غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا، بنیادی ڈھانچے تباہ، عالمی اداروں کی سنگین وارننگ

غزہ

?️

غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا، بنیادی ڈھانچے تباہ، عالمی اداروں کی سنگین وارننگ
 نوارِ غزہ میں جاری جنگ بندی کے باوجود انسانی صورتحال بدترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ علاقے کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جبکہ صحت عامہ کے نظام کے انہدام اور مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، عالمی کمیٹی برائے صلیبِ سرخ نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے دوران مارے جانے والوں کی لاشوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہی ہے، تاہم یہ عمل "بہت ہی مشکل اور حساس” ہے۔ ادارے نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ غزہ میں پانی، بجلی اور نکاسی آب کا نظام یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے یا تباہی کے دہانے پر ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، غزہ میں 15 ہزار 600 سے زائد مریض فوری طور پر طبی انخلا کے منتظر ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسانی صورتحال انتہائی بحرانی ہے اور بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ ادارے نے زور دیا کہ طبی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولا جائے تاکہ مریضوں کو علاج کے لیے علاقے سے باہر منتقل کیا جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران 15 ہزار سے زیادہ افراد کے اعضا ضائع ہو چکے ہیں اور انہیں فوری طور پر بحالی اور معالجاتی سہولیات درکار ہیں۔
دوسری جانب، یونیسف (UNICEF) کی ترجمان تیس اینگرام نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ امدادی ٹیمیں پورے غزہ میں سرگرم ہیں اور امدادی اشیاء کی تقسیم جاری ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ حالات میں بچوں کے لیے عارضی پناہ گاہیں، کمبل اور بنیادی اشیاء فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2024 سے امداد کی محدود اجازت دی گئی ہے، مگر رکاوٹیں اور تاخیر ابھی بھی بڑی چیلنج ہیں۔
یونیسف کی نمائندہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ غزہ کی گزرگاہیں مکمل طور پر کھولی جائیں اور امدادی سامان کے بہاؤ میں اضافہ کیا جائے تاکہ لاکھوں متاثرین تک فوری مدد پہنچ سکے۔
درایں اثنا، صلیب سرخ نے تمام فریقین اور ثالث ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ لاشوں کے تبادلے کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ جاں بحق افراد کی باقیات جلد از جلد ان کے خاندانوں تک پہنچ سکیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر حملہ دو مقاصد کے تحت شروع کیا تھا — حماس کا خاتمہ اور اسرائیلی قیدیوں کی بازیابی۔ تاہم، تل ابیب ان اہداف میں ناکام رہا اور بالآخر اسے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی پر رضامند ہونا پڑا۔
طویل جنگ کے دوران اسرائیل نے رہائشی علاقوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر شدید بمباری کی، جسے عالمی ماہرین نے جنگی جرائم اور نسل کشی قرار دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے حماس نے ایک باضابطہ بیان میں جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا اعلان کیا، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی آتش‌بس کے نفاذ کی تصدیق کی۔
معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج غزہ کے چند مخصوص علاقوں میں موجود رہیں گی، جبکہ شمال اور جنوب کے درمیان الرشید اسٹریٹ اور صلاح‌الدین روڈ کے ذریعے آمدورفت کی اجازت ہوگی۔

مشہور خبریں۔

فیکٹ چیک: بھارتی میڈیا پر کراچی پر حملے کی ویڈیو جعلی ہے

?️ 9 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کی جانب سے

کراچی کے بجلی صارفین سے 12 ماہ تک ایک روپے 52 پیسے فی یونٹ سرچارج وصولی کی منظوری

?️ 22 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے

آرمینیا سے اس کی خودمختاری چھین کر زنگہ زور کوریڈور کے لیے نیا امریکی منصوبہ

?️ 3 جولائی 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے جمہوریہ آذربائیجان سے آرمینیائی سرزمین سے

غزہ کی جنگ میں صیہونی حکومت کے جانی و مالی نقصانات کی نئی تفصیلات

?️ 5 جنوری 2024سچ خبریں:اسرائیلی میڈیا نے اس حکومت کی وزارت جنگ کے حوالے سے

ایران جیسے طاقتور ملک کا جوہری پروگرام فوجی طریقے سے حل نہیں ہو سکتا: گروسی

?️ 11 جولائی 2025سچ خبریں: رافائل گروسی، ڈائریکٹر جنرل آف دی انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی

کرپشن یا نظام کوکون ٹھیک کرے گا؟ آئی ایم ایف نے سوالات اٹھا دیے ہیں: تیمور جھگڑا

?️ 22 نومبر 2025اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے

امریکی، قطری اسرائیلی اجلاس اور فلسطینی وفد پر حملے کے پسِ پردہ حقائق

?️ 13 دسمبر 2025 امریکی، قطری اسرائیلی اجلاس اور فلسطینی وفد پر حملے کے پسِ

مقبوضہ کشمیر میں اپنی پارٹی نے دفعہ 370 کی بحالی کے لیئے اہم بیان جاری کردیا

?️ 23 جون 2021سرینگر (سچ خبریں)  مقبوضہ کشمیر میں اپنی پارٹی نے دفعہ 370 کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے