واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ٹرمپ کو دیے گئے طیارے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط

معاہدہ

?️

واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ٹرمپ کو دیے گئے طیارے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط
امریکہ اور قطر کے وزرائے دفاع نے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت قطر نے ایک بوئنگ جٹ طیارہ بغیر کسی شرط کے امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کو تحفے میں دیا ہے، جو ممکنہ طور پر سابق صدر ڈونالد ٹرمپ کے دورہ قطر کے دوران پیش کیا گیا تھا۔
 امریکی وزیر دفاع پیت ہگست اور قطری وزیر دفاع سعود بن عبدالرحمن آل ثانی نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ سی این این کے مطابق، معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ اس طیارے کے بدلے قطر کو کوئی ادائیگی نہیں کرے گا۔
یہ بوئنگ 747-8 طیارہ، جسے ممکنہ طور پر امریکی صدر کے لیے ایئرفورس ون کے طور پر استعمال کیا جائے گا، اس وقت سان آنتونیو ایئرپورٹ پر کھڑا ہے اور سیکیورٹی اپ گریڈ کا منتظر ہے۔
معاہدے میں زور دیا گیا ہے کہ یہ طیارہ "نیک نیتی اور باہمی تعاون” کے جذبے کے تحت دیا گیا ہے اور اس کا مقصد نہ کوئی رشوت ہے، نہ ہی کسی حکومتی فیصلے پر اثر انداز ہونا۔ معاہدے کی شقوں میں کہا گیا ہے کہ اس تحفے کو کسی بھی صورت غیر اخلاقی یا کرپٹ عمل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
قطر کی جانب سے اس طیارے کا تحفہ دینا اس وقت سیاسی ہنگامے کا سبب بنا جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یہ طیارہ قبول کریں گے اور اسے ایئرفورس ون کے طور پر استعمال میں لائیں گے۔ کئی ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اس اقدام پر تنقید کی اور اسے اخلاقی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔
ٹرمپ نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اتنا قیمتی تحفہ نہ لینا احمقانہ ہوگا اور قطر کے شاہی خاندان کی سخاوت کو سراہا۔
ابتدا میں امریکی فضائیہ کو گمان تھا کہ قطر کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ طے پائے گا، لیکن بعد میں ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ یہ ایک "مکمل مفت تحفہ” ہے۔
معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طیارے کی منتقلی کسی سرکاری اقدام یا فیصلے سے مشروط نہیں، اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کا سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہے۔
تاہم، امریکی آئین کے مطابق سرکاری عہدیداران کو کسی بھی بادشاہ، شہزادے یا غیر ملکی حکومت سے تحفے قبول کرنے کی اجازت نہیں، جس کے باعث اس معاہدے پر قانونی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
امریکی فضائیہ نے سی این این کو بتایا کہ طیارے کو صدارتی استعمال کے لیے تیار کرنے پر کتنا خرچ آئے گا، یہ تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم وزیر فضائیہ کے مطابق، یہ لاگت ممکنہ طور پر 400 ملین ڈالر سے کم ہوگی۔
معاہدے کے ضمیمے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فضائیہ جلد ہی اس طیارے کا اندراج مکمل کرے گی اور درکار تبدیلیوں پر فوری عمل شروع کر دے گی۔

مشہور خبریں۔

بن سلمان کو کس چیز کی بیماری ہے؟

?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں:پبلک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی مرکزی کمیٹی کے

کراچی: رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار

?️ 7 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ رینجرز اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی

بحرین کا فلسطینی بچوں کے قاتل کو خوش آمدید کہنا فلسطینی عوام کی پیٹھ میں خنجر مارنا ہے:فلسطینی مزاحمتی تحریک

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:اسرائیلی وزیر جنگ کے بحرین کے اچانک دورے پر ردعمل ظاہر

یوکرائن بحران اور آزاد دنیا کا دوغلہ پن

?️ 7 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرائن میں پیش آنے والے واقعات نے آزادی اور انسانی حقوق

کرپشن کو ختم کرنے کے لئے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

?️ 27 جنوری 2022لاہور(سچ خبریں) گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ اداروں

گوگل فوٹوز میں مصنوعی ذہانت سے آراستہ جدید فیچرز کا اضافہ ہوگیا

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: گوگل فوٹوز نے اپنی 10ویں سالگرہ کے موقع پر فوٹو

شمالی مقبوضہ علاقوں میں صہیونی بستی میں غیر معمولی صورت حال

?️ 23 دسمبر 2025سچ خبریں:  عبرانی اخبار یديعوت احرونوت نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ

حزب اللہ کا صیہونی اڈے میرون پر میزائل حملہ

?️ 27 فروری 2024سچ خبریں: غزہ کے عوام کی حمایت میں اور بعلبک پر صیہونی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے