غزہ بچوں کے لیے دنیا کی سب سے جان لیوا پٹی

غزہ

?️

غزہ بچوں کے لیے دنیا کی سب سے جان لیوا پٹی
غزہ کی پٹی اس وقت بچوں کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ بن چکی ہے۔ موسم سرما 2025 غزہ کے بچوں کے لیے ایک مکمل انسانی المیے میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں شدید سردی، بارشوں، گرم کپڑوں، کمبل اور حرارتی وسائل کی کمی نے ہزاروں بچوں کی جان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
دنیا بھر میں جنگیں اور مسلح تنازعات ہمیشہ سب سے زیادہ اثر کمزور اور بے دفاع طبقات پر ڈالتے ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک عارضی انسانی بحران یا محدود فوجی تصادم نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے لیے زندگی کے تمام بنیادی امکانات کے خاتمے کی واضح مثال ہے۔ وہ نسل جو فلسطین کا مستقبل بن سکتی تھی، آج موت، بھوک اور بے گھری کے محاصرے میں ہے۔
رپورٹس کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد بچے ایسے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو سردی اور بارش سے کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ ان حالات نے سانس کی بیماریوں، غذائی قلت اور بتدریج اموات کے خطرے کو انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے، جہاں زندہ رہنا روزانہ کی جدوجہد بن چکا ہے۔
غزہ 2007 سے اسرائیلی محاصرے کا شکار ہے، جس نے بتدریج اس علاقے کے تمام بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے۔ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ نے اس بحران کو بے مثال سطح تک پہنچا دیا، جہاں مسلسل بمباری، غیر شہری تنصیبات کی منظم تباہی، خوراک اور ادویات کی ناکہ بندی اور تعلیمی و طبی مراکز کو نشانہ بنانا بچوں کی زندگی کو موت کے میدان میں بدل چکا ہے۔
اقوام متحدہ، یونیسف اور دیگر بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق غزہ میں دس لاکھ سے زائد بچے بیک وقت کئی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں بھوک، بیماری، بے گھری، معذوری، یتیمی اور شدید نفسیاتی صدمات شامل ہیں۔
غزہ میں جنگ نے بچوں کے تعلیمی مستقبل کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ تعلیم جو بچوں کا بنیادی حق اور غربت و تشدد کے چکر کو توڑنے کا اہم ذریعہ ہے، عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ غزہ کا تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے، زیادہ تر اسکول یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 95 فیصد سے زائد اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ بچے رسمی تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔
غذائی بحران غزہ میں جنگ کا خاموش ہتھیار بن چکا ہے۔ محاصرے کے باعث خوراک، دودھ، غذائی سپلیمنٹس اور بنیادی اشیاء کی فراہمی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ یونیسف کے مطابق 93 فیصد سے زائد بچے شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ہزاروں بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہیں، جس کے اثرات جسمانی کمزوری سے لے کر دماغی نشوونما کی شدید رکاوٹ تک پھیل جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے دوران اوسطاً روزانہ 28 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو روزانہ ایک مکمل کلاس کے ختم ہونے کے مترادف ہے۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی عمر میں غذائی قلت بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت کو 20 فیصد تک کم کر دیتی ہے، اور غزہ میں بہت سے بچے باسی ڈبہ بند خوراک یا خشک روٹی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
صحت کا نظام بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کے 70 فیصد سے زائد طبی مراکز کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ادویات، طبی آلات اور عملے کی شدید کمی کے باعث عام بیماریاں بھی جان لیوا بن چکی ہیں۔ صاف پانی اور نکاسی آب کے نظام کی تباہی نے متعدی بیماریوں کو مزید پھیلایا ہے۔
گھروں کی وسیع پیمانے پر تباہی نے ایک ملین سے زائد بچوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ 70 فیصد سے زیادہ رہائشی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں، اور خاندان خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں نہ حفاظت ہے اور نہ انسانی زندگی کے بنیادی معیار۔
اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 40 ہزار بچے شدید زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ مستقل معذوری کا شکار ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 50 ہزار سے زائد بچے شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 39 ہزار سے زیادہ بچے یتیم ہو چکے ہیں۔
نفسیاتی طور پر بھی غزہ کے بچے ایک بے مثال بحران سے گزر رہے ہیں۔ یونیسف کے مطابق غزہ میں کوئی بھی بچہ ایسا نہیں جو نفسیاتی مدد کا محتاج نہ ہو۔ مسلسل بمباری، خوف، والدین کی موت اور بے گھری نے بچوں میں ڈپریشن، شدید اضطراب، خوفناک خواب اور ذہنی دباؤ کو معمول بنا دیا ہے۔
مجموعی طور پر غزہ کے بچوں کی صورتحال محض ایک عارضی انسانی بحران نہیں بلکہ ایک منظم انسانی اور ثقافتی تباہی ہے۔ وہ بچے جو زندگی، امید اور مستقبل کی علامت ہونے چاہئیں، آج جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر بربادی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ المیہ نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے گا۔

مشہور خبریں۔

پی ٹی آئی پر پابندی کے اغراض و مقاصد

?️ 17 جولائی 2024سچ خبریں: وزیر اعظم شہباز شریف نے چند ہفتے قبل قومی اسمبلی

نیتن یاہو کی دھمکیاں ہماری جدوجہد کو ہرگز نہیں روک سکتیں:حماس

?️ 11 اپریل 2023سچ خبریں:نیتن یاہو کے حالیہ بیان کے جواب میں اسلامی مزاحمتی تحریک

عراقی آئین صیہونیوں سے کسی بھی تعلق کی اجازت نہیں دیتا: عراقی پارلیمنٹ ممبر

?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:عراقی پارلیمنٹ میں بدر دھڑے کے ایک رکن نے اس ملک

کورونا نے 150,000 ہندوستانی بچوں کو یتیم کر دیا

?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں:  ہندوستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی

ایمل ولی نے سینیٹ میں اپنی تقریر پر وزیراعظم سے معافی مانگ لی

?️ 8 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ

مقبوضہ فلسطین میں نیتن یاہو کے خلاف چھتیس ہفتے سے مظاہرے جاری

?️ 28 فروری 2021سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم کے خلاف مسلسل 36 ویں ہفتےسے جاری مظاہروں

ہم کبھی کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ بلاول بھٹو

?️ 19 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا

دارالحکومت میں شیعہ سنی اتحاد کی گونج

?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں: دارالحکومت میں ہفتہ وحدت کی مناسبت سے اسلامی مذاہب کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے