واشنگٹن کا واقعہ بیرونی خفیہ نیٹ ورکس کی سازش ہے:طالبان

طالبان

?️

 واشنگٹن کا واقعہ بیرونی خفیہ نیٹ ورکس کی سازش ہے:طالبان

قطر میں تعینات کابل کے نمائندے نے واشنگٹن میں حالیہ فائرنگ کے واقعے اور ایک افغان شہری کی جانب سے امریکی نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملے میں طالبان کی کسی بھی قسم کی مداخلت کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ بیرونی خفیہ نیٹ ورکس کی کارستانی ہو سکتا ہے جو جعلی بیانیے گھڑ کر افغانستان اور افغان شہریوں کو سیکیورٹی خطرہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

طلوع نیوز کے مطابق، طالبان کے ترجمان سهیل شاهین نے ایک بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ممکن ہے بیرونی خفیہ ایجنسیاں واشنگٹن کے حالیہ واقعے میں ملوث ہوں اور کوشش کر رہی ہوں کہ افغان شہریوں کو عالمی سطح پر خطرہ دکھایا جائے۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب کچھ علاقائی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن میں ایک سیکیورٹی واقعے میں افغان نژاد شخص کی شناخت ہوئی ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے تاحال واقعے کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں، لیکن سوشل میڈیا اور بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اسے طالبان سے جوڑنے کی کوشش کی اور اسے افغانستان کی جانب سے ’’سیکیورٹی خطرے‘‘ کی مثال قرار دیا۔

سهیل شاهین نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی خفیہ ادارہ (ISI) اس واقعے کو امارتِ اسلامی سے نسبت دے کر افغانستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات سرحدی کشیدگی، افغان مہاجرین کے مسائل اور سیکیورٹی معاملات کے باعث شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا کابل پر الزام لگایا گیا کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جب کہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور کہتا ہے کہ کسی گروہ کو افغانستان کی سرزمین کو بیرونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شاهین نے کہا کہ کابل کا موقف واضح ہے:کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین کو بیرونِ ملک حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے عدم مداخلت کے اصولوں پر طالبان کی پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حملے کے ذمہ داروں کی نشاندہی پیشہ ورانہ اور غیرجانبدار تحقیق سے ہونی چاہیے۔

افغان سفارت کار نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کا تعلق افغانستان کی سابق حکومت کے اسپیشل فورسز یونٹ 01 سے ہو سکتا ہے، مگر حتمی فیصلہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی اور تمام امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایرنا کے مطابق، امریکی شہریت اور امیگریشن سروس نے اعلان کیا کہ بدھ، 4 دسمبر کو، افغان شہری رحمان‌الله لکنوال نے واشنگٹن کے فراگٹ میٹرو اسٹیشن کے نزدیک گشت پر مامور نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

اسی واقعے کے بعد امریکہ نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں کی کارروائی تاحکمِ ثانی معطل کر دی۔لکنوال دو اہلکاروں کو زخمی کرنے کے بعد وہیں موجود دیگر گارد اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد امریکی محکمۂ داخلی سلامتی نے اعلان کیا کہ افغان شہریوں کی امیگریشن کیسوں پر کارروائی نامعلوم مدت تک معطل رہے گی جس سے ہزاروں افغان درخواست گزار شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔

امریکی سی آئی اے نے بھی تصدیق کی کہ حملہ آور افغانستان میں سابقہ امریکی انٹیلیجنس کے ساتھ کام کر چکا تھا اور 2021 میں کابل کے سقوط کے بعد امریکہ منتقل ہوا تھا۔ اس نے گزشتہ سال پناہ کی درخواست دی تھی اور موجودہ سال کے اوائل میں اس کی درخواست منظور ہوئی۔

اسی سلسلے میں، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’جرائم پیشہ اور نفرت انگیز‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پچھلی حکومت کے دوران امریکہ آنے والے تمام افغان باشندوں کی سیکیورٹی جانچ دوبارہ کی جائے۔

پینٹاگون نے بھی اعلان کیا کہ صدر کی ہدایت پر 500 اضافی نیشنل گارڈ اہلکار واشنگٹن ڈی سی میں تعینات کیے جا رہے ہیں، جہاں پہلے ہی تقریباً 2,200 نیشنل گارڈ موجود ہیں۔

مشہور خبریں۔

یمن میں سعودی اتحاد کی شکست اور پلان بی پر عمل درآمد

?️ 22 دسمبر 2021سچ خبریں:یمن میں مرکزی منصوبے کی ناکامی کے بعد سعودی عرب کے

مبینہ دھاندلی پراحتجاج، پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اسلام آباد، لاہور میں مقدمات درج

?️ 11 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) انتخابات میں مبینہ دھناندلی کے خلاف گزشتہ روز

ایران امریکہ معاہدے پر امریکی کانگریس کا ردعمل

?️ 17 جون 2026سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی معاہدے کے اعلان کے بعد

آئزن کوٹ کو انتخابی انتخابات میں نیتن یاہو پر برتری 

?️ 17 جولائی 2026سچ خبریں: صہیونی ریاست کے نیوز چینل آئی 24 نیوز نے رپورٹ

غزہ میں شکست تسلیم کرنا: میدان جنگ سے داستانوں کی جنگ تک

?️ 4 اگست 2025سچ خبریں: غزہ میں اپنے جرائم کو جائز قرار دینے کے لیے

دنیا میں امریکی مداخلت | برازیل میں اصلاحات کے خلاف ۲۱ بغاوت

?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں:  1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد، امریکہ

جہاد اسلامی نے غزہ سے 1100 راکٹ داغے:صہیونی میڈیا

?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:صہیونی میڈیا کا کہنا ہے کہ فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک

کیا یورپی ایڈیشن یوکرین امن منصوبے کا تعظل توڑ پائے گا؟

?️ 25 نومبر 2025 کیا یورپی ایڈیشن یوکرین امن منصوبے کا تعظل توڑ پائے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے