?️
سچ خبریں:صیہونی ریجیم کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک 14 کے خبری پورٹل، جو بنجمن نیتن یاہو سے وابستہ میڈیا کے حلقے میں شامل ہے ، نے واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ فلسطینی خودمختار ادارے کے معاشی زوال میں اسرائیل کا مرکزی کردار ہے۔
اس مضمون کے مصنف ایلیا آویو نے زور دے کر کہا کہ سال 2025 کے سرکاری معاشی اعدادوشمار بے مثال طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ خودمختار ادارے کا خزانہ پورا سال تقریباً خالی رہا ہے، جو خود اسرائیل کی خودمختار ادارے کے خلاف اختیار کردہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس نے اس ڈھانچے کے حالات کو بحرانی بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، فلسطینی خودمختار ادارے کے معاشی وزارت نے آج (سوموار) اعلان کیا کہ خودمختار ادارہ اپنے تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، منتقلی فنڈز– خودمختار ادارے کی طرف سے جمع کرائے گئے اسرائیلی درآمدی ٹیکس – میں معمولی 4.1 فیصد اضافے کے باوجود جو 10.53 ارب شیقل تک پہنچ گئے، ان فنڈز کی اکثریت کبھی بھی رام اللہ منتقل نہیں کی گئی۔
کل رقم میں سے، فلسطینی خودمختار ادارے نے صرف 1.95 ارب شیکل وصول کیے ہیں، جو اس کے لیے جمع کیے گئے فنڈز کا چھٹا حصہ سے بھی کم ہے۔
یہ خسارہ اسرائیل کی اس پالیسی کی وجہ سے ہے جس میں (فلسطینی مجاہدین) اور ان کے خاندانوں کو ادا کیے جانے کے بہانے مختص فنڈز ضبط کرنا، انہیں منجمد کرنا اور ان کے اکاؤنٹس سے کٹوتی کرنا شامل ہے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ فلسطینی خودمختار ادارے سے اسرائیل کو آخری رقم کی منتقلی مئی 2024 میں ہوئی تھی، اور اس وقت سے، فنڈز کی منتقلی کا سلسلہ تقریباً مکمل طور پر رک گیا ہے۔
اس عبرانی زبان میڈیا کے اعتراف کے مطابق یہ بحران صرف اسرائیلی معاوضوں تک محدود نہیں ہے؛ 7 اکتوبر (طوفان الاقصیٰ آپریشن) سے شروع ہونے والی جنگ کے نتائج (طویل المدت اور وسیع فلسطینی آبادی والے علاقوں کا مسلسل محاصرہ) نے فلسطینی خودمختار علاقوں کی معاشی سرگرمیوں میں شدید کمی کا باعث بنا ہے۔ سال 2025 میں فلسطینی خودمختار ادارے کی کل نقد آمدنی صرف 11.23 ارب شیکل رہی، جو سال 2023 کے مقابلے میں تقریباً 5 ارب شیکل کم ہے۔
مالی مشکلات واضح ہو رہی ہیں: فلسطینی خودمختار ادارے کو ملازمین کی تنخواہیں پوری ادا کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، فراہم کنندگان اور پرائیویٹ سیکٹر کے قرضے بڑھ رہے ہیں، اور سرکاری سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں۔ سال 2023 کے مقابلے میں فلسطینی خودمختار ادارے کے نقد اخراجات میں 2.39 ارب شیقل سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے، جو واضح طور پر رام اللہ میں سرکاری اداروں کے افعال کو برقرار رکھنے کی مشکلات کو ظاہر کرتا ہے۔
اعدادوشمار اسرائیل کی طرف سے بے مثال معاشی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں، حالانکہ فلسطینی خودمختار ادارہ سال 2022 کے اختتام پر کثیر نقد بہاؤ سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
بجٹ ضبط کرنے اور کٹوتی کی پالیسی نے کھیل کے قواعد بدل دیے ہیں، اور وہ معاشی ماڈل جس پر فلسطینی خودمختار ادارہ سالوں سے انحصار کرتا آیا تھا، کمزور ہو رہا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید پامالیاں، اقوام متحدہ نے بھارت کو بے نقاب کردیا
?️ 2 جون 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی
جون
پی ڈی ایم اے کا پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال بارے الرٹ جاری
?️ 20 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) پی ڈی ایم اے پنجاب نے شدید بارشوں کے
اگست
صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے، مراد علی شاہ
?️ 11 ستمبر 2022کراچی: (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے
ستمبر
شہباز شریف قطر پہنچ گئے
?️ 23 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف قطر کے امیر شیخ
اگست
سینیٹ کمیٹی میں سڑک اور ٹول پلازہ کی تعمیر کے دوران ٹول ٹیکس وصولی کا انکشاف
?️ 12 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں سڑک
مارچ
تل ابیب کا عرب ملک کے ساتھ گیس کا سب سے بڑا معاہدہ
?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: میڈیا رپورٹس کے مطابق، مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مصر کو
اگست
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی پابندیوں پر ردعمل، عہد شکنی کا الزام
?️ 11 جولائی 2026سچ خبریں: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا
جولائی
کیا ایک اور فلسیطنی کمانڈر شہید ہو گئے ہیں؟حماس کا الشرق الاوسط کی خبر پر رد عمل
?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں:فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے روزنامہ الشرق الاوسط کی جانب
نومبر