ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کیوں ناکام ہوئے

ایران

?️

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کیوں ناکام ہوئے
امریکی ویب سائٹ مینٹ پریس نے اپنی تازہ رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ فوجی حملہ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے برعکس اس کارروائی نے ایران کے اندر اتحاد کو مزید مضبوط کیا، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب کی کمزوریاں واضح ہو گئیں اور تہران کی خطے میں سیاسی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق جون 2025 (خرداد 1404) میں اسرائیل نے امریکہ کی براہِ راست حمایت کے ساتھ ایران کی فوجی، جوہری اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں فضائی بمباری اور موساد کی تخریبی کارروائیاں شامل تھیں، تاہم ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے تل ابیب، حیفا اور متعدد اسرائیلی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم کی کارکردگی پر سوال اٹھے اور مغربی میڈیا نے بھی اسرائیل کی پسپائی کو تسلیم کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جون کے حملے کو تاریخی کامیابی قرار دیا، لیکن امریکی خفیہ ادارے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) سمیت آزاد تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی اہم جوہری تنصیبات جیسے فردو، اصفہان اور نطنز کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، صرف وقتی رکاوٹ پیدا ہوئی۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ کارروائی زیادہ تر سیاسی مقاصد کے لیے کی گئی تاکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اندرونی دباؤ سے نکالا جا سکے۔ تاہم ایران کی جوابی کارروائی اور عوامی مزاحمت نے ثابت کیا کہ اسلامی جمہوریہ پہلے سے زیادہ منظم اور متحد ہے۔
ایران نے ان حملوں کے بعد عمان میں جاری جوہری مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اب مزید رسائی نہیں دی جائے گی۔ ساتھ ہی ایرانی پارلیمان نے ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور ملک میں این پی ٹی معاہدے سے ممکنہ دستبرداری پر بھی کھلی بحث شروع ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکام فوجی مہم نے نہ صرف ایران کو مزید متحد کیا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی اس کے حق میں موڑ دیا۔ نوجوان نسل، جو ماضی کی جنگوں سے براہِ راست واقف نہیں تھی، اس بحران کے دوران قومی یکجہتی اور مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔
تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر اسرائیل دوبارہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایک ایسے حریف کا سامنا ہوگا جو پہلے سے زیادہ تیار، مسلح اور اندرونی طور پر متحد ہے۔ ایسی صورتِ حال تل ابیب کے لیے تباہ کن اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

چینی ویکسین کے حوالے سے محققین کی اہم تحقیق

?️ 19 جولائی 2021استنبول (سچ خبریں) چینی کمپنی سائنو ویک کی تیار کردہ کوویڈ 19

بائیڈن کے ٹوکیو دورے کے خلاف جاپانیوں کا احتجاج

?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:سینکڑوں جاپانیوں نے امریکی صدر کے دورہ ٹوکیو کے خلاف احتجاج

نیتن یاہو کے دفتر کا دعویٰ: ہم ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کو فوری طور پر نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں

?️ 4 اکتوبر 2025سچ خبرین: اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ حکومت

سعودی عرب یمن جنگ کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے:یمنی تجزیہ نگار

?️ 23 مئی 2023سچ خبریں:یمن کے ایک قلم کار اور صحافی علی الدروانی نے کہا

کورونا اور انفلوئنزا کی وباء کے باوجود فرانسیسی ڈاکٹروں کی ہڑتال میں توسیع

?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں:فرانسیسی ڈاکٹروں نے تنخواہوں میں اضافہ اور کام کے بہتر حالات

اردگان کلیچداراوغلو کی واپسی کے خواہش مند کیوں ہیں؟

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: ترکی کی سیاسی و میڈیا فضاء میں ان دنوں ایک

 امریکی سینیٹرز کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا منصوبہ  

?️ 2 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی سینیٹ کے اراکین نے روس کے خلاف نئی معاشی

تحریک تحفظ آئین کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کو ملنے کا امکان

?️ 21 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) تحریک تحفظ آئین کی سربراہی مولانا فضل الرحمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے