ٹرمپ کے نئے ٹیرف منصوبوں کے سائے میں امریکہ اور سوئزرلینڈ کے درمیان اچھے تعلقات کا خاتمہ

ٹرمپ

?️

ٹرمپ کے نئے ٹیرف منصوبوں کے سائے میں امریکہ اور سوئزرلینڈ کے درمیان اچھے تعلقات کا خاتمہ
ایک مغربی میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوئزرلینڈ سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 39 فیصد سے زائد شرح سے نئے تعرفے عائد کرنے کے فیصلے نے سوئزرلینڈ کی حکومت اور کاروباری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس اقدام کو سوئزرلینڈ کے لیے ایک بڑا دھچکا اور دونوں ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ کی طرف سے یہ سب سے زیادہ تعرفہ یورپ میں ہے اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر آتا ہے۔ سوئزرلینڈ کی صدر کارین کلر-ساتر نے اس فیصلے کو توقع سے کہیں زیادہ سخت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے باوجود یہ تعرفے بہت زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں جس کا ملک کی معیشت پر منفی اثر پڑے گا۔ خاص طور پر سوئس دوا ساز صنعت کو اس سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سوئزرلینڈ کی حکومت واشنگٹن سے اس مسئلے کے حل کے لیے رابطے میں ہے، جبکہ نئی تعرفے 7 اگست کی رات سے نافذ العمل ہوں گے۔ اس سے قبل اپریل میں بھی ٹرمپ نے 31 فیصد تعرفے کا اعلان کیا تھا، جسے برن میں ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کاخ سفید کا موقف ہے کہ سوئزرلینڈ امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں قابل ذکر رعایتیں دینے سے انکار کر رہا ہے، اس لیے زیادہ تعرفہ لگایا جا رہا ہے۔ سوئس صنعتی انجمنوں نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کی صنعت اور روزگار کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ خاص طور پر ایسی کمپنیاں جو امریکہ کے بازار پر منحصر ہیں، انہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گزشتہ سال سوئزرلینڈ کی برآمدات کا تقریباً 17 فیصد حصہ امریکہ کے لیے تھا، جس سے اس بات کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ امریکہ ان کی سب سے بڑی تجارتی شراکت دار ہے۔
ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے نئی تعرفوں کے نفاذ سے پہلے سوئزرلینڈ کے حکام سے رابطے کیے ہیں اور اس کا مقصد 40 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی وفاقی کونسل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور آئندہ کے اقدامات کا تعین کرے گی، تاہم ملک کی حکومت مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔یہ فیصلہ امریکی-سوئس تعلقات میں سرد مہری کا باعث بن سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ جنگ میں صہیونی حکومت کو 38 ارب ڈالر کا بھاری نقصان

?️ 29 مئی 2025سچ خبریں: معاشی اخبار کالکالیسٹ کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست کی

’دغا باز دل‘ کی ابتدائی دو دن میں ریکارڈ کمائی

?️ 14 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی گئی رومانوی

حکومت کا آئی ایم ایف مذاکرات سے قبل 15 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پر غور

?️ 12 اگست 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں)حکومت نے آئی ایم ایف  کے قرض پروگرام

وزیرداخلہ نے پی ٹی آئی کے گزشتہ روز کے اجتماعات میں حاضرین کی تعداد شیئر کردی

?️ 25 ستمبر 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پاکستان

جنگی حالات میں ایرانی معیشت کی مضبوطی کا راز

?️ 20 اپریل 2026سچ خبریں:الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگی حالات اور امریکی پابندیوں کے

صیہونی شہریوں کا پناہ گاہوں کی طرف بھاگنا ناقابلِ یقین ہے:سابق صیہونی وزیر جنگ 

?️ 10 مئی 2025 سچ خبریں:سابق صیہونی وزیر جنگ آویگدور لیبرمن نے یمن کے میزائل

ج جو لوگ قائد اعظم کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں

?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ

صہیونی حکومت کے خلاف عالمی ردعمل

?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: صہیونیستی حکومت اکتوبر 2023 سے غزہ کی مظلوم عوام کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے