?️
ونزوئیلا میں جلد بڑا واقعہ پیش آنے والا ہے
امریکی ریاست فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر رک اسکاٹ نے کہا ہے کہ ونزوئیلا میں صدر نکولاس مادورو کی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور جلد وہاں "کچھ بڑا واقعہ” پیش آنے والا ہے۔
اسکاٹ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس سے گفتگو میں کہا کہ اگر وہ مادورو کی جگہ ہوتے تو ابھی روس یا چین جانے کا فیصلہ کر لیتے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ ونزوئیلا پر فوجی حملہ کرنے والا ہے، تو انہوں نے کہا: مجھے ایسا نہیں لگتا، اگر ایسا ہوا تو میں خود بھی حیران رہ جاؤں گا۔
سی بی ایس کے میزبان نے سوال کیا کہ اگر مادورو کی حکومت ختم ہو گئی تو اس سے خطے کی دیگر سوشلسٹ حکومتوں کے لیے کیا پیغام جائے گا؟ سینیٹر اسکاٹ نے جواب دیا یہ دراصل کوبا کے اختتام کی شروعات ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ونزوئیلا میں بدامنی یا خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوئی تو امریکہ کے لیے براہِ راست فوجی مداخلت کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ “امریکی عوام طویل جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ “ضرورت پڑنے پر ایک بین الاقوامی فوجی اتحاد ممکنہ طور پر مداخلت کر سکتا ہے۔”
ادھر ایک اور ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم نے بھی حالیہ دنوں میں عندیہ دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کیریبین سمندر میں فوجی کارروائیوں میں وسعت لانے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ گراہم نے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں، جو بظاہر منشیات کے اسمگلروں کے خلاف ہیں، ممکن ہے مستقبل میں ونزوئیلا کی سرزمین تک پھیل جائیں۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کانگریس کے اراکین کو ممکنہ فوجی آپریشنز کے بارے میں آگاہ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گراہم کے مطابق، ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ “اب مادورو کے اقتدار چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے اور ایسی صورت میں زمینی کارروائی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکہ نے کیریبین میں جنگی بحری جہاز، بمبار طیارے، ڈرونز، میریں فورسز اور جاسوس طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ یہاں تک کہ B-52 بمبار طیاروں نے ونزوئیلا کے ساحل کے قریب حملے کی مشقیں” بھی کی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ونزوئیلا کے خلاف حالیہ کارروائیاں دراصل منشیات کے خلاف جنگ کے پردے میں سیاسی دباؤ بڑھانے اور مادورو حکومت کو گرانے کی تیاری ہیں۔
امریکہ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ونزوئیلا سے نکلنے والی کئی کشتیوں پر حملہ کر کے “منشیات فروشوں اور دہشت گردوں” کو ہلاک کیا، مگر کسی قسم کے شواہد یا تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ان حملوں کی علاقائی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے، جبکہ ماہرینِ قانون نے ان کی بین الاقوامی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔ واشنگٹن ان کارروائیوں کو "انسدادِ منشیات مہم” قرار دیتا ہے، لیکن مبصرین کے مطابق، یہ دراصل سیاسی اور فوجی دباؤ کے ذریعے مادورو حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے عراق کی مکمل حمایت
?️ 13 اپریل 2023سچ خبریں:عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کی عرب لیگ میں
اپریل
عمان کے مفتی اعظم کا فرانسیسی صدر سے طنزیہ سوال
?️ 10 جولائی 2023سچ خبریں: فرانس کے صدر نے کچھ عرصہ قبل دعویٰ کیا تھا
جولائی
مارب میں 35 سعودی کرائے کے فوجی مارے گئے
?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں: مارب شہر میں ہونے والی جھڑپوں میں سعودی اتحادی افواج
دسمبر
معاشی چیلنجز، بیرونی رقوم کا حصول اور آئی ایم ایف پروگرام کو ٹریک پر رکھنا ہوگا، اسٹیٹ بینک
?️ 22 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب
دسمبر
ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ تعلقات مضبوط کرنے کا موقع ہے: طالبان
?️ 26 جنوری 2025سچ خبریں: طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے مشیر ذاکر جلالی نے
جنوری
نیپرا کا کے-الیکٹرک سمیت بجلی کمپنیوں کی لائسنس فیس میں اضافے کا منصوبہ
?️ 5 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور
مارچ
ریاض بڑے پیمانے پر بیجنگ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں: بلومبرگ
?️ 16 جون 2023سچ خبریں:امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ریاض کی جانب سے عرب
جون
ڈیموکریٹس کو AIPAC سے مالی امداد قبول نہیں کرنی چاہیے:برنی سندرز
?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر برنی سندرز نے بااثر لابی گروپ AIPAC
جولائی