?️
سچ خبریں:غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے صہیونی افواج کی جانب سے اب تک 642 فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔
غزہ سنٹر فار ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں انکشاف کیا گیا کہ جنگ بندی کے بعد روزانہ اوسطاً 4.8 فلسطینی شہید ہو رہے ہیں۔
بیان کے مطابق شہداء میں 197 معصوم بچے، 85 خواتین اور 22 بزرگ شامل ہیں، جو کل شہداء کا 47.2 فیصد ہیں۔
1643 زخمی، بچے اور خواتین کی بڑی تعداد
انسانی حقوق کے اس ادارے کے مطابق جنگ بندی کے بعد اس عرصے میں مزید 1643 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں، یعنی روزانہ 12.3 افراد زخمی ہو رہے ہیں۔ ان زخمیوں میں 504 بچے، 330 خواتین اور 89 بزرگ شامل ہیں، جو کل زخمیوں کا 56.1 فیصد بنتے ہیں۔
جنگ بندی کی 133 دنوں میں 13.5 یومیہ خلاف ورزیاں
غزہ سنٹر فار ہیومن رائٹس نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد گزشتہ 133 دنوں میں حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق روزانہ اوسطاً 13.5 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان خلاف ورزیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت تحفظ یافتہ سینکڑوں افراد کو نشانہ بنایا گیا، جن میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ادارے نے اسے جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی امداد میں رکاوٹ، صرف 43 فیصد امداد داخل
ادھر، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ صرف بمباری اور قتل تک محدود نہیں ہے۔ فلسطینی مرکز حقوق بشر نے کہا کہ صہیونی حکومت معاہدے کی رو سے روزانہ غزہ میں داخل ہونے والے 600 امدادی ٹرکوں (جن میں 50 ایندھن کے ٹرک شامل ہیں) کی فراہمی یقینی بنانے میں بھی ناکام رہی۔ بیان کے مطابق اب تک صرف 43 فیصد امدادی ٹرک ہی غزہ میں داخل ہو سکے ہیں۔ مزید برآں، مقررہ ایندھن کا صرف 15 فیصد حصہ ہی آنے دیا گیا ہے۔
رفح کراسنگ پر پابندیاں عائد
مزید برآں، شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندیاں جاری ہیں۔ رفح کراسنگ کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں میں سے صرف 40.3 فیصد کو ہی گزرنے کی اجازت دی گئی، جو جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نقل و حرکت کی آزادی کی شق کی خلاف ورزی ہے۔
مرکز حقوق کا بین الاقوامی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ
غزہ سنٹر فار ہیومن رائٹس نے خبردار کیا کہ یہ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صہیونی حکومت غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب پر تلے ہوئے ہے، جس میں شہریوں کا براہ راست قتل اور ان کی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محرومی شامل ہے۔ فلسطینی مرکز نے ان جرائم پر بین الاقوامی برادری اور جنگ بندی معاہدے کے ضامن ممالک کی "شرمناک خاموشی” پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے فوری اقدام کرتے ہوئے ان حملوں کو روکنے، بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام یقینی بنانے اور صہیونی حکام کے خلاف بین الاقوامی تحقیقات کرکے انہیں ان کے جرائم کی سزا دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
عراق شام سرحد پر مقاومت کے خلاف عظیم امریکی منصوبے کا انکشاف
?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں: جمعرات کو عراقی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف نے
مارچ
پسند آنے والے لڑکے سے اظہار محبت کرلوں گی، حنا آفریدی
?️ 9 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) ابھرتی ہوئی ماڈل و اداکارہ حنا آفریدی نے کہا
ستمبر
دشمن کی فوج غزہ کی سرحد پر ڈھیر
?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کی عسکری شاخ سرایا القدس کے
اکتوبر
صیہونیوں کی مخالفت؛ زیر حراست بحرینی کارکن کے خلاف الزام
?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:بحرین میں انسانی حقوق کے ایک کارکن کو صیہونی حکومت کی
نومبر
استقامت بلاشبہ نابلس میں حملہ آوروں کے جرائم کا جواب دے گا
?️ 23 فروری 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیکریٹری جنرل زیاد النخالہ نے
فروری
تربت لانگ مارچ کے شرکا کی گرفتاریوں کے خلاف درخواست، فریقین 4 بجے تک ذاتی حیثیت میں طلب
?️ 21 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف
دسمبر
نیتن یاہو کے ممکنہ سیاست بدر ہونے پر حماس کا رد عمل
?️ 31 مئی 2021سچ خبریں:حماس کے ترجمان نے نیتن یاھو کے بغیر صیہونی حکومت میں
مئی
یمن میں غذائی عدم تحفظ دنیا کا سب سے بدترین قحط ہے: اقوام متحدہ
?️ 27 فروری 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں 16 ملین افراد
فروری