سعودی عرب تیل کی برآمد کی صلاحیت کھونے کے قریب : عبرانی میڈیا

سعودی عرب

?️

سچ خبریں: اقتصادی اور تخصصی عبرانی زبان کے پلیٹ فارم بزپورٹل نے اس حوالے سے ایک رپورٹ میں اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو نظرانداز کرنے والی پائپ لائن، ان ڈرون حملوں کے بعد جو دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ناکارہ ہو گئی اور ینبع بندرگاہ میں باقی ماندہ ذخیرہ صرف ایک ہفتے کے لیے کافی ہے۔
اس رپورٹ کے ایک حصے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے مشرق سے مغرب تک تیل کی پائپ لائن کو بند کر دیا، اس کے بعد کہ اس کے کم از کم دو مقامات ریاض اور مدینہ منورہ کے علاقوں میں عراق سے داغے گئے ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔
یہ پائپ لائن محض ایک معمولی علاقائی بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہیں ہے، کیونکہ یہ ملک کے مشرق میں تیل کے میدانوں سے بحیرہ احمر کے ساحل پر ینبع بندرگاہ تک تقریباً 1200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے، جو چھ ماہ سے زائد عرصے قبل بھڑکی تھی، یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر سعودی عرب کے تیل کی منڈیوں تک منتقلی کی مرکزی شریان رہی ہے۔
اس ویب سائٹ نے لکھا کہ اس پائپ لائن کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کی پیش رفت پر ایک نظر کافی ہے۔ جنگ سے قبل، یہ پائپ لائن روزانہ ایک ملین بیرل سے کم منتقل کرتی تھی۔ مارچ میں، اس ملک نے اس کی توسیع کی اطلاع دی اور اسے اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت یعنی سات ملین بیرل یومیہ تک پہنچا دیا، جس میں سے تقریباً دو ملین بیرل اندرونی استعمال کے لیے تھا۔ دوسرے الفاظ میں، صرف چند مہینوں میں، یہ پائپ لائن دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ کے لیے ایک متبادل سے ایک حیاتیاتی شریان میں تبدیل ہو گئی۔
پائپ لائن کی بندش کے بعد، ریاض کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں بچا جو اس نے ینبع بندرگاہ میں ذخیرہ کر رکھا تھا۔ اس شعبے کے تخمینے بتاتے ہیں کہ ذخائر صرف ایک ہفتے کے لیے کافی ہیں؛ لہٰذا آنے والا ہفتہ مارکیٹ کی تنگی کی حد کو آشکار کر دے گا۔ اس کے علاوہ، مغربی ساحل سے برآمدات مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں، الا یہ کہ پائپ لائن دوبارہ چالو کر دی جائے۔
بزپورٹل نے لکھا کہ واحد متبادل یہ ہے کہ تیل کو اس کے سرچشمے یعنی آبنائے ہرمز کی طرف واپس لوٹایا جائے۔ اس امر کا سبب بنے گا کہ زیادہ سے زیادہ پانچ ملین بیرل یومیہ، جو مغرب کی طرف بہنے والا تھا، خلیج فارس کی طرف واپس جائے۔ کوئی بھی درست طور پر نہیں جانتا کہ عملی طور پر کتنا تیل منتقل کیا جا سکتا ہے، اور بالکل یہی ابہام ہے جو قیمتوں کا تعین کرتے وقت مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ہرمز میں نافذ نئے قواعد کی وجہ سے اس قسم کا کوئی بھی گزر خود ایک مذاکرات کی مانند بن جاتا ہے۔
یہ امر ایسی حالت میں ہے کہ اس عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق اس مسئلے کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے؛ کیونکہ وہ بحری جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے لوکیشن ٹریکنگ آلات بند کر دیتے ہیں، لہٰذا ڈیٹا نامکمل ہے۔
یہ صیہونی اطلاعاتی پلیٹ فارم اس تحریر کے ایک اور حصے میں اعتراف کرتا ہے کہ اس بحران کا اثر خطے اور حتیٰ کہ تیل کے معاہدوں سے بھی آگے ہے اور اس کے دائرے میں امریکہ بھی شامل ہو چکا ہے۔
اس عبرانی زبان کے میڈیا نے زور دیا کہ امریکہ میں، پیر کے روز ایندھن اسٹیشنوں پر ڈیزل کی اوسط قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ پٹرول کی اوسط قیمت 4.3163 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 16 سینٹ کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
یہ ایک غیر معمولی امر ہے، کیونکہ گرمیوں کے سفر کا موسم ختم ہو چکا ہے اور قیمتیں عام طور پر ستمبر سے کم ہونے لگتی ہیں۔
ان سب کے علاوہ، ایک اور مسئلہ بھی افق پر نمودار ہو رہا ہے اور وہ ہے پالائش شدہ مصنوعات کی مارکیٹ، جو خود پہلے سے مشرق وسطیٰ اور روس میں پالائش گاہوں کی بندش کی وجہ سے بحران کا شکار ہے۔
یہ میڈیا آخر میں بھی زور دیتا ہے کہ خلاصہ کلام یہ ہے کہ صورتحال کا اندازہ اب آج کی قیمت سے نہیں لگایا جائے گا، بلکہ تین عملی سوالات کے ذریعے کیا جائے گا کہ ینبع میں ذخائر کے کتنے دن باقی ہیں، روزانہ عملاً کتنے بیرل آبنائے ہرمز کے ذریعے نکالے جا رہے ہیں، اور اس کام کے لیے نقل و حمل پر کتنا خرچ آئے گا۔ جب تک ان تین سوالات کا واضح جواب موجود نہ ہو، مارکیٹ بدترین منظرنامے کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیتی رہے گی۔

مشہور خبریں۔

پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ طلال چودھری

?️ 27 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیر

یورو ویژن کے فاتح گلوکار کا اسرائیل کو ’مقابلے‘ سے باہر کرنے کا مطالبہ

?️ 23 مئی 2025سچ خبریں: 2025 کے یورو ویژن سونگ کانٹیسٹ میں فتح حاصل کرنے

سعودی عرب سے قیدیوں کو لے کر یمن جانے والا پہلا طیارہ

?️ 6 مئی 2022سچ خبریں:  آج جمعہ کو سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے

سرکاری جامعات قومی خزانے پر بوجھ، فنڈنگ بند کرنے کا مطالبہ

?️ 15 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) تمام سرکاری شعبے کی جامعات کو خودانحصار اور پائیدار

صیہونی ریاست کی جانب سے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟

?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو

قدس کی تلوار سے بھی سخت جواب کا منتظر رہے دشمن: فلسطینی استقامت

?️ 29 مئی 2022سچ خبریں:   قدس کے پرانے حصے میں فلیگ مارچ نامی اشتعال انگیز

پاکستان کا بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ، نوٹم جاری

?️ 20 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود مزید

صیہونی پالیسیاں نسلی امتیاز بر مبنی ہیں؛ یورپی عہدیدار کا کم‌سابقہ اعتراف

?️ 13 جون 2026سچ خبریں:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاویہ کالاس نے غیرعلنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے