ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات،غزہ میں پائیدار امن کے بجائے سیاسی نمائش

ٹرمپ، نیتن یاہو

?️

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات،غزہ میں پائیدار امن کے بجائے سیاسی نمائش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان فلوریڈا میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں جہاں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی بھرپور تعریف کی، وہیں غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں کوئی واضح پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے بجائے سیاسی نمائشی بیانات تک محدود رہی۔

مارالاگو میں ہونے والے نجی ظہرانے کے دوران دونوں رہنماؤں نے غزہ، مغربی کنارے اور ایران سے متعلق امور پر گفتگو کی، تاہم ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات کے بعد کسی ٹھوس نتیجے یا عملی اعلان کا فقدان رہا۔ امریکی میڈیا کے مطابق، بات چیت کا بڑا حصہ سفارتی مسائل کے بجائے باہمی ستائش اور تعلقات کی مضبوطی کے دعوؤں پر مشتمل تھا۔

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اسرائیل کا سب سے بڑا دوست قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ انہیں اسرائیل کا اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جواباً ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کو ’’دورِ جنگ کا رہنما‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو آج اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جاتا۔ اس باہمی خوشامد نے ملاقات کے اصل مقصد، یعنی غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے، کو پسِ پشت ڈال دیا۔

غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق سوالات پر ٹرمپ نے کسی قسم کی سنجیدہ تشویش کا اظہار نہیں کیا اور ذمہ داری زیادہ تر حماس پر ڈال دی۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تل ابیب معاہدے کی پابندی کر رہا ہے، حالانکہ اکتوبر سے اب تک سینکڑوں فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مغربی کنارے کے معاملے پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات واضح رہے۔ ٹرمپ نے اسرائیلی پالیسی سے مکمل اتفاق نہ ہونے کا اعتراف کیا، خاص طور پر غیرقانونی یہودی بستیوں کے حوالے سے، تاہم اس اختلاف کو بھی عملی دباؤ میں تبدیل نہیں کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ایران کے خلاف دھمکی آمیز بیانات بھی سامنے آئے۔ ٹرمپ نے بغیر ٹھوس شواہد کے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکہ دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے ان بیانات کو نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام ناقابلِ مذاکرات ہے اور ملک ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ ملاقات غزہ کے مظلوم عوام کے لیے کسی امید کا پیغام نہیں لائی۔ ان کے مطابق جب تک امریکہ اسرائیل پر حقیقی دباؤ ڈالنے کے بجائے تعریف و حمایت کی پالیسی جاری رکھے گا، تب تک غزہ میں پائیدار جنگ بندی اور امن ایک دور کا خواب ہی رہے گا۔

مشہور خبریں۔

نیب کے ہوتے ملک نہیں چلے گا:شاہد خاقان عباسی

?️ 21 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے نیب کے وسیع

کئی سال سے موسیقی نہیں سنی، عاطف اسلم کا انکشاف

?️ 15 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف گلوکار و موسیقار عاطف اسلم نے انکشاف کیا

لبنانی فوج کے کمانڈر کا دورہ امریکہ کیوں منسوخ کیا گیا؟

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن نے لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل کے واشنگٹن

امریکہ سے اسرائیل: ہم غزہ میں جنگ بندی کو فوجی کارروائیوں پر ترجیح دیتے ہیں

?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیلی کابینہ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی

بائیڈن کیوں صہیونی جرائم کی حمایت کر رہے ہیں ؟

?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی مسلمان عربوں اور ان کے اتحادیوں نے حماس کے ساتھ

ترکیہ میں سیاسی دباؤ؛ پولیس کا میڈیا اور سیاسی جماعتوں پر حملہ

?️ 11 ستمبر 2025 پولیس کا خبرترک ٹی وی نیٹ ورک پر حملہ ایک غیر

چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ٹرمپ کا بیان

?️ 29 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے سبب پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ

?️ 19 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر گزشتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے