے دہانے پر ہونے کو ثابت کرنے والی 6 نشانیاں

2011 سے 2016 تک موساد کے سربراہ رہنے والے اس صیہونی عہدیدار ان جماعتوں کو فاشسٹ عیسائی قرار دیا اور خود نیتن یاہو کے بارے میں کہا کہ انہوں نے لیکوڈ پارٹی کو دائیں بازو کی جمہوریت سے نسل پرست آرتھوڈوکس آمریت میں تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عرب ممالک، جنہوں نے ہمارے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں یا جلد ہی دستخط کر سکتے ہیں، حیران ہیں کہ یہودی ریاست نے خود کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیسے کیا ہے۔

تمیر پردو نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی اسلامی ملک کا کوئی بھی رہنما ایسا نہیں ہے جو اسرائیل کی موجدہ صورتحال اور اس حکومت کے پاگل پن کو غور سے نہ دیکھتا ہو۔

مشہور خبریں۔

امارات اور سعودی عرب کی یمن کے جنوب میں جھڑپیں: عرب میڈیا

?️ 31 مئی 2023سچ خبریں: متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں سعودی عرب اور یمن

امریکہ میں 10 ہزار سرکاری ملازمین کی برطرفی

?️ 15 فروری 2025سچ خبریں: رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی

ایئرلائن کے سیکڑوں کارکنوں کی ہڑتال سے روم کی سڑکیں اور ایئرپورٹ بلاک

?️ 25 ستمبر 2021 سچ خبریں: رائٹرز کے مطابق اٹلی ہوا بازی کی صنعت کے

مزاحمتی تحریک کے ہاتھوں شکست کے بعد صیہونی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی

?️ 12 جنوری 2025سچ خبریں:صیہونی اخبار معاریو نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی

ہیٹی کے صدر کے قتل پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل

?️ 8 جولائی 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ہیٹی کے صدر کے قتل کی

یمن میں ایک جامع سیاسی حل پر اردن کا زور

?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:    اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اپنے بحرینی

امریکہ کی حمایت سے خطے میں اسرائیل کی بربریت کا سلسلہ جاری

?️ 26 ستمبر 2024سچ خبریں: شام کے نئے وزیر خارجہ بسام صباغ نے اقوام متحدہ

سندھ میں آج بھی لوگ پانی کی بوند کے لیے ترس رہے ہیں

?️ 14 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق عدالت میں نسلہ ٹاور تجاوزات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے