?️
امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن برقرار کویی متبادل منصوبہ نہیں
امریکہ میں وفاقی حکومت کی 22 روزہ بندش نے سیاسی بحران کو گہرا کر دیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس کے مطالبات کے آگے جھکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب سینیٹ کے اکثریتی رہنما نے واضح طور پر کہا ہے کہ “کوئی پلان بی موجود نہیں۔
امریکی نیوز نیٹ ورک سی این این (CNN) کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ حکومت کی بندش ختم کرنے کے لیے ریپبلکنز پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بحران کے جلد خاتمے کی امید کم ہے۔
منگل کے روز ریپبلکن سینیٹرز نے کاخ سفید میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے اتفاق کیا کہ ڈیموکریٹس کو بجٹ توسیع کی تجویز پر ووٹ دینا چاہیے۔
دوسری طرف، ڈیموکریٹک رہنماؤں نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ وہ ہیلتھ کیئر ٹیکس کریڈٹ سے متعلق نئے معاہدے پر بات چیت شروع کر سکتے ہیں۔
ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے کہا ہے کہ اگر حکومت کی بندش طویل ہوئی تو 21 نومبر (31 آبان) تک بجٹ میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول، “ڈیموکریٹس وقت ضائع کر رہے ہیں اور عوامی دباؤ کو نہیں سمجھ رہے۔”
جانسن نے مزید کہا کہ اگر سینیٹ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق بل پاس کرتی ہے تو وہ فوراً ایوان نمائندگان کو دوبارہ طلب کریں گے۔
سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون نے کہا کہ حکومت کی بندش ختم کرنے کے لیے کوئی متبادل حکمتِ عملی (Plan B) موجود نہیں، جس کا مطلب ہے کہ ریپبلکنز ڈیموکریٹس پر دباؤ جاری رکھیں گے تاکہ وہ ریپبلکن بجٹ بل کو قبول کریں۔
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو “کارشکن (Obstructionists)” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کی بندش کے دوران ڈیموکریٹس کی پالیسیوں میں کمی لانے کے وعدے پر قائم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ “ڈیموکریٹس کی غیر ذمہ داری ہی اس بحران کا اصل سبب ہے۔یہ موجودہ بندش امریکہ کی تاریخ میں طویل ترین تعطیلیوں میں سے ایک بنتی جا رہی ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 35 روزہ حکومتی تعطل صرف دیوارِ سرحدی فنڈنگ کے مسئلے پر ہوا تھا۔
اب صورتحال پہلے سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ نہ کوئی واضح مذاکراتی پیش رفت ہو رہی ہے اور نہ ہی سیاسی ارادے دکھائی دے رہے ہیں۔امریکی ہفت روزہ نیوزویک کے مطابق، عوام میں ناراضی بڑھ رہی ہے۔ اے پی-نورک (AP-NORC) کے تازہ سروے کے مطابق،
60 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ریپبلکنز زیادہ تر اس بحران کے ذمہ دار ہیں،جبکہ 54 فیصد کے نزدیک ڈیموکریٹس بھی برابر کے قصوروار ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ عوامی رویہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ووٹرز دونوں جماعتوں کو بحران کا شریکِ جرم سمجھتے ہیں۔معاشی و سماجی اثرات نمایاں ہونے لگے
حکومت کی بندش کے اثرات اب معیشت پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں:تقریباً 8 لاکھ وفاقی ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔خوراکی امداد (SNAP) کا سرکاری ذخیرہ دو ہفتوں میں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔پروازوں میں تاخیر اور چھوٹے کاروباروں کی بندش بڑھ رہی ہے۔اگر بحران جلد حل نہ ہوا تو نچلے طبقے اور متوسط خاندانوں پر دباؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اس بار امریکی حکومت کی بندش نہ صرف بجٹ کے بحران بلکہ پارٹی سیاست کی شدت کا مظہر ہے — اور جب تک دونوں جماعتیں سمجھوتے پر نہیں پہنچتیں، “پلن بی” واقعی موجود نہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
فلسطین کے سابق نائب وزیر اعظم پر قاتلانہ حملہ
?️ 23 جولائی 2022سچ خبریں: فلسطین کے سابق نائب وزیر اعظم ناصر الدین شاعر
جولائی
امریکہ لبنان میں صیہونی جرائم کی حمایت کیوں کرتا ہے؟
?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکہ، مغرب اور اسرائیل کے عسکری-سیکیورٹی اتحاد کے خلاف، بہترین
ستمبر
نگران وزیر اعلیٰ کا سندھ منچھر جھیل پر جاری بحالی کے کام کا معیار بہتر بنانے کی ہدایت
?️ 24 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے مقامی
ستمبر
میں اور میری انتظامیہ میمفس میں جرائم میں کمی کی واحد وجہ ہیں: ٹرمپ
?️ 14 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹینیسی کے
ستمبر
عراقی پارلیمانی انتخابات کے لیے پارٹیوں اور اتحادیوں کی طرف سے امیدواروں کی تعداد
?️ 26 اکتوبر 2025اسچ خبریں: عراق کے آزاد ہائی الیکشن کمیشن نے صدام کے بعد
اکتوبر
کورونا ویکسین پر سیاست سے افراتفری کا ماحول پیدا ہوگا
?️ 6 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کووِڈ ویکسینیشن پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب
اگست
ٹرمپ کی صدارت کے ساتھ ہی جنگ کے خاتمے کا اعلان
?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل ہیوم اخبار نے ایک خبر میں اعلان کیا ہے
دسمبر
بائیڈن نے یوکرین کے بارے میں میکرون کی تجویز مسترد کر دی
?️ 7 جون 2024سچ خبریں: پولیٹیکو نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے
جون