جاپان میں معاشی خدشات میں اضافہ، کیا چاول کوپن مہنگائی پر قابو پا سکیں گے؟

جاپان

?️

جاپان میں معاشی خدشات میں اضافہ، کیا چاول کوپن مہنگائی پر قابو پا سکیں گے؟
جاپان میں حالیہ عوامی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریت معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا شکار ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم سانائے تاکایچی کی حکومت چاول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ’’چاول کوپن‘‘ کے نظام کے نفاذ پر غور کر رہی ہے، تاہم عوام کی بڑی تعداد اس اقدام کو غیر مؤثر قرار دے رہی ہے۔
جاپانی خبر ایجنسی کیودو کی جانب سے شائع کیے گئے تازہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 60 فیصد سے زائد جاپانی شہری ملکی مالی اور معاشی حالات پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم تاکایچی کے تائیوان سے متعلق متنازع بیانات، جنہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا، عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
کیودو کے مطابق، سروے میں شامل 64.6 فیصد افراد نے مالی سال 2025 کے لیے 18.3 ٹریلین ین (تقریباً 116 ارب ڈالر) کے اضافی بجٹ کی منظوری پر تشویش ظاہر کی، جو مارچ 2026 میں اختتام پذیر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت اس بجٹ کا 60 فیصد سے زائد حصہ پورا کرنے کے لیے 11.7 ٹریلین ین کے نئے سرکاری بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
عوامی تشویش کا ایک اور بڑا سبب چاول کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ ہے، جسے جاپان میں ایک بنیادی غذائی شے سمجھا جاتا ہے۔ مئی 2025 میں چاول کی قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث اس وقت کے وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کی مقبولیت تاریخی کم ترین سطح تک گر گئی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت کو زرعی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ یہی بحران اس حد تک بڑھا کہ اس وقت کے وزیر زراعت شنجیرو کوئزومی کو مستعفی ہونا پڑا، جو اب تاکایچی حکومت میں وزیر دفاع ہیں۔
تازہ سروے میں کیودو نے حکومت کے مجوزہ ’’چاول کوپن‘‘ منصوبے پر عوامی رائے بھی معلوم کی، جس کا مقصد مہنگائی میں کمی لانا ہے۔ نتائج کے مطابق 82.4 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چاول کوپن کی تقسیم سے قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے میں کوئی خاص مدد نہیں ملے گی اور یہ اقدام محض علامتی ہوگا۔
سروے کے دیگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم تاکایچی کی حکومت کی مقبولیت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 2.4 فیصد کم ہو کر تقریباً 67 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ناپسندیدگی کی شرح 3.9 فیصد اضافے کے ساتھ 20.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ دو روزہ سروے ہفتہ 29 آذر 1404 کو شروع ہوا، جس کے دوران 491 گھروں اور 30 ہزار 40 موبائل نمبرز پر رابطہ کیا گیا۔ بالآخر 420 گھریلو افراد اور 620 موبائل صارفین نے سروے میں حصہ لیا۔
ماہرین کے مطابق، اگر حکومت نے مہنگائی، بجٹ خسارے اور بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں پر مؤثر اور دیرپا پالیسی اختیار نہ کی تو معاشی خدشات جاپانی سیاست اور سماج پر مزید گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

عالمی نظام کی تبدیلی کا دور اور اسلامی سرزمین کی تاریخ کی تکرار کو روکنے کے حل

?️ 28 جون 2023سچ خبریں:نئی بین الاقوامی ترتیب ایشیائی اور بحرالکاہل کے ممالک بشمول ہندوستان،

شہریوں کا قتل عام صیہونیوں کی بے بسی کی نشانی : حماس

?️ 16 مئی 2024سچ خبریں: غزہ کے مختلف علاقوں پر صیہونیوں کے وحشیانہ حملوں میں شدت

سپریم کورٹ: سابق ججوں کی پنشن و تنخواہوں میں کٹوتی کیلئے دائر درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

?️ 7 جنوری 2023اسلام آباد(سچ خبریں) ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کی پنشن اور دیگر

چینی معیشت پر مبنی خارجہ پالیسی کے طول و عرض کا ڈی کوڈ

?️ 15 فروری 2023سچ خبریں:سدابراہیم رئیسی اپنے چینی ہم منصب ژی جن پنگ کی سرکاری

ایک سنوار گیا ہے؛ سینکڑوں سنوار جنم لیں گے

?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں: سال 2011 میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس اور

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حد بندی پر ’یو ٹرن‘ لے لیا

?️ 29 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے بظاہر

افسوس دوست نما دشمن دہشت گردوں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ شہباز شریف

?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے

22 روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کے خلاف استقامت کی فتح پر ایک نظر

?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:2009 کی 22 روزہ جنگ جو فلسطینی استقامت اور صیہونی حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے