?️
حضرموت اور المہرہ میں پیش رفت پر سعودی عرب کی تشویش، کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اپیل
یمن کے جنوب میں کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی سعودی عرب نے حضرموت اور المہرہ صوبوں میں حالیہ تحرکات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ممکنہ سکیورٹی اور سیاسی نتائج سے خبردار کیا ہے اور فریقین پر ضبط، مکالمے اور حالات کو سابقہ صورتحال میں واپس لانے پر زور دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے حضرموت اور المہرہ میں کیے گئے اقدامات یکطرفہ ہیں اور یہ نہ تو یمن کی صدارتی کونسل کی منظوری سے ہوئے ہیں اور نہ ہی عرب اتحاد کی قیادت کے علم میں لائے گئے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات سے یمنی عوام کے مفادات، جنوبی مسئلے اور عرب اتحاد کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ریاض نے تمام یمنی قوتوں اور سیاسی دھڑوں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو امن و استحکام کو کمزور کرے۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ اور مستعفی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جنوبی یمن میں کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے، اور یہ مشاورت بدستور جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حضرموت اور المہرہ میں حالات کو پہلے جیسے بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور جنوبی یمن کا مسئلہ تاریخی نوعیت کا حامل ہے، جس کا حل صرف تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان جامع مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ سعودی عرب نے ایک بار پھر یمن کی مستعفی حکومت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تمام فریقین سے کشیدگی بڑھانے سے گریز کی اپیل کی ہے۔
سعودی عرب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ حضرموت اور المہرہ میں جاری صورتحال سے نمٹنے کے لیے پرامن اور سیاسی حل کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج نے یمن کے جنوبی علاقوں کے وسیع حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ کونسل کا دعویٰ ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا مقصد شدت پسند عناصر کا خاتمہ اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حضرموت میں کونسل کی افواج نے سیئون شہر پر قبضے کے ساتھ ساتھ سعودی سرحد سے متصل صحرائی علاقوں میں بعض تیل کے میدانوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔
اسی طرح عمان کی سرحد سے ملحق المہرہ صوبے میں جنوبی عبوری کونسل نے بعض مقامی رہنماؤں کے اپنے اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ حضرموت، جو یمن کا سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں پیش رفت کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ افواج پسپا ہو کر صوبہ مأرب کی جانب منتقل ہو گئی ہیں۔
ان تبدیلیوں نے جنوبی عبوری کونسل اور سعودی حمایت یافتہ دیگر گروہوں کے درمیان نئے تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں کہ کونسل جنوبی یمن کی علیحدگی اور 1990 سے قبل موجود سابقہ جنوبی یمنی ریاست کی بحالی کی سمت پیش قدمی کر رہی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان سے وکلا کی ملاقات نہ کرانے کی تحقیقات کا حکم
?️ 15 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان
مارچ
فٹ بال ورلڈ کپ کو قتل عام کے لیے کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے؟
?️ 5 دسمبر 2022سچ خبریں:دنیا کے اہم ترین فٹ بال مقابلوں کے آغاز اور ان
دسمبر
ایف بی آر نے انفارمیشن سینٹر 2.0 کے پلیٹ فارم سے ایڈوانس اسٹاک رجسٹر سسٹم لانچ کردیا
?️ 31 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں کے
اکتوبر
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں ایران اور ترکیہ کو شامل کرنا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن
?️ 24 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا
مارچ
چین: ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے تک ہماری کوششیں جاری رہیں گی
?️ 25 مارچ 2026سچ خبریں: چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایران اور امریکہ
مارچ
اسرائیل نے غزہ میں نفسیاتی دہشت گردی شروع کی
?️ 9 اکتوبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے تللانگ موفوکنگ نے ایک تقریر میں
اکتوبر
صیہونی وزیر اعظم کا ایران کے بارے میں مغربی ممالک کو مضحکہ خیز مشورہ!
?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کل اسرائیلی فوج کے ریڈیو
دسمبر
ایرانی میزائل آسانی سے تل ابیب تک پہنچ سکتے ہیں:امریکی جنرل
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:جنرل میکنزی نے امریکی سینیٹرز کو بتایا کہ ایران کے پاس
مارچ