لبنانی شخصیات نے سعودی عرب کی جانب سے قومی مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ پر تنقید کی

لبنانی شخصیات

?️

لبنانی شخصیات نے سعودی عرب کی جانب سے قومی مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ پر تنقید کی

لبنان کی مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات نے سعودی عرب کے اس رویے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس کے باعث ملک مزید بحران کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان رہنماؤں نے واضح کیا کہ ریاض لبنان میں قومی اتفاق رائے کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

لبنانی ذرائع کے مطابق، ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے حالیہ دنوں بیروت میں متعدد رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں مقامی شخصیات نے سعودی پالیسیوں پر ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاض کی مداخلت لبنانیوں کو سیاسی اور سکیورٹی اتفاق رائے تک پہنچنے نہیں دے رہی۔ بعض رہنماؤں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی رویے کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ لبنان داخلی استحکام حاصل کر سکے۔

لبنانی اخبار نے بھی پہلے اطلاع دی تھی کہ سعودی خصوصی ایلچی شہزادہ یزید بن فرحان، واشنگٹن اور صیہونی ریاست کے ساتھ مل کر حزب اللہ پر سیاسی دباؤ بڑھانے اور مزاحمتی تحریک کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

یزید بن فرحان، جو سعودی وزیر خارجہ کے مشیر ہیں، دسمبر 2024 سے بیروت کی سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ ولید بخاری سفیر کی حیثیت سے اب بھی لبنان میں موجود ہیں، لیکن یزید بن فرحان نے عملی طور پر سفیر سے بڑھ کر کردار سنبھالا ہے۔ انہوں نے مسیحی اور سنی جماعتوں کو اکٹھا کرکے جنرل جوزف عون کی صدارتی نامزدگی میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے اپنی خارجہ پالیسی کو علاقائی تنازعات سے دور رکھتے ہوئے اقتصادی ترجیحات پر مرکوز کر رہا تھا۔ یمن جنگ کا امن معاہدہ (2022)، شام کے صدر بشار الاسد سے تعلقات کی بحالی اور چین کی ثالثی میں ایران سے مصالحت اسی حکمت عملی کی مثالیں تھیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں ریاض نے ایک بار پھر لبنان میں براہِ راست سیاسی مداخلت شروع کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب نے لبنانی وزراء کو قائل کیا کہ وہ اسلحے کی انحصاری کا مسودہ منظور کریں جس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔ اس دوران صیہونی ریاست فضائی حملوں کے ذریعے ان دباؤ کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

لبنان کے شیعہ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ امریکہ کی تجویز پر سعودی عرب کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جو طائف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ ان کے مطابق، ریاض شیعہ مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ جنوبی سرحد سے اسرائیل اور مشرقی جانب تکفیری گروہ پہلے ہی سنگین خطرات پیدا کر چکے ہیں۔ اس پس منظر میں حزب اللہ کو واحد رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے جو ان خطرات کے سامنے ڈٹا ہوا ہے۔

مشہور خبریں۔

مشیگن یونیورسٹی میں فلسطین حامی طلبہ کی جاسوسی؛برطانوی اخبار کا انکشاف 

?️ 8 جون 2025 سچ خبریں:برطانوی اخبار گاردین نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی ریاست

مستقبل کی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

?️ 14 جولائی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی ریزرو فورسز کے جنرل اسحاق برک نے مستقبل

غزہ کی جنگ میں کوئی نہ جائے: اسرائیلی فوجی کا خط

?️ 15 مئی 2025سچ خبریں: صہیونی ریاست کے غزہ پٹی پر جاری حملوں کے خلاف

گلگت بلتستان کے بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے؟ شیڈول کا اعلان

?️ 15 دسمبر 2025گلگت (سچ خبریں) چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے

ایران کے خلاف جنگ امریکی طاقت نہیں بلکہ زوال کی علامت: نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر

?️ 18 مارچ 2026نیویارک یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر نے ایران کے خلاف جنگی منصوبے

کورونا وائرس سے  مزید 83 افراد انتقال کر گئے

?️ 8 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کورونا وائرس کی چوتھی لہر کے وار کے

17 سال بعد بھی نتانیاہو حماس کو شکست نہیں دے سکتا: لیبرمین

?️ 11 مئی 2025سچ خبریں: صیہونی حکام اور حلقوں کی جانب سے غزہ کی جنگ

جماعت اسلامی کے میئر کو آنے سے زبردستی روکا گیا تو سارے آپشن موجود ہیں۔

?️ 16 جنوری 2023کراچی: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے