?️
حزب اللہ کو کوئی بھی خلعِ سلاح نہیں کر سکتا:مصری تجزیہ کار
مصر کے معروف تجزیہ کارِ امورِ فلسطین و اسرائیل، ابراہیم الدراوی نے کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان ایک مکمل طور پر جائز سیاسی جریان ہے جو انتخابی عمل میں حصہ لیتا ہے اور اسے صرف ایک مسلح گروہ قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ "حزب اللہ کو کوئی بھی خلعِ سلاح نہیں کر سکتا۔
روسیہ الیوم سے گفتگو میں الدراوی نے کہا کہ حزب اللہ نے برسوں سے لبنان کی سرحدوں کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر 2006 کی جنگ میں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے سے جاری بحث حقیقت پسندانہ نہیں، کیونکہ یہ گروہ لبنان کی سیاسی ساخت اور سیکورٹی توازن کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں کوئی حل تلاش بھی کیا جائے تو وہ صرف حزب اللہ کے اسلحے کو ریاستی ڈھانچے میں ادغام کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مصر بھی اس معاملے میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جس کا ثبوت مصری انٹیلیجنس چیف اور وزیرِ خارجہ کے حالیہ دورۂ لبنان میں دیکھا گیا۔
الدراوی نے مزید کہا کہ اسرائیل خود کو حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے قابل ظاہر کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کا وجود ہی ایسے گروہوں اور مسلح تنظیموں سے جڑا ہے جنہوں نے 1948 میں فلسطین پر قبضے کے دوران خطے کے لیے خطرات پیدا کیے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی اس تاریخ کو دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اسے حزب اللہ جیسے گروہوں پر تنقید کا اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
مصری کارشناس نے تاکید کی کہ عرب دنیا کا نقطۂ نظر حزب اللہ اور مزاحمتی گروہوں کے بارے میں اسرائیلی بیانیے سے مختلف ہے اور خطے کے ممالک کو اسرائیلی تشہیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
ادھر مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی بیروت میں لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد کہا کہ مصر لبنان میں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے گہری تشویش رکھتا ہے اور امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 27 نومبر 2024 کو دروقفۂ درگیری (فائر بندی) کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اسرائیل نے اس کے بعد بارہا اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر فضائی و زمینی حملے جاری رکھے۔
امریکہ نے اسی معاہدے کے بعد حزب اللہ کو خلعِ سلاح کرنے کے لیے مالی، سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھا دیا۔ واشنگٹن بیروت پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ سیکیورٹی کی بنیاد پر "سلاح کا انحصار ریاست تک محدود کرنے” کی شرائط قبول کرے۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں نے اس سیاسی دباؤ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کو خلعِ سلاح کرنے کی کوششیں محض ’’مقاومت کے محور کو کمزور‘‘ کرنے کا منصوبہ ہے، اور جب تک اسرائیل فائر بندی کی خلاف ورزیاں کرتا رہے گا، حزب اللہ سے اسلحہ چھوڑنے کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کے مطابق لبنان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں سے محروم کرنا خطے میں طاقت کے توازن کو یک طرفہ بنانے کی کوشش ہے، جسے عوام اور ریاست دونوں ہی قبول نہیں کریں گے۔


مشہور خبریں۔
وائٹ ہاؤس کو روس کے آپریشن ووسٹوک میں ہندوستان کی شرکت پر تشویش
?️ 31 اگست 2022سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے منگل کی رات کہا کہ
اگست
سی آئی اے کے سابق سربراہ نے دوسرے ممالک کے انتخابات میں مداخلت کا اعتراف کیا
?️ 23 جولائی 2022سچ خبریں: کچھ صارفین نے یاد دلایا ہے کہ جیمز وولسی کے
جولائی
رازگیر گیس فیلڈ سے گیس فروخت کرنے کا معاملہ، پیٹرولیم ڈویژن سے وضاحت طلب
?️ 20 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم آفس اور خیبرپختونخوا حکومت نے پیٹرولیم
جنوری
صیہونیوں کا فلسطین پر قبضے کی سالگرہ کے بہانے مسجد الاقصی پر حملہ
?️ 6 مئی 2022سچ خبریں: صیہونی آباد کاروں کے گروپوں نے اس ہفتے صہیونیوں سے کل
مئی
غزہ کے گیس ذخائر کی لوٹ مار کے لیے امریکہ، اسرائیل اور یو اے ای کا مشترکہ منصوبہ
?️ 20 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب متحدہ عرب امارات کے درمیان غزہ
دسمبر
اگر حماس ختم نہ ہوئی تو حکومت گرا دیں گے:اسرائیلی وزیرِ داخلہ کی دھمکی
?️ 11 اکتوبر 2025 اگر حماس ختم نہ ہوئی تو حکومت گرا دیں گے:سرائیلی وزیرِ داخلہ
اکتوبر
ہمیں سوچنا چاہیئے کہ طویل جدوجہد کے نتیجے میں آمریت مضبوط ہوئی یا جمہوریت؟ مولانا فضل الرحمان
?️ 20 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان
ستمبر
اسرائیل اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام،حماس کی سیاسی و عوامی پوزیشن مزید مستحکم
?️ 11 اکتوبر 2025اسرائیل اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام،حماس کی سیاسی و عوامی
اکتوبر