جنوبی یمن میں بحران،سعودی عرب اور امارات آمنے سامنے،تقسیم کا خطرہ بڑھ گیا

سعودی عرب اور امارات

?️

جنوبی یمن میں بحران،سعودی عرب اور امارات آمنے سامنے،تقسیم کا خطرہ بڑھ گیا

جنوبی یمن ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ کشمکش اب بالواسطہ جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں یمن کی تقسیم اور عرب اتحاد کے ٹوٹنے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں یمن کے جنوبی اور مشرقی صوبے، خصوصاً حضرموت، شبوا اور المہرہ، ریاض اور ابوظبی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ کا مرکز بن گئے ہیں۔ امارات کے حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (STC) نے کئی اہم اور اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے فوجی تنظیم نو اور نئی فورسز کی تعیناتی شروع کر دی ہے۔

جنوبی عبوری کونسل کی عسکری پیش قدمی کو سعودی عرب یمن کی نام نہاد قانونی حکومت کے خلاف “کامل بغاوت” قرار دے رہا ہے۔ دوسری جانب STC خود کو جنوبی یمن کی حقیقی نمائندہ قوت سمجھتی ہے اور خودمختاری یا مکمل علیحدگی کے مطالبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔

یمنی ذرائع کے مطابق یہ تنازع صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی پہلو بھی رکھتا ہے۔ عدن سے مستعفی حکومت کی اچانک روانگی اور قیادت کا ریاض میں قیام، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیصلے یمن کے اندر نہیں بلکہ بیرونی دارالحکومتوں میں ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امارات جنوبی یمن میں ایک وفادار فوجی ڈھانچہ قائم کر کے قدرتی وسائل اور اہم بندرگاہوں پر کنٹرول چاہتا ہے، جبکہ سعودی عرب یمن کی ظاہری وحدت برقرار رکھ کر عرب اتحاد میں اپنی قیادت بچانا چاہتا ہے۔ یہی متضاد مفادات اس بحران کی جڑ ہیں۔

ادھر جنوبی علاقوں میں شدید معاشی بحران، کرنسی کی گراوٹ، بنیادی سہولیات کی کمی اور عدم تحفظ نے عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ نیابتی جنگ جاری رہی تو جنوبی یمن مکمل انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔

دسمبر 2025 کے آخر میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی، جب جنوبی عبوری کونسل نے بڑے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کے بعد سعودی عرب نے اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا، جبکہ اماراتی شخصیات نے ریاض کے اقدامات کو غیر قانونی اور ناقابل قبول کہا۔

یہ بحران اس بات کی علامت ہے کہ یمن میں مداخلت کرنے والا عرب اتحاد اپنے مشترکہ اہداف میں ناکام ہو چکا ہے۔ جو اتحاد کبھی یمن میں ایک مقصد کے لیے بنا تھا، آج وہی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں، اور اس کشمکش کا سب سے بڑا نقصان یمنی عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اگر سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات کم نہ ہوئے تو جنوبی یمن طویل عرصے تک نیابتی جنگ کا میدان بنا رہے گا، جس کے اثرات نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے، بحیرہ احمر اور افریقہ کے ساحلی علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ طاہر اشرفی

?️ 27 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان علما کونسل مولانا طاہر اشرفی نے

موصل میں داعش کا اہم کمانڈر گرفتار

?️ 30 جون 2021سچ خبریں:عراقی عوامی تنظیم الحشد الشعبی نے تکفیریوں کے خلاف ایک کامیاب

ہماری حکومت کےاگلے3ماہ انتہائی اہم ہیں: وزیر اعظم

?️ 6 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے حکومت کیلئے اگلے 3ماہ

حماس کا اسرائیل کو بچوں کے قاتلوں کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے پر اصرار 

?️ 5 اپریل 2025سچ خبریں: فلسطین کی تحریک حماس نے آج 5 اپریل کو فلسطینی

جس قوم کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اس کی آواز سنی جاتی ہے، شہباز شریف

?️ 26 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) شہباز شریف نے کہا کہ جس قوم کی

صیہونیوں کی حمایت میں آنکھوں پر پٹی

?️ 21 مارچ 2024سچ خبریں: انگلستان کے وزیراعظم نے صیہونی حکومت کے جرائم کی کھل

پاکستان کی یوکرائن کے لیے امداد

?️ 31 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان نے جنگ زدہ ملک یوکرین کی درخواست پر انسانی

نیتن یاہو کی دھمکیاں ہماری جدوجہد کو ہرگز نہیں روک سکتیں:حماس

?️ 11 اپریل 2023سچ خبریں:نیتن یاہو کے حالیہ بیان کے جواب میں اسلامی مزاحمتی تحریک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے