?️
قاہرہ اور تل ابیب تعلقات میں دراڑ، کیا فوجی تصادم کا امکان زیادہ ہے؟
مختلف عراقی و عرب ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق مصر اور اسرائیل کے مابین تعلقات میں واضح سرد مہری آئی ہے اور تل ابیؤ کے سیاسی و فوجی حلقے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مصر کی جانب سے تناؤ بڑھنے کی علامات نظر آتی ہیں اگرچہ فی الحال براہِ راست عسکری تصادم کا امکان کم تر دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی اور مصری تعلقات گزشتہ برسوں کی نسبت نمایاں طور پر کمزور ہو گئے ہیں اور یہ صلحِ سرد اپنے نچلے ترین درجے پر پہنچ چکا ہے۔
مصری قیادت نے غزہ میں ہونے والے واقعات کو سخت الفاظ میں بیان کیا ہے اور بعض عہدیداروں نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ صلحِ ۱۹۷۹ کے معاہدے کی تجدید کے خلاف رائے رکھتے ہیں۔
اسرائیلی فوجی تجزیہ کاروں نے سینا خطے میں مصر کی جانب سے فوجی استعداد بڑھانے، دفاعی نظام نصب کرنے اور لاجسٹک تیاریوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔
باوجود اس کشیدگی کے، براہِ راست جنگ کا فوری امکان فی الوقت کم ہے؛ مگر خطے کی صورتحال کسی بھی لمحہ بدل سکتی ہے اور چھوٹی فوجی جھڑپیں یا سرحدی اشتعالکاری کا خطرہ موجود ہے۔
اسرائیلی مشہور مشیر اور مشرقی امور کے ماہر موشے العاد نے بتایا ہے کہ ان کے حالیہ رابطوں میں مصر کے بعض فوجی و سویلین حلقے صلحِ معاہدے سے ناراض ہیں اور بعض اوقات اس سطح تک بات جاتی ہے کہ ظاہری طور پر معاہدے کو ختم کرنے یا سخت موقف اپنانے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔ العاد نے کہا کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے غزہ کے بارے میں نسل کشی جیسے شدید الفاظ استعمال کیے جو محض سرد مہری کی علامت نہیں بلکہ نیمِ براہِ راست تنازعہ کی جانب اشارہ ہیں۔
اس کے علاوہ، ایلی دیکل (امان کے سابق یا نصابی محقق کے طور پر پہچانے جانے والے) نے طویل عرصے سے مصر کے عسکری تقویت کی نگرانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر سینا میں اہم فوجی تعیناتیاں کر رہا ہے اور اس کی عسکری تیاری قابلِ توجہ ہے۔ ان کے بقول مصر کی فوجی ترقی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
فریقین کے مفاد میں براہِ راست جنگ فی الحال نہیں: مصر اور اسرائیل دونوں بڑے پیمانے کی سرکاری جنگ کے نتائج اور لاگت سے اچھی طرح واقف ہیں۔
حالات کشیدہ ہیں: سفارتی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور کسی بھی بڑی فوجی حرکت یا غزہ کے جنوبی علاقوں میں غیر محتاط آپریشن سے کشیدگی انتہا تک پہنچ سکتی ہے۔
سرحدی حادثات اور جزوی جھڑپیں ممکن ہیں، خاص طور پر جب سینا میں فوجی حرکتیں، مقامی دھڑوں کی مداخلت یا اسرائیلی کارروائیوں کے ردِعمل میں مصر سخت موقف اپنائے۔اس لیے خلاصہ یہ کہ: فوری اور مکمل جنگ کا امکان کم مگر کشیدگی اور جزوی لڑائیوں/حساس واقعات کا خطرہ موجود ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
افریقہ میں اسرائیل کی اہمیت تل ابیب کے تصور سے کہیں کم : عطوان
?️ 19 فروری 2023سچ خبریں:گزشتہ روز ذرائع ابلاغ کے ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ
فروری
یمن جنگ کی امریکی حمایت کے سلسلہ میں امریکی سینیٹر کا اہم بیان
?️ 8 اپریل 2021سچ خبریں:امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یمن جنگ میں
اپریل
تحفظ آئین موومنٹ کا مقصد؛ محمود خان اچکزئی کی زبانی
?️ 12 اگست 2024سچ خبریں: تحفظ آئین موومنٹ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا
اگست
اردغان بائیڈن سے مایوس ہو کر پیوٹن کی طرف مائل
?️ 28 ستمبر 2021سچ خبریں:ترک روزنامہ ینی چاک نے اردغان کے اپنے امریکی ہم منصب
ستمبر
قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد عرب ممالک کی "ادھار” سیکورٹی کا حشر/ خود کو امریکی چھتری سے بچانے کے کئی آپشنز
?️ 22 ستمبر 2025سچ خبریں: قطر کے خلاف اسرائیلی حکومت کی جارحیت تمام عرب ممالک
ستمبر
عام انتخابات کیلئے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران ، آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری
?️ 12 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) 8فروری کے عام انتخابات کے سلسلے میں ایک
دسمبر
سعد رفیق کا اہلِ لاہور کو پشاور و کراچی دیکھ کر آنے کا مشورہ
?️ 24 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر اور ن لیگی رہنما خواجہ سعد
اگست
کیا امریکہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کر سکے گا:انصاراللہ کی زبانی
?️ 30 جنوری 2025سچ خبریں:انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ایک بیان میں کہا کہ
جنوری