غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، اسرائیل کا ہٹ دھرمی پر اصرار

غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، اسرائیل کا ہٹ دھرمی پر اصرار

?️

غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، اسرائیل کا ہٹ دھرمی پر اصرار
 اسرائیل کی جانب سے اپنے قیدیوں کی لاشوں کی واپسی پر اصرار غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جبکہ ترکیہ اس معاہدے کو مستحکم کرنے اور غزہ کے انتظام میں بین الاقوامی کردار کے تعین کے لیے وزرائے خارجہ کی سطح پر اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔
عرب روزنامہ الاخبار کے مطابق، قاہرہ، دوحہ اور انقرہ میں جاری سفارتی کوششوں کا مقصد نازک جنگ بندی کو بچانا ہے۔ تاہم اسرائیل صرف اپنے قیدیوں کی لاشوں کی واپسی پر توجہ دے رہا ہے اور کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق، ثالثوں نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل صرف رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا یہ رویہ معاہدے کے تسلسل کو خطرے میں ڈال رہا ہے کیونکہ معاہدہ مختلف مراحل میں بتدریج نفاذ پر مبنی ہے، جو موجودہ پیچیدہ حالات میں مشکل ہو گیا ہے۔
ان پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے ترکیہ نے آج ایک اہم اجلاس بلایا ہے جس میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں جن کے نمائندوں نے گزشتہ ماہ نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ توقع ہے کہ ترکیہ فلسطینیوں کی سیکیورٹی اور غزہ کے انتظام کی ذمہ داری ان کے اپنے ہاتھوں میں دینے کی ضرورت پر زور دے گا۔
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اس اجلاس میں اس بات پر زور دیں گے کہ اسرائیل جنگ بندی کو ختم کرنے کے لیے “بہانے تراش” رہا ہے۔ انقرہ نے عالمی برادری سے اسرائیلی “اشتعال انگیز اقدامات” کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
فیدان اس بات پر بھی زور دیں گے کہ اسلامی ممالک مشترکہ ہم آہنگی کے ساتھ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کریں، غزہ کو دی جانے والی انسانی امداد ناکافی ہے، اور اسرائیل اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہا۔
ذرائع کے مطابق، مصر نے امریکا اور اسرائیل کے غیر واضح موقف کے باعث غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق اجلاس مؤخر کر دیا ہے۔ مصری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں وہ طے شدہ مفاہمتوں سے کہیں کم ہیں، اور اسرائیل کی خواہشات کو اس کی ذمہ داریوں کے بغیر تسلیم کرنا ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا “کان” کے مطابق، امریکا غزہ میں بین الاقوامی فورس کے قیام پر کام کر رہا ہے جس سے تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل ترکیہ کی کسی بھی فوجی موجودگی کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے ترکیہ کو غزہ میں اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے کسی “یونیفل یا آندوف” طرز کی بین الاقوامی فورس کے قیام کے بھی خلاف ہے، لیکن امریکا کے دباؤ پر ترکیہ کو کم از کم تعمیرِ نو کے مرحلے میں شامل کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
درایں اثنا، مصری حکام نے واضح کیا ہے کہ قاہرہ صرف اسی صورت میں بین الاقوامی فورس کا حصہ بنے گا جب اسے سلامتی کونسل کی حمایت حاصل ہو، اور وہ کسی عارضی یا غیر واضح معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔

مشہور خبریں۔

چین کے صدر کا سعودی عرب کے بادشاہ کے نام تحریری پیغام

?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:  سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو چینی صدر

لبنان کے کسی بھی علاقے پر اسرائیلی حملے پورے ملک کے خلاف جارحیت ہے، نبیہ بری

?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں: موصل کے علاقے اور اس علاقے میں شہری تنصیبات پر

سید حسن نصراللہ کی تدفین میں شرکت کرنے کے جرم میں برطانوی پروفیسر گرفتار

?️ 1 مارچ 2025 سچ خبریں:برطانوی جامعہ شناس اور محقق پروفیسر ڈیوڈ ملر نے انکشاف

فلسطینی قیدیوں نے صیہونی حکومت کی ہوا نکال دی:جہاد اسلامی

?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے ایک سینئر رکن نے تاکید

عدلیہ پر حملہ آور ہو کر ملک کو فاشزم کی جانب دھکیلا جارہا ہے، عمران خان

?️ 30 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران

بغداد نے داعش کے قیدیوں کی شام سے عراق منتقلی کیوں قبول کی؟

?️ 16 فروری 2026 سچ خبریں:اس رپورٹ کی تیاری کے وقت، عراق نے تقریباً 500

اربعین مارچ میں کتنے لوگ شریک ہوں گے؟

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں: عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے ترجمان نے آج پیش گوئی

بھارت نے نیلم جہلم منصوبے کو نقصان پہنچایا، 26 شہری شہید ہوئے، ترجمان پاک فوج

?️ 7 مئی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے