لندن میں عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے خلاف احتجاج

عرب ممالک

?️

لندن میں عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے خلاف احتجاج

لندن میں فلسطین کے حامیوں نے بعض عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی تختی کو نقصان پہنچایا۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ اور بڑھتے انسانی بحران پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین کی ایک تعداد نے بدھ کی صبح اماراتی سفارت خانے کے سامنے جمع ہو کر سفارت خانے کی سرکاری تختی کو ڈھانپ دیا اور اس کی جگہ انگریزی اور عبرانی زبان میں ایک نیا بورڈ نصب کیا جس پر عرب صہیونی اتحادیوں کا عنوان درج تھا۔ مظاہرین نے علامتی طور پر ایسے پیکٹ بھی رکھے جو کفن میں لپٹے نومولود بچوں کی شکل سے مشابہ تھے، جن کے ساتھ ایسے پلے کارڈز آویزاں تھے جن میں غزہ اور سوڈان میں ہونے والی کارروائیوں کی حمایت کے خلاف نعرے درج تھے۔

اس احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں اور فلسطین کے حامی صارفین کی جانب سے ان پر بھرپور ردعمل سامنے آیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

یہ احتجاج دراصل 2020 سے شروع ہونے والے اس عمل کے خلاف غم و غصے کا اظہار ہے جس کے تحت امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ نام نہاد ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کیے، بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس عمل کا حصہ بنے۔ ناقدین کے مطابق غزہ میں جاری جنگ اور بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں کے باوجود ان تعلقات کا برقرار رہنا شدید عوامی ردعمل کو جنم دے رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں امارات کو سوڈان کے بحران کے تناظر میں بھی تنقید کا سامنا رہا ہے، جہاں بعض حلقوں نے اس پر سوڈانی ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔ سوڈان میں اپریل 2023 سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جسے عالمی ادارے دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔

لندن میں گزشتہ عرصے کے دوران غزہ کی جنگ اور مشرق وسطیٰ و افریقہ میں جاری تنازعات کے خلاف متعدد احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ تاہم اس تازہ واقعے پر تاحال نہ تو اماراتی سفارت خانے اور نہ ہی برطانوی پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔

مشہور خبریں۔

سیلاب متاثرین کوامدادی سامان مہیا، ریسکیو آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں۔ این ڈی ایم اے

?️ 16 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق این ڈی ایم

نیتن یاہو ایک ناکام وزیراعظم ہے: صیہونی میڈیا

?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں:غزہ جنگ میں تل ابیب کی پالیسیوں کی ناکامی اور اس

یاسر حسین دنیا کے حسین ترین انسان ہیں: اقراء عزیز

?️ 29 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں) پاکستان کی معروف اداکارہ و ماڈل اقراء عزیز نے

ایک بار پھر ایران اور حزب اللہ کے خلاف بنی گانٹز کی بیان بازی

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:   صیہونی حکومت کے جنگی وزیر بینی گانٹز نے آج پیر

امریکی وزیرِ جنگ کا عراق کو انتباہ کا اصلی ہدف حزب اللہ لبنان

?️ 4 نومبر 2025امریکی وزیرِ جنگ کا عراق کو انتباہ کا اصلی ہدف حزب اللہ

کیا سویدہ کے بعد کمیشلی کی باری ہے؟

?️ 6 اگست 2025سچ خبریں: شام کے کرد آبادی والے علاقوں میں چھٹپٹ جھڑپوں کے

’بھارت سمجھتا ہے ایک کانفرنس رکھ کر وہ کشمیر ی عوام کی آواز دبا سکتا ہے، ہم اس کو غلط ثابت کریں گے‘

?️ 21 مئی 2023مظفر آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے

تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام مشکلات کا شکار ہیں:حریت کانفرنس

?️ 10 مارچ 2024سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ گزشتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے