?️
بونڈی فائرنگ کے بعد آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا میں خطرناک اضافہ
آسٹریلیا کے ساحلی علاقے بونڈی میں یہودی تہوار حنوکا کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد ملک میں اسلام دشمن رویوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس واقعے کے بعد خاص طور پر حجاب پہننے والی مسلمان خواتین کو ہراسانی اور نفرت انگیز رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
آسٹریلوی خبر رساں ادارے اے بی سی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ بونڈی حملے کے بعد معاشرے میں مسلم مخالف جذبات میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں خواتینِ مسلمان بالخصوص سڈنی میں زبانی بدسلوکی، جسمانی دھمکیوں اور توہین آمیز رویوں کا شکار ہو رہی ہیں۔
آسٹریلیا کی نیشنل امامت کونسل (ANIC) کے مطابق، 14 دسمبر کے حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں اسلامی مراکز کی توڑ پھوڑ، آن لائن نفرت انگیزی، جسمانی ہراسانی اور خوف پھیلانے کے اقدامات شامل ہیں۔
ANIC کے سینئر مشیر بلال رؤف نے بتایا کہ زیادہ تر حملوں کا نشانہ حجاب پہننے والی خواتین بنی ہیں۔ ان کے مطابق متعدد واقعات میں نوجوان مسلم لڑکیوں پر تھوکا گیا، ان کا حجاب زبردستی اتارا گیا اور انہیں نسل پرستانہ و توہین آمیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بونڈی واقعے کے بعد چند ہی ہفتوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی شکایات کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے، جو آسٹریلوی مسلم کمیونٹی کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا باعث بن رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کئی مساجد اور اسلامی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں توڑ پھوڑ اور سیکیورٹی خدشات کے واقعات پولیس کو رپورٹ کیے گئے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر ANIC نے اسلاموفوبیا کے متاثرین کے لیے ایک ہیلپ لائن قائم کی ہے، جہاں کم از کم 62 واقعات باضابطہ طور پر درج کیے جا چکے ہیں۔
بلال رؤف نے اس بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک بڑی وجہ بعض سیاستدانوں اور میڈیا حلقوں کی اشتعال انگیز اور تفرقہ انگیز زبان کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات معاشرے میں خوف اور نفرت کو ہوا دیتے ہیں، جس کا خمیازہ بے گناہ شہریوں، خاص طور پر مسلمان خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے۔
مسلم رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے، تاکہ معاشرتی ہم آہنگی اور امن کو برقرار رکھا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے:انصاراللہ
?️ 13 اگست 2023سچ خبریں: انصاراللہ تحریک اور یمنی انقلاب کے سربراہ نے اپنے ایک
اگست
بلوچستان کا دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھا
?️ 8 اگست 2021کوئٹہ (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں یونیٹی روڈ پر دھماکے
اگست
یورپی یونین کے عہدہ دار کے دورہ تہران سے صہیونی خوفزدہ
?️ 28 جون 2022سچ خبریں:اسرائیلی وزیر خارجہ جنہوں نے ہمیشہ ایرانی عوام کے خلاف پابندیاں
جون
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی معطلی آئندہ ہفتے ختم کیے جانے کا امکان
?️ 16 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً
ستمبر
مسلم لیگ (ن) کو پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنے کیلئے نئے بیانیے کی تلاش
?️ 16 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے ہاتھوں کئی بار شکست
جنوری
یوکرین اب روس سے اپنا علاقہ واپس نہیں لے سکتا: وائٹ ہاؤس
?️ 30 جون 2022سچ خبریں:بائیڈن کا ماننا ہے کہ یوکرین اب روس سے اپنا علاقہ
جون
عتیقہ اوڈھو، سعدیہ امام اور مرینہ خان کا صبا فیصل کی تنقید پر دلچسپ جواب
?️ 18 جولائی 2025کراچی: (سچ خبریں) سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو، مرینہ خان اور سعدیہ امام
جولائی
کیا حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ واپس لے لے گی؟
?️ 17 جولائی 2024سچ خبریں: تحریک انصاف پر پابندی کے حکومتی اعلان کے بعد اب
جولائی