ترکی کے فوجی دستے اور دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات

سعودی عرب

?️

سچ خبریں: ترکی کے دفاعی صنعت کے ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے فوجی دستے، فضائی دفاعی اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سعودی عرب میں تعینات کر دیے گئے ہیں، جو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے عملی نفاذ کا پہلا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی اور یمنی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حملوں کے تسلسل کے دوران، ترکی کی ایک دفاعی ویب سائٹ نے اس ملک کے فوجی دستوں اور فوجی سازوسامان کی سعودی عرب میں تعیناتی کی رپورٹ دی ہے۔ یہ اقدام، اگر تصدیق ہو جائے تو ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے عملی مرحلے میں داخل ہونے کا پہلا اشارہ ہو سکتا ہے۔
اس اجلاس میں ترکی کی جانب سے وزیر دفاع یاشار گولر، وزیر خارجہ هاکان فیدان اور چیف آف جنرل اسٹاف سلچوک بایراکتاراوغلو نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کمیٹی کے ارکان نے مشترکہ دفاعی وعدوں کے فوری نفاذ پر زور دیا اور اعلان کیا کہ سعودی عرب میں طے شدہ فوجی دستوں اور فوجی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد ارکان کی فوجی یکجہتی اور اجتماعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور خطرات کے مقابلے اور دفاع کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
سعودی عرب میں ترکی کے فضائی دفاعی اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی تعیناتی
ساوونما سانایی ایس ٹی نے اپنے حاصل کردہ معلومات کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی کی دفاعی صنعت کے بنائے گئے متعدد فضائی دفاعی اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کچھ عرصے سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ سسٹم سعودی عرب کی بعض حساس تنصیبات کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ترکی کی مسلح افواج کے کئی سو ماہر اہلکار بھی اس ملک میں تعینات ہیں۔
ترکی کی اس ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ایسی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دستخط کے کچھ ہی عرصے بعد سیاسی اور نظریاتی مرحلے سے عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ساوونما سانایی ایس ٹی نے اپنی رپورٹ میں ترکی کی دفاعی صلاحیتوں اور اس کی مسلح افواج کے غیر ملکی مشنوں میں تجربے کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ترکی نے گزشتہ برسوں میں صومالیہ، لیبیا، قطر، شام، آذربائیجان اور کوسوو سمیت متعدد ممالک میں فوجی موجودگی رکھی ہے اور 10 سے زائد ممالک میں اپنی مسلح افواج کی شرکت کے ساتھ مشن انجام دیے ہیں۔
مکہ معاہدہ: سیاسی مرحلے سے فوجی مرحلے تک؟
ساوونما سانایی ایس ٹی کی رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد بعض تجزیوں میں اس معاہدے کی عملی قابلیت اور ارکان کے عملی وعدوں کی حد کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔
ترکی کی اس ویب سائٹ نے سعودی عرب میں ترکی کے فوجی دستوں اور فوجی سازوسامان کی تعیناتی کے حوالے سے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ معاہدے کے نفاذ کا عمل بعض ناظرین کے اندازے سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ترکی کے فوجی دستوں کا اس ملک کے فضائی دفاعی اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کے ساتھ امتزاج، مکہ معاہدے کے ارکان کے درمیان نئے وعدوں کے نفاذ کے لیے درکار دفاعی صلاحیت کا حصہ فراہم کرتا ہے۔

مشہور خبریں۔

جنوبی کوردوفان میں امدادی قافلے پر ریپڈ ری ایکشن فورس کے حملے میں 3 ہلاک

?️ 20 فروری 2026 سچ خبریں: جنوبی کردفان کی ریاست میں امدادی سامان لے جانے

توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے جج کی ’متنازع‘ فیس بک پوسٹس کا معاملہ ایف آئی اے کے حوالے

?️ 28 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی

ژوب: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک، پاک فوج کے میجر اور حوالدار شہید

?️ 10 اکتوبر 2023بلوچستان 🙁سچ خبریں) بلوچستان کے ضلع ژوب میں سمبازا کے علاقے میں

نئے ٹیکس لگانے کا معاملہ،حکومت نے منی بجٹ کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کر لیا

?️ 13 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے 170 ارب کے نئے ٹیکس لگانے

امریکی وزیر جنگ نے میناب اسکول میں جرم کا کیا اعتراف 

?️ 30 اپریل 2026 سچ خبریں: امریکہ کی دہشت گرد ریاست کے وزیر جنگ، پیت ہیگستھ

ایلون مسک امریکی حکومت کے لیے سیکریٹری آف اسٹیٹ منتخب

?️ 13 نومبر 2024سچ خبریں: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے

لاہور ہائیکورٹ: عائلی قوانین میں اصلاحات کیلئے حکومت کو مشاورت شروع کرنے کی ہدایت

?️ 23 مئی 2025لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے وفاقی حکومت کو

چین سے کورونا ویکسین کی ایک اور بڑی کھیپ پاکستان پہنچے گی

?️ 13 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) چین سے کورونا ویکسین کی ایک اور بڑی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے