بین الاقوامی طلباء کے داخلے پر ٹرمپ انتظامیہ کا حکم عارضی طور پر معطل 

ٹرمپ انتظامیہ

?️

سچ خبریں: ٹرمپ انتظامیہ کے ہارورڈ یونیورسٹی پر دباؤ کے سلسلے میں، جس میں بین الاقوامی طلباء کے داخلے کی اجازت منسوخ کرنے کا حکم شامل تھا، ایک امریکی جج نے گزشتہ روز اس حکم کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔
روئٹرز کے مطابق، اس فیصلے سے ہارورڈ کے ہزاروں بین الاقوامی طلباء کی فکر کم ہوئی ہے جو اس حکم کے بعد یونیورسٹی سے نکالے جانے کے خطرے سے دوچار تھے۔ ہارورڈ نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف جمعرات کو وفاقی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس کے بعد یہ عارضی رکاوٹ لگی۔
یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے ہارورڈ کو اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام (SEVP) سے خارج کر دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ کو 72 گھنٹے کا نوٹس دیا تھا کہ وہ غیر ملکی طلباء کی سرگرمیوں، خاص طور پر غزہ کے خلاف جنگ کے مظاہروں میں شامل طلباء کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرے، ورنہ بین الاقوامی طلباء کے اندراج کی اجازت مستقل طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔
ہارورڈ کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام غیرقانونی اور انتقامی نوعیت کا ہے، جو یونیورسٹی کی جانب سے انتظامیہ کے مطالبات (جیسے طلباء کے ڈسپلنری ریکارڈز کی فراہمی اور انصاف پر مبنی اقدامات کو ختم کرنے) کو مسترد کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ہارورڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے۔ یونیورسٹی کے عہدیداروں نے زور دیا کہ اس کا فوری اور تباہ کن اثر ہارورڈ اور اس کے 7,000 سے زائد طلبائی ویزہ ہولڈرز پر پڑے گا۔
ہارورڈ نے کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈی ایچ ایس کے سیکرٹری کرسٹی نویم کے حکم کو فوری طور پر روک دے۔ اپیل کے ایک حصے میں کہا گیا، ہارورڈ بین الاقوامی طلباء کے بغیر ہارورڈ نہیں رہے گا۔ فی الحال، ہارورڈ میں 6,800 بین الاقوامی طلباء ہیں، جو یونیورسٹی کے کل اندراج کا 27 فیصد ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غیرمنتخب ججز کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حکومت کو امیگریشن اور قومی سلامتی کی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے سے روکیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ کے بین الاقوامی طلباء کے داخلے کی اجازت منسوخ کرنے کا فیصلہ اس یونیورسٹی کے خلاف ایک سخت سزا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے سیاسی مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ پابندیاں دیگر امریکی یونیورسٹیوں پر بھی عائد کی گئی ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی کولمبیا، پرنسٹن اور نارتھ ویسٹرن جیسی دیگر معروف یونیورسٹیوں کے خلاف کارروائیوں کا حصہ ہے، جن پر فلسطین نواز مظاہروں کی حمایت کرنے پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔ حکومت نے ہارورڈ کے ٹیکس ایکسیمپشن کی حیثیت ختم کرنے اور اس کے وفاقی فنڈز میں 2 ارب ڈالر کی کٹوتی کا بھی عندیہ دیا ہے۔
ہارورڈ نے اس اقدام کو "غیرقانونی” اور "تعلیمی آزادی کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی طلباء کی حمایت کرے گا۔ یونیورسٹی کے صدر ایلن گاربر نے کہا کہ کوئی بھی حکومت، چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو، یہ طے نہیں کر سکتی کہ نجی یونیورسٹیاں کیا پڑھائیں، کسے داخلہ دیں یا کس پر تحقیق کریں۔
تنقید کرنے والوں، بشمول شہری حقوق اور آزادی اظہار کے حامی گروپوں، کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی آزادی کو دبانے اور یونیورسٹیوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ کچھ بین الاقوامی طلباء نے کلاسز اور سماجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی اطلاع دی ہے کیونکہ انہیں گرفتاری یا ڈیپورٹیشن کا خدشہ ہے۔
یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ "کیچ اینڈ ریووک” (Catch and Revoke) جیسے پروگراموں کے ذریعے ان غیر ملکی طلباء کی نشاندہی اور انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے ہیں۔
ان اقدامات نے امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور امریکہ میں بین الاقوامی طلباء کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

گریٹر اسرائیل کا نظریہ عرب ممالک کے لئے بہت بڑا خطرہ

?️ 17 اگست 2025گریٹر اسرائیل کا نظریہ عرب ممالک کے لئے بہت بڑا خطرہ صیہونی

اسماعیل ہنیہ کو ایران ہی میں کیوں شہید کیا گیا؟

?️ 4 اگست 2024سچ خبریں: اسرائیل اسماعیل ہنیہ کو قطر یا ترکی میں بھی شہید

وینزویلا پر حملے میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا:امریکہ

?️ 4 جنوری 2026 وینزویلا پر حملے میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا:امریکہ

پلاننگ کمیشن سے این او سی نہ ملنے پر آئی ٹی کے 2 بڑے منصوبے تاخیر کا شکار

?️ 25 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پلاننگ کمیشن سے تاحال این او سی کا

سعودی عرب کی ترکی میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

?️ 9 مارچ 2023سچ خبریں:سعودی عرب کے ترقیاتی فنڈ نے ایک بیان میں اعلان کیا

 سوڈان میں جنگ فوری طور پر ختم کی جائے:مصر کا مطالبہ

?️ 18 اکتوبر 2025 سوڈان میں جنگ فوری طور پر ختم کی جائے:مصر کا مطالبہ مصر

بیروت میں ہونے والے پیجرز دھماکوں کے چار ممکنہ احتمال

?️ 18 ستمبر 2024سچ خبریں: ذرائع کے مطابق بیروت میں پیجرز کے متواتر دھماکوں کے

بائیڈن یوکرین کے بارے میں پیوٹن کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں: گرین فیلڈ

?️ 24 دسمبر 2022سچ خبریں:   اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل نمائندے نے یوکرین کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے