جولانی شام کو دوسرا افغانستان بنا دے گا

جولانی

?️

جولانی شام کو دوسرا افغانستان بنا دے گا
شام میں جاری سیاسی و عسکری کشمکش ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ابو محمد الجولانی کی زیر قیادت عبوری حکومت کو ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے محتاط انداز میں تعاون ملنے لگا ہے، جبکہ امریکہ نے شام کے خلاف "قانون سیزر” کی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔
ترکی کی محتاط حمایت
ترکی نے تصدیق کی ہے کہ جولانی حکومت نے رسمی طور پر ان سے دفاعی معاونت کی درخواست کی ہے۔ تاہم انقرہ نے براہ راست اسلحہ فراہم کرنے کے بجائے تربیت، مشاورت اور فنی معاونت دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ترک وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق یہ تعاون صرف دفاعی صلاحیتوں کے استحکام کے لیے ہو گا، نہ کہ اسرائیل کے خلاف کسی کارروائی کے لیے۔
یہ محتاط رویہ اس تناظر میں قابلِ فہم ہے کہ اسرائیل حالیہ مہینوں میں شام کے مختلف ہوائی، بری اور بحری اڈوں پر بمباری کر چکا ہے – جن میں وہ مقامات بھی شامل ہیں جنہیں ترکی اپنے فوجی اڈوں کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ کی پابندیاں اور قانون سیزر میں ترامیم
شام کے شہر سویدا میں جولانی کے مسلح گروہ کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بعد امریکی کانگریس کی مالیاتی کمیٹی نے قانون سیزر کی توسیع اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق نئی دفعات کی منظوری دی ہے۔ اگرچہ دمشق حکومت کو امید تھی کہ یہ پابندیاں ختم کی جائیں گی، لیکن اب معافی کی مدت کو 180 دن سے بڑھا کر دو سال کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی اقتصادی سرمایہ کاری
اسی دوران سعودی عرب نے دمشق میں ایک اہم سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی، جس میں سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کی سربراہی میں 150 رکنی وفد نے شرکت کی۔ اس موقع پر 47 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دستخط ہوئیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.6 ارب ڈالر ہے۔
اس بھاری سرمایہ کاری سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ سعودی عرب جولانی حکومت سے درپردہ کیا فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ خاص طور پر ایسے وقت میں جب خود جولانی کے اقتدار میں رہنے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کیا شام دوسرا افغانستان بنے گا؟
امریکی نمائندہ ٹام باراک نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شام مستقبل میں لیبیا یا افغانستان جیسی تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے — بلکہ ان سے بھی بدتر۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق شام کی موجودہ صورتحال میں مختلف علاقائی و بین الاقوامی طاقتیں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ایک نئی پراکسی جنگ کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔
ترک مصنف یوسف ضیا جومرت کے مطابق:شام کا منقسم، کمزور اور غیر مستحکم ہونا طویل المدتی طور پر اسرائیل کے مفاد میں ہے۔ تل ابیب دروز اور کرد اقلیتوں کو اپنے ساتھ ملا کر شام کے اندرونی معاملات میں اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

داسو حملے کے بارے میں وزیر خارجہ کا اہم بیان سامنے آگیا

?️ 12 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

غزہ میں جنگ کے خاتمے کے اگلے دن کی منصوبہ بندی

?️ 13 جنوری 2025سچ خبریں: ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق فوجی آپریشن کا تسلسل اب

پرویز الٰہی کا یوٹرن، حسنین بہادر دریشک کا استعفیٰ مسترد کر دیا

?️ 26 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے پاکستان تحریک انصاف

افغان مہاجرین کے استقبال میں مغرب کا کیا حصہ ہے؟

?️ 2 ستمبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے دفتر کے مطابق

یوکرین نیٹو کا ایک ہتھکنڈا

?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں:مشہور امریکی میگزین نے لکھا ہے کہ نیٹو یوکرین کے ساتھ

سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں 170 افراد گرفتار

?️ 27 دسمبر 2022سچ خبریں:       سعودی عرب کے انسداد بدعنوانی کے ادارے نزاہہ

عمر ایوب سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

?️ 3 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت نے اپوزیشن

حکومت کے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے بلوچ مظاہرین سے مذاکرات جاری

?️ 24 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ بلوچستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے