صیہونیوں کے لیے ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی نتائج، شہریوں کی زبانی 

ایران

?️

سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” نے ہفتہ کے شمارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کے پس منظر میں اسرائیل کی مشکل اور تکلیف دہ حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
 رپورٹ میں وسیع پیمانے پر تباہی، بے گھری، املاک کے نقصان، اور بیوروکریسی کے شکنجے میں پھنسے خاندانوں کی داستانیں بیان کی گئی ہیں۔
گزشتہ اتوار، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان سے کچھ دیر پہلے، ایک میزائل نے تل ابیب کے شمالی علاقے کو نشانہ بنایا۔ "یدیعوت احرونوت” نے تین ایسے خاندانوں سے بات کی جن کے گھر اس واقعے میں شدید متاثر ہوئے تھے۔
فشر ڈکسن، جو اپنے خاندان کے ساتھ 28 سال سے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہے تھے، کہتے ہیں کہ میرا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ چھت گر گئی، کھڑکیاں اپنے فریم سے باہر آ گئیں، اور دیواریں بھی ڈھیر ہو گئیں۔ لیکن یہ جنگ کے صرف مادی نقصانات تھے۔ ان کے مطابق، "بیوروکریسی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہم ابھی تک ایک اندازہ کنندہ (ایسسیسر) کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن تل ابیب میں تباہی کے وسیع پیمانے کی وجہ سے ہمارے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ ہم نے متعلقہ ادارے (پراپرٹی ٹیکس اتھارٹی) کو فون کیا، لیکن انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ اب ہم ای میل کے ذریعے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر کی مرمت اور فرنیچر کی تبدیلی کے لیے معاوضے کے متعدد دعوے کیے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ فی الحال، میرا خاندان ایک ہوٹل میں رہ رہا ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمیں صرف 22 جولائی تک ہوٹل میں رہنے کی اجازت ہے۔ اگر ہمیں کوئی نیا اپارٹمنٹ نہیں ملا، تو ہمیں تل ابیب کے روچیلڈ اسکوائر میں خیمہ لگانا پڑے گا۔ کرایے پر گھر مل سکتا ہے، لیکن متعلقہ اداروں کو پہلے مرمت کے دوران کرایے کی ادائیگی کی ضمانت دینی ہوگی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، تو ہمیں اپنی جیب سے ادائیگی کرنی پڑے گی، جو ہمارے لیے ناممکن ہے۔
میراو چیرنشوفسکی، ایک اور متاثرہ شہری، نے بتایا کہ جب الارم بجا، ہم پناہ گاہ میں چلے گئے۔ جب باہر نکلا، تو میں نے مکمل تباہی دیکھی۔ میں صرف قیمتی سامان لے کر بھاگا تھا، لیکن میرا اپارٹمنٹ اور گھر کا سارا سامان تباہ ہو چکا تھا۔ اس لمحے سے ہم بے گھر ہو گئے۔ ہم رشتہ داروں کے گھر گھر گئے، اور اب عارضی طور پر یافا کے ایک ہوٹل میں رہ رہے ہیں۔ ہم ابھی تک اندازہ کنندہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نہ تو معاوضہ مل رہا ہے اور نہ ہی بحالی کا کوئی عمل شروع ہوا ہے۔ ہوٹل میں رہنا مشکل ہے — کھانا پکانے کی اجازت نہیں، صرف تین وقت کا کھانا ملتا ہے۔ اگر آپ ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیتے ہیں، تو بھوکے رہ جاتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ سب نے ہمیں نظر انداز کر دیا ہے۔
ڈینیلا عمرام، جو رامات اویو کے علاقے میں 15 سال سے رہ رہی تھیں، نے بتایا کہ جب الارم بجا، ہم پناہ گاہ میں چلے گئے۔ پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا، اور سب کچھ تاریکی میں ڈوب گیا۔ جب ہم باہر آئے، تو کچھ بھی اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ میں نے اپنا اپارٹمنٹ دیکھا تو رونے لگی — کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا۔ ہمیں ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن صرف 30 جولائی تک۔ اس کے بعد کہاں جائیں گے؟ کوئی جواب نہیں۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ کے متنازع انتخاب سے شام میں امریکی غلطیوں تک؛عربی اخباروں کی سرخیاں

?️ 24 نومبر 2024سچ خبریں:نئے امریکی صدر کے حساس عہدوں کے لیے متنازع شخصیات کی

سات اکتوبر کا واقعہ صہیونی مظالم کا فطری ردعمل تھا

?️ 8 اکتوبر 2025سات اکتوبر کا واقعہ صہیونی مظالم کا فطری ردعمل تھا  فلسطینی تحریک

خطہ میں تکفیری دہشتگردی کو پھر سے سر نہیں اٹھانے دیں گے: ایران

?️ 27 فروری 2021سچ خبریں:ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری نے کہاکہ ایران اور

دہشتگردی کیخلاف پوری قوم پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے۔ راجہ پرویز اشرف

?️ 11 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم

کورونا میں کمی کے بعد ڈینگی کیسز میں تیزی سے اضافہ

?️ 4 اکتوبر 2021لاہور/ اسلام آباد (سچ خبریں)پاکستان میں کورونا وائرس کی تیزی میں کمی

وزیر خزانہ کی دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ترقی میں شامل ہونے کی دعوت

?️ 28 اپریل 2025واشنگٹن: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دنیا بھر

اسرائیل کے شام پر قبضہ کرنے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں: شام کی حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد صیہونی حکومت

روس اور تاجکستان کے درمیان ثقافتی تعاون بڑھتا ہوا

?️ 2 اپریل 2022سچ خبریں:  ماسکو میں تاجکستان کے سفیر دولت شاہ گول محمد زادہ نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے