?️
واشنگٹن اور تل ابیب میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ زیادہ تر ایک میڈیا کی نمائش ہے:حماس
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل میں حماس کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے جو سرگرمیاں دکھائی جا رہی ہیں، وہ حقیقت میں میڈیا کی نمائش ہیں، نہ کہ کوئی سنجیدہ یا حقیقی عزم۔
عرب نیوز چینل اخبارِ قاہرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ حماس نے ثالثوں کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ غزہ کی حکمرانی چھوڑنے اور طویل المدت جنگ بندی پر تیار ہے، بشرطیکہ اس عمل کی عرب اور بین الاقوامی نگرانی ہو۔
حماس کے اس رہنما، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے مزید کہا کہ تحریکِ مزاحمت نے قیدیوں کے تبادلے کے کسی بھی معاہدے میں فلسطینی قومی رہنماؤں کی رہائی کو لازمی قرار دیا ہے، خصوصاً مروان البرغوثی اور احمد سعدات (جبهہ خلق برائے آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل) کی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قیدیوں کا معاملہ مذاکرات کی اولین ترجیح نہیں، بلکہ جنگ کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے وسیع تر تناظر کا ایک حصہ ہے۔
حماس کے اس عہدیدار کے مطابق، تحریک نے امریکی تجویز کے چند نکات پر ابتدائی رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن کوئی بھی ایسا منصوبہ جو مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کی ضمانت نہ دے، حماس کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
ایک مصری سفارتی ذریعے نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ اگرچہ مذاکرات کا ماحول محتاط طور پر مثبت ہے، مگر اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں — جن میں اسرائیلی فوج کے انخلا کا ٹائم فریم، بین الاقوامی نگرانی کا طریقہ کار، اور قیدیوں کے تبادلے کی شرائط شامل ہیں۔ اسرائیل کوشش کر رہا ہے کہ قیدیوں کے معاملے کو سیاسی و سیکیورٹی معاملات سے جوڑ دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جس کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے ہیں، شرم الشیخ (مصر) پہنچ گیا ہے تاکہ مصر اور قطر کی ثالثی میں اسرائیلی فریق کے ساتھ غیر مستقیم مذاکرات میں شرکت کر سکے۔
مصری ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے تحت جاری ہے۔ اس منصوبے میں 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور اس کے بعد اسرائیلی فوج کا تدریجی انخلا شامل ہے۔
یہ مذاکرات مصر کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ حسن رشاد کی زیرِ نگرانی ایک مرکزی آپریشن روم سے مانیٹر کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، حماس نے آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ غزہ کی انتظامیہ کو ایک آزاد فلسطینی شخصیات پر مشتمل تکنوکریٹ حکومت کے حوالے کرے — جو فلسطینی گروہوں کے اتفاق اور عرب و اسلامی حمایت سے غزہ کے امور چلائے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، طالبان کے بیانات افسوسناک ہیں۔ دفتر خارجہ
?️ 26 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے، بھارت
فروری
القدس شوٹنگ آپریشن میں صیہونی فوجی ہلاک
?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں: مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی استقامت کاروں کی فائرنگ
اکتوبر
افغانستان نے امریکی ناجائز بچے کی ادا کی قیمت
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کے مرکزی بینک کے
فروری
امریکہ کا افغانستان کے منجمد اثاثے جاری نہ کرنے کا اعلان
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن افغانستان کے ضبط
اگست
غزہ جنگ بندی محض عارضی وقفہ ہے، جنگ کا اختتام نہیں
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: ممتاز مصری سیاسی تجزیہ کار اور سماجیات دان محمد سید احمد
اکتوبر
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کورونا ٹیسٹ کرا رہا ہوں: شبلی فراز
?️ 26 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے
مارچ
اسرائیل اور لبنان جنگ کی تازہ ترین صورتحال
?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے اتوار
ستمبر
طالبان وزیر خارجہ او آئی سی اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے تیارنہیں
?️ 22 مارچ 2022سچ خبریں: طالبان کے نائب وزارت خارجہ کے ترجمان حافظ ضیا تکل
مارچ