?️
سچ خبریں: فلسطین کے حامیوں نے غزہ میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے برطانوی وزارت تجارت کی عمارت کے سامنے جمع ہو کر اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ کیا۔
برطانوی ٹریڈ یونینوں کے 1000 سے زائد ارکان نے فلسطینی پرچم بلند کیا اور انصاف نیز نسل پرستی کے نظام کے خاتمے کے لیے نعرے لگائے۔ وہاں موجود افراد نے ایسے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر "اسرائیل کو مسلح نہ کرو،” "غزہ کی ناکہ بندی ختم کرو” اور "آزاد فلسطین” جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونی حکومت مغربی کنارے میں نسل پرستی کا نظام نافذ کر رہی ہے
اسی وقت، سینکڑوں مظاہرین نے اسکاٹ لینڈ، ویلز اور لنکاشائر میں انگلینڈ کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی، جسے BAE سسٹمز کہا جاتا ہے، کے سامنے اسی طرح کی ریلیاں نکالیں۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ہدف لندن کی حکومت کو قائل کرنا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کو ہتھیار فراہم کرنا بند کرے۔
اس احتجاجی تحریک کے شرکاء میں سے ایک تانیا نے جو اپنا پورا نام نہیں بتانا چاہتی تھی، کہا کہ برطانوی عوام اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی لگانا چاہتی ہے لیکن حکومت اور لیبر پارٹی لوگوں کی مرضی کو نظر انداز کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اسرائیل کو اپنے ہتھیاروں کی مقدار کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ برطانوی ہتھیار اور فوجی مدد اسرائیل کی جنگی مشین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یاد رہے کہ خاص طور پر غزہ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کے قافلے پر اسرائیلی فضائی حملے میں اس ملک کے تین امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے بعد صیہونی حکومت پر اسلحے کی پابندی کے لیے برطانوی حکومت کے خلاف دباؤ بڑھتا جا رہا ہے،
انگلینڈ میں کیے گئے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کے زیادہ تر لوگ صیہونی حکومت کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فلسطین کے حامی گروپوں کے نمائندوں نے برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کو ایک پٹیشن دی تھی جس میں انہوں نے صیہونی حکومت پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ درجنوں برطانوی قانون سازوں نے دو ہفتے قبل اس ملک کے وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون کو دو الگ الگ خطوط میں ایسی ہی درخواست کی تھی۔
اس کے علاوہ اسکاٹش نیشنل پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس اور سابق برطانوی قومی سلامتی کے مشیر ان جماعتوں اور افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کے لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انگلستان کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی جماعت لیبر پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومتی وکلاء یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو اس حکومت کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی جائے۔
مزید پڑھیں: صیہونی تجزیہ کار کی نسل پرستانہ درخواست
دوسری جانب بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم نے حال ہی میں برطانیہ کے وزرائے تجارت اور خارجہ امور کے نام ایک کھلے خط میں غزہ جنگ کے شہداء کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ لندن حکومت غاصب صیہونی حکومت کو ہتھیاروں کی مدد کے ذریعہ اس انسانی تباہی میں برابر کی شریک ہے۔


مشہور خبریں۔
باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کا معصوم شہریوں پر حملہ، 4 بھائی شہید
?️ 15 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کے معصوم شہریوں
مارچ
بشریٰ بی بی کی بنی گالا کو سب جیل قرار دینے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر
?️ 13 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس
فروری
نیتن یاہو کو اب معلوم ہوا ہے اسرائیل کہاں جا رہا ہے
?️ 15 اگست 2023سچ خبریں: صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو درپیش
اگست
سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے متعلق فیصلہ آج بھی نہ ہوسکا
?️ 27 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کی خصوصی
فروری
چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت اور امریکہ کا تعاون
?️ 2 فروری 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کے
فروری
صیہونیوں کو گلے لگا لو سب مشکلات حل ہوجائیں گی؛سعودی اخبار کا لبنانیوں کو مشورہ
?️ 13 جولائی 2021سچ خبریں:سعودی اخبار الشرق الاوسط نے اپنے ایک کالم میں صیہونی حکومت
جولائی
ایرانی حملے میں صیہونیوں کا کون سا اہم ائربیس تباہ ہوا ہے؟
?️ 14 اپریل 2024سچ خبریں: المیادین نیوز چینل کی ویب سائٹ نے ایران کے حملے
اپریل
یمن میں ہاری ہوئی امریکی اور برطانوی جنگ کے منظرنامے
?️ 28 جنوری 2024سچ خبریں:معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے نئے نوٹ میں یمن
جنوری