?️
غزہ میں بم اور راکٹ شہریوں کے لیے نیا خطرہ بن گئے
نوارِ غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود، غیر پھٹے بم اور گولہ بارود اب بھی فلسطینی شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بموں کی موجودگی سے آوارہ برداری اور بحالی کے کام میں جانی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ خنثی کرنے کے لیے ضروری آلات بھی دستیاب نہیں ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے شہاب کے مطابق، غزہ کی شہری دفاعی تنظیم کے ترجمان محمود بصل نے خبردار کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں بڑی تعداد میں غیر پھٹے گولے اور راکٹ موجود ہیں، جس سے صورتحال جنگ کے بعد مزید خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران شہری دفاع کے متعدد انجینئرنگ ماہرین شہید ہو چکے ہیں، جس سے بم ناکارہ بنانے کی صلاحیت مزید متاثر ہوئی ہے۔ بصل نے کہا کہ بھاری مشینری اور آلات کی شدید کمی ہے کیونکہ بیشتر سامان اسرائیلی حملوں میں تباہ ہو چکا ہے، اور اب خنثی کاری کی ٹیمیں محدود وسائل کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔
ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک شے کو ہاتھ نہ لگائیں، ان کے قریب نہ جائیں، اور ایسی جگہوں پر انتباہی نشانیاں لگائیں تاکہ شہری دفاع کے عملے کو اطلاع دی جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ملبہ ہٹانے کے دوران ان بموں کے پھٹنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، جس سے امدادی کارکنوں اور آوارہ برداری کرنے والے مزدوروں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
بصل نے مزید بتایا کہ ہزاروں خاندان جب اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف واپس جا رہے ہیں، تو خاص طور پر شمالی اور مرکزی غزہ میں خوف پایا جاتا ہے کہ ملبے یا عمارتوں کے اندر غیر پھٹے راکٹ یا بم موجود ہو سکتے ہیں۔
ادھر العربی الجدید کے مطابق، غزہ کی تباہی کی حالیہ بین الاقوامی تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ علاقے کی مکمل بحالی کے لیے 50 سے 80 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رہائشی مکانات کو سب سے زیادہ، یعنی 70 فیصد سے زائد نقصان پہنچا ہے، جبکہ باقی نقصان تعلیم، صنعت، پانی اور نکاسی کے نظام کو متاثر کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ 17 اکتوبر 2024 کو حماس نے باضابطہ طور پر جنگ کے خاتمے اور اسیران کے تبادلے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا، جبکہ اگلے دن اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے نفاذ کی تصدیق کی۔
تاہم، فلسطینی ذرائع کے مطابق، اسرائیل اب بھی جنگ بندی کی پہلی مرحلے کی شقوں پر عملدرآمد میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کر رہا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
امریکی فضائیہ کا یمن کے فضائی دفاعی نظام کی طاقت کا اعتراف؛ ایف-16 میزائل حملے کا نشانہ
?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی فضائیہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایف-16 اسکواڈرن کے
نومبر
اندرون ملک بغیر کورونا ویکسی نیشن کے ہوائی سفر کرنے پر پابندی عائد ہو گئی
?️ 31 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں) کورونا ویکسی نیشن کے بغیر اندرون ملک ہوائی سفر
جولائی
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل، قانون بن گیا
?️ 21 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عدالتی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر)
اپریل
صیہونیوں کی آرزؤ ڈراؤنے خواب میں تبدیل
?️ 20 فروری 2022سچ خبریں:اسرائیل اور امریکہ کا خواب ہے کہ قاہرہ اور تل ابیب
فروری
نصراللہ کی شہادت سے حزب اللہ کمزور نہیں ہوگی؛ وجہ؟
?️ 3 اکتوبر 2024سچ خبریں: شہید سید حسن نصر اللہ لبنان میں حزب اللہ کے
اکتوبر
چین اور روس نے تیسری مشترکہ میزائل شکن مشق کی
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: چین کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ چین
دسمبر
ٹرمپ کا یمن میں بحری کارروائیوں کی تاثیر کا اعتراف
?️ 1 اپریل 2025سچ خبریں: صدر ٹرمپ نے یمن کے خلاف اس ملک کی جارحیت
اپریل
امریکی قرارداد فلسطینیوں پر غیر ملکی قیمومیت کو جائز قرار دیتی ہے:یمن
?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں:یمنی وزارتِ خارجہ نے سلامتی کونسل کی امریکی قرارداد غزہ کی
نومبر