زیلنسکی کی منجمد روسی اثاثے واپس لینے کی درخواست

زیلنسکی

?️

سچ خبریں: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک مرتبہ پھر روس کے منجمد اثاثوں کے استعمال کو جائز اور ضروری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جنگی تباہی کے ازالے کے لیے استعمال کیا جائے۔
ان کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین کو 90 ارب یورو کا سود-مفت قرضہ دینے پر اتفاق کیا ہے، تاہم روسی اثاثوں کے استعمال کا متنازعہ منصوبہ منظور نہیں کر سکے۔
زلنسکی نے جمعرات کو برسلز میں یورپی کونسل کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی اثاثوں کے استعمال کی تجویز اخلاقی، منصفانہ اور قانونی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ روس کے جارحانہ اقدامات اور یوکرین کی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والی تباہی کے پیش نظر، روسی اثاثوں سے پیدا ہونے والے منافع کو یوکرین کی تعمیر نو اور جنگ کے اخراجات کے لیے استعمال کرنا ایک جائز اقدام ہوگا۔
قرضے کا فیصلہ اور روسی اثاثوں پر تنازعہ
یورپی رہنماؤں نے طویل مذاکرات کے بعد طلوع فجر کے وقت 90 ارب یورو کے قرضے پر اتفاق کیا، جو یوکرین کی اگلے دو سالوں (2026-2027) کے لیے فوری مالی ضروریات کو پورا کرے گا۔ یہ رقم یوکرین کی متوقع 135 ارب یورو کی مالی ضرورت کا تقریباً دو-تہائی حصہ ہے۔ اس قرضے کو یورپی یونین کے بجٹ کی گارنٹی حاصل ہوگی۔
تاہم، یورپی رہنماؤں کا روسی اثاثوں کو ضبط کرنے اور انہیں قرضے کی ضمانت بنانے کے اصل منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بیلجیم کی طرف سے پیش کردہ قانونی اور مالی تحفظات تھے، جہاں روسی مرکزی بینک کے 210 ارب یورو میں سے تقریباً 185 ارب یورو کے اثاثے یوروکلیر نامی مالیاتی ادارے میں موجود ہیں۔ بیلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر روس قانونی چارہ جوئی کرے اور بیلجیم پر کوئی مالی بوجھ پڑے تو اس کی ذمہ داری تمام یورپی ممالک میں تقسیم ہونی چاہیے۔ اس مطالبات کے باعث کئی ممالک کے لیے یہ منصوبہ قابلِ قبول نہیں رہا۔
جرمن چانسلر فرڈرک مرٹز، جو روسی اثاثوں کے استعمال کے زبردست حامی تھے، نے کہا کہ یوکرین کو اس قرضے کی واپسی تب ہی کرنی ہوگی جب روس جنگ کے باعث ہونے والی تباہی کا معاوضہ ادا کر دے۔
یوکرین کا ردِ عمل اور زلنسکی کے دیگر بیانات
یوکرین کے صدر نے یورپی فیصلے پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم مدد ہے جو واقعی ہماری قوتِ برداشت کو مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ روسی اثاثے منجمد رہیں اور یوکرین کو آنے والے سالوں کے لیے مالی تحفظ کی ضمانت مل گئی ہے۔
اجلاس سے قبل زلنسکی کے اہم بیانات میں شامل تھے:
• "وامِ تاوان” یعنی روسی اثاثوں کو استعمال کر کے یوکرین کو قرضہ دینا ان کے نزدیک بہترین فارمولا ہے، لیکن یوکرین کسی بھی دوسرے فارمولے کے لیے تیار ہے۔
• امریکا کو جنگ روکنے کے لیے سب سے بااختیار ملک قرار دیا۔
• یوکرین روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف مزید سخت مؤقف چاہتا ہے۔
• انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیوٹن جنگ ختم نہیں کرنا چاہتا اور امید کرتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششیں کامیاب ہوں گی۔
مستقبل کے اقدامات اور امن مذاکرات
اگرچہ روسی اثاثوں کا استعمال فی الحال ممکن نہیں ہو سکا، لیکن یورپی کونسل نے واضح کیا ہے کہ روسی اثاثوں کو یورپی یونین کے قانون کے تابع، اس وقت تک منجمد رکھا جائے گا جب تک روس یوکرین کے خلاف اپنی جارحانہ جنگ بندی نہیں کرتا اور جنگ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ نہیں دیتا۔ اس حوالے سے قانونی اور تکنیکی تفصیلات پر مزید کام جاری رہے گا۔

مشہور خبریں۔

قبرس اور شام کے معاملے کی مشابہت ؛ اردوغان کے اتحادی کی نظر سے

?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں:ترکی کے قوم پرست رہنما دولت باغچلی نے قبرس کے ترک

اسرائیلی اٹارنی جنرل نے نیتن یاہو کو طلب کر لیا

?️ 26 فروری 2026سچ خبریں: اسرائیلی اٹارنی جنرل اور کابینہ کے قانونی مشیر نے وزیر

کولمبیا کے صدر کو فلسطین کی حمایت کرنے کی سزا

?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں:امریکہ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کولمبیا کے

کورونا کے باعث مقدمات نمٹانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا رہا:چیف جسٹس

?️ 13 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کا کہنا ہے کہ

تشدد صیہونی حکومت کا واحد ہتھیار؛اقوام متحدہ کو تشویش

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں:اقوام متحدہ نے صیہونی جیلوں میں تشدد اور ظلم کی پالیسی

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کا بیلسٹک میزائل ’شاہین تھری‘ کا کامیاب تجربہ

?️ 9 اپریل 2022 (سچ خبریں)پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک

قومی اسمبلی ، فلسطینی عوام کیساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد کثرت رائے سے منظور

?️ 6 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی

ایران کے خلاف امریکی وفد سعودی عرب کے دورے پر

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:امریکی حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ایرانی امور کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے