?️
کارائیب میں حملے کے بعد زندہ بچ جانے والوں پر بھی امریکی فورسز کی فائرنگ
امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے کارائیب میں ایک مشتبہ منشیات بردار کشتی پر میزائل حملے کے بعد زندہ بچ جانے والوں پر بھی فائرنگ کی اور انہیں جان بوجھ کر قتل کیا۔ یہ کارروائی اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر جنگ پیت ہگست کے براہِ راست حکم پر انجام دی گئی، جس کے نتیجے میں امریکہ پر غیرقانونی قتل اور قانون کی صریح خلاف ورزی کے سنگین الزامات عائد ہوگئے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ اور سی این این کے مطابق امریکی اہلکاروں کو کارروائی سے پہلے یہ واضح ہدایت دی گئی تھی کہ کشتی میں موجود تمام افراد کو مار دیا جائے۔ دو ستمبر کو ہونے والا یہ واقعہ اس وسیع امریکی مہم کا پہلا علنی حملہ تھا جس کے بارے میں واشنگٹن دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا ہدف بین الاقوامی پانیوں میں منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ تاہم امریکہ نے اب تک ان دعوؤں کے ثبوت فراہم نہیں کیے اور اس مہم میں اب تک کم از کم تراسی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دو ستمبر کی کارروائی میں ابتدائی حملے کے بعد امریکی فورسز نے دو افراد کو زندہ دیکھا جو جلتی ہوئی کشتی سے چمٹے ہوئے تھے، مگر انہیں بچانے کے بجائے دوبارہ فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کارروائی کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی گئی اور فیصلہ ہوا کہ آئندہ زندہ بچنے والوں کو ریسکیو کیا جائے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وزیر جنگ کو فائرنگ کے وقت زندہ افراد کی موجودگی کا علم تھا یا نہیں۔
وزیر جنگ پیت ہگست نے سوشل میڈیا پر ان رپورٹس کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی کارروائیاں مکمل طور پر قانونی ہیں، لیکن انہوں نے دوسری بار کی فائرنگ کے واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ امریکی وزارتِ انصاف نے بھی اس آپریشن کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائیاں قانونِ مخاصمات کے مطابق ہیں اور جاری رہیں گی۔
دوسری طرف ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس اور سابق میرین افسر سیت مولٹن نے اسے کھلی قانونی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کو قتل کرنا جنگی جرم یا قتلِ عمد کے زمرے میں آتا ہے اور بالآخر ذمہ داروں کا احتساب ہوگا۔ پینٹاگون نے کنگرس کو وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ کے منشیات فروش کارٹلز کے ساتھ ایک "مسلح تنازعے” میں ہے اور ان گروہوں کو دہشت گرد اور مشتبہ اسمگلروں کو غیرقانونی جنگجو سمجھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے، کیونکہ مضبوط شواہد موجود ہیں کہ یہ اقدامات ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
الجولانی حکومت کا مشہور صیہونی جاسوس کی باقیات واپس کرنے کا اعلان
?️ 21 مئی 2025 سچ خبریں:الجولانی حکومت نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر
مئی
ایرانی سپاہ پاسداران نے یوم قدس کے موقع پر اہم بیان جاری کردیا
?️ 7 مئی 2021تہران (سچ خبریں) ایرانی سپاہ پاسداران نے یوم القدس کے موقع پر
مئی
دنیا اسرائیل کے وحشیانہ حملے بند کراے:پاکستان
?️ 5 اپریل 2023سچ خبریں:حکومت پاکستان نے مسجد الاقصیٰ پر صیہونی افواج کے حملے اور
اپریل
چینی صدر کی طالبان سفیر کے ساتھ ملاقات
?️ 31 جنوری 2024سچ خبریں: ایک سرکاری تقریب میں چینی صدر شی جن پنگ نے
جنوری
تحریک انصاف کی شکست کی وجوہات سامنے آ گئیں
?️ 22 دسمبر 2021پشاور (سچ خبریں)خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت پاکستان
دسمبر
ٹرمپ انتخابی مہم شروع کرنے کی تیاریوں میں
?️ 6 نومبر 2022سچ خبریں:ایک امریکی ویب سائٹ نے لکھا کہ اس ملک کے سابق
نومبر
تکفیری گروہوں کے حامی شام میں قتل عام روک سکتے تھے: الحوثی
?️ 11 مارچ 2025 سچ خبریں:انصار اللہ یمن کے رہنما سید عبدالملک الحوثی نے شمال
مارچ
بائیڈن کے دورے کے موقع پر تل ابیب کی بستیاں بڑھانے کی کوششیں
?️ 14 جون 2022سچ خبریں: فلسطینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم
جون