برطانیہ میں اقتصادی بحران نے اہم شخصیات کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا

برطانیہ

?️

برطانیہ میں اقتصادی بحران نے اہم شخصیات کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا

انگلینڈ میں اقتصادی بحران اور بڑھتی ہوئی مالیات نے ڈاکٹرز، نرسز، نوجوان ماہرین اور سرمایہ داروں کے لیے ملک چھوڑنے کی لہر کو تیز کر دیا ہے۔ افول معیشت اور بڑھتی مالی بوجھ نے نظام صحت، اہم اقتصادی شعبوں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں فرار مغزها کو ایک سنگین چیلنج بنا دیا ہے۔

آخری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال زیادہ تعداد میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ بیرون ملک کام کے لیے رجسٹریشن کر رہے ہیں۔ صرف گزشتہ سال قریب دو ہزار طبی ماہرین نے آسٹریلیا میں کام کی اجازت حاصل کی جو پچھلے سال کے مقابلے میں کئی فیصد زیادہ ہے۔ شدید کام کا بوجھ، کم تنخواہ، کرونا بحران کے اثرات اور بڑھتی مالیات کے سبب ڈاکٹرز ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

یہ فرار صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ نوجوان ماہرین بھی ملک چھوڑ رہے ہیں۔ پچھلے تین سال میں تقریباً ایک ملین برطانوی شہری ہجرت کر چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد ۱۶ سے ۳۴ سال کی عمر کے نوجوانوں کی ہے۔ مسکن کے بحران، کم بڑھتی اجرت اور غیر یقینی اقتصادی مستقبل نوجوانوں کو بیرون ملک مواقع تلاش کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اسی دوران سرمایہ دار اور ثروتمند افراد بھی مالی فوائد کے لیے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق کئی ہزار افراد دولت کے بڑے ذخائر کے ساتھ ایسے ممالک جا رہے ہیں جہاں ٹیکس کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں انسانی اور مالی سرمایہ کم ہو رہا ہے جس سے معیشت کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

حالیہ حکومتیں مالی خسارے پورا کرنے اور دیگر اخراجات کے لیے مالیات بڑھا رہی ہیں لیکن خدمات کی معیار میں کمی نے عام لوگوں میں ناانصافی کا احساس پیدا کیا ہے۔ یہ صورتحال نوجوان ماہرین اور سرمایہ داروں کے لیے ملک چھوڑنے کی تحریک پیدا کر رہی ہے اور عام شہریوں کے لیے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی مشکل کر رہی ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو انگلینڈ ایک ایسے چکر میں پھنس جائے گا جہاں کمزور معیشت، بڑھتی مالیات اور ناکارہ خدمات فرار مغزها اور سرمایہ داروں کی روانگی کو مزید بڑھا دیں گے۔ حکومت کی کوششیں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے ہیں لیکن عوام کا اعتماد بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔

مشہور خبریں۔

حکومت کا پُرتشدد احتجاج کرنے والوں سے آڑے ہاتھوں نمٹنے کا فیصلہ

?️ 15 دسمبر 2025لاہور:(سچ خبریں) حکومت نے احتجاج کے دوران پرتشدد رویہ اپنانے والوں سے

کیا بائیڈن ہی کو اگلا امریکی صدر ہونا چاہیے؟روس کیا کہتا ہے؟

?️ 15 فروری 2024سچ خبریں: سابق امریکی صدر کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی پیشین

سیاست میں درست فیصلہ ہی کامیابی کی کنجی ہے، سیاسی روزہ رکھا ہوا ہے صحیح وقت آنے پر ہی کھولوںگا، شیخ رشید

?️ 16 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کا کہنا

عراق کو غیر مستحکم کرنے کی امریکی کوشش

?️ 29 مارچ 2022سچ خبریں:عراقی ذرائع نے تکفیری دہشت گردوں کے ذریعے عراق کو عدم

ٹورنٹو یونیورسٹی میں فلسطین کی حمایت میں طلباء کا دھرنا

?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: کینیڈا کی بعض یونیورسٹیوں کے طلباء نے غزہ کے عوام

پی ٹی آئی احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد سیل، جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ بند، رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ جاری

?️ 24 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر

حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے باوجود انتظامی اور پنشن اخراجات 161 ارب روپے تک پہنچ گئے

?️ 8 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کے سول ایڈمنسٹریشن اور پنشن کی ادائیگیوں

وزیر اعظم سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات، سرمایہ کاری کے منصوبوں پر تبادلہ خیال

?️ 16 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خارجہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے