سعودی جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار،سعودی عالم کے بیٹے کی زبانی

سعودی

?️

سچ خبریں:سعودی عالم دین کے بیٹے نے آل سعود کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کی حالت زار کے بارے میں ویڈیو جاری کی ہے۔

سعودی عالم دین عوص القرنی کے بیٹے ناصر القرنی نے ایک ویڈیو میں اعلان کیا ہے کہ سیاسی قیدی حراستی مراکز میں پلاسٹک کے گندے کنٹینرز میں کھانا کھاتے ہیں اور ان کے حراستی مراکز میں ہوا صاف کرنے والے آلات نہیں ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے قیدی طویل عرصے تک ایسے حالات میں رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے بھی بتایا کہ وہ اپنے بچوں سے بات چیت کے لیے بہت زیادہ اخراجات اٹھا رہے ہیں،ناصر القرنی نے اپنے صارف اکاؤنٹ پر ایک کلپ شائع کی جس میں انہون نے کہا کہ میں ناصر ہوں اور میرے والد ڈاکٹر عوض القرنی ہیں جنہیں سعودی حکام پھانسی دینا چاہتے ہیں، آج میں اس ویڈیو میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنا ملک چھوڑ کر کسی محفوظ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے والد کے دفاع کے لیے سعودی عرب کو چھوڑا ہے اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ ملک کے اندر رہ کر بات کرنے پر گرفتار کر لیا جاتا ہے بلکہ جب میں خاموش رہا تب بھی مجھے گرفتار کیا گیا، صرف اس لیے کہ میں ڈاکٹر عوض القرنی کا بیٹا ہوں۔

گرفتاریوں کی لہر ستمبر 2017 میں 21 افراد کی گرفتاری کے ساتھ شروع ہوئی، جن میں سے زیادہ تر نامور عالم دین تھے جن میں سلمان العودہ،عوض القرنی اور علی العمری شامل تھے،اس کے بعد سے وہ بغیر کسی مقدمے کے نظر بند ہیں جب کہ انسانی حقوق کے بہت سے حلقے اور حزب اختلاف ان کے خلاف سزائے موت کے اجراء پر پریشان ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی جیلوں میں وقتاً فوقتاً منعقد ہونے والی اجتماعی تقریبات میں قیدی ایک بڑے ہال میں داخل ہوتے ہیں اور پھر انہیں زبردستی برہنہ کرکے لاٹھیوں اور لوہے کی زنجیروں سے مارا جاتا ہے اور کئی اہلکار اور افسران بیٹھ کر یہ سب منظر دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب سیاسی قیدیوں کے خلاف طرح طرح کے ذہنی اور جسمانی تشدد کرتا ہے جنہیں بعد میں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ دوران حراست انہیں مار پیٹ اور زبردستی ملک بدری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بعض صورتوں میں بہت طویل ہوتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی حکام قیدیوں کے خلاف جسمانی تشدد کے غیر انسانی طریقے استعمال کرتے ہیں جن میں بجلی کے جھٹکے، نیند کی کمی، مار پیٹ، ناخن کھینچنا، الٹا لٹکانا اور دیگر حربے شامل ہیں، جن کا مقصد حراست میں لیے گئے شخص کو دوران تفتیش اعتراف جرم کرنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔

 

مشہور خبریں۔

یاسمین راشد کا 9 مئی مقدمات میں سزاؤں کیخلاف عدالت سے رجوع

?️ 9 جنوری 2026لاہور (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے

190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت، اڈیالہ جیل میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات

?️ 13 مارچ 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی

تل ابیب اور واشنگٹن کے تعلقات کشیدہ

?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: المیادین نیٹ ورک نے صہیونی میڈیا کے حوالے سے خبر دی

ابھیشیک بچن کا اہم اعتراف

?️ 10 جولائی 2023سچ خبریں: بالی وڈ میں اداکاری کے شہنشاہ امیتابھ بچن کے صاحبزادے

پیگاسس اسرائیلی کمپنی کے ڈائریکٹر کا استعفیٰ

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:    صیہونی این ایس او کمپنی کے ایک اہلکار پیگاسس

نریندر مودی کے دورے کے موقع پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہڑتال

?️ 7 مارچ 2024سرینگر: (سچ خبریں)  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر قانونی طور

ملک کے حالات دیکھ کر گیم چینجر پریشان ہیں کہ یہ کیا ہوگیا، شیخ رشید

?️ 23 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ

کولمبیا کا مطالبہ: یورپ اور لاطینی امریکہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے معطل کریں

?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں: کولمبیا کے صدر نے لاطینی امریکہ اور یورپی ممالک سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے