امریکی معیشت کو ۲۰۲۶ میں درپیش سب سے بڑا خطرہ، ٹرمپ کی غیر یقینی تجارتی پالیسیاں

ٹرمپ

?️

امریکی معیشت کو ۲۰۲۶ میں درپیش سب سے بڑا خطرہ، ٹرمپ کی غیر یقینی تجارتی پالیسیاں

ایک امریکی جریدے کے تجزیے کے مطابق اگرچہ ۲۰۲۶ میں امریکی معیشت بظاہر ترقی کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں، خصوصاً تجارتی محصولات، مالیاتی امور اور اقتصادی نظم و نسق کے حوالے سے، امریکہ کی معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ میں ٹرمپ حکومت کی اقتصادی حکمت عملی کا مرکز درآمدات پر بھاری ٹیرف، ٹیکسوں میں کمی، فیڈرل ریزرو پر دباؤ اور متاثرہ شعبوں کے لیے محدود مالی مدد رہا۔ کینیڈا، میکسیکو، چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں پر عائد کیے گئے وسیع پیمانے کے محصولات کے نتیجے میں اوسط ٹیرف کی شرح ۱۶ سے ۱۷ فیصد تک پہنچ گئی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد ملکی پیداوار میں اضافہ، تجارتی خسارے میں کمی اور ٹیکسوں میں رعایت کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے۔
تاہم ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ بلند محصولات نے درآمدی اشیا کو مہنگا کر دیا ہے، جس سے امریکی صارفین پر بوجھ بڑھا، مہنگائی میں کمی کا ہدف پورا نہ ہو سکا اور روزمرہ ضروریات اور صنعتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں میں سست رفتار روزگار نے بھی تنقید کو ہوا دی ہے۔ متعدد مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ پالیسیوں اقتصادی نمو کو سست کر سکتی ہیں اور کساد بازاری کے خدشات بڑھا سکتی ہیں۔
اگرچہ کچھ ماہرین اور سرکاری حلقے ۲۰۲۶ میں معاشی بہتری کی بات کر رہے ہیں، لیکن کئی تجزیہ کاروں کے نزدیک خود صدر ٹرمپ آئندہ سال معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ امریکی جریدے نیویورکر کے مطابق خوش بین ماہرین ٹرمپ کی جانب سے مزید انتشار پیدا کرنے کی صلاحیت کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ امریکہ ایک ایسی معاشی خوشحالی کے دہانے پر ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، مگر تجزیہ کار اس بیان کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہیں۔
سرویز کے مطابق امریکی عوام اب بھی مہنگائی اور قیمتوں کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں اور صرف ایک تہائی افراد ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ۲۰۲۵ میں امریکی جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً دو فیصد رہنے کا امکان ہے جو سابق صدر جو بائیڈن کے آخری برسوں سے کم ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح چار فیصد سے بڑھ کر ۴ اعشاریہ ۶ فیصد ہو چکی ہے۔
اس کے باوجود فیڈرل ریزرو اور بعض مالیاتی ادارے محتاط خوش بینی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، ممکنہ شرح سود میں کمی اور ٹیکس ریفنڈز گھریلو کھپت کو سہارا دے سکتے ہیں۔ گولڈمین سیکس نے بھی امریکی معیشت کے لیے ۲ اعشاریہ ۶ فیصد ترقی کی پیش گوئی کی ہے۔
نیویورکر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی بدلتی ہوئی ٹیرف پالیسیوں نے کاروباری دنیا میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے اور یہی غیر استحکام ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی وقتی طور پر کم ضرور ہوئی ہے، لیکن اس کے مستقل رہنے کی کوئی ضمانت نہیں۔ رپورٹ کے اختتام پر زور دیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے ہوتے ہوئے امریکی معیشت کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی قسم کا یقین ممکن نہیں۔

مشہور خبریں۔

The Chinese smartphone upstarts taking on Apple and Samsung

?️ 4 ستمبر 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

افغانستان کا فیصلہ ہم نے نہیں افغان فریقوں نے کرنا ہے

?️ 17 جولائی 2021راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر

امریکی صدر ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کی خواہش اور چین سے مدد کی اپیل

?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملائشیا کے لیے روانگی سے

10 ممالک کا اسرائیل سے غزہ میں امداد پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ

?️ 31 دسمبر 2025 10 ممالک کا اسرائیل سے غزہ میں امداد پر عائد پابندیاں

اسرائیل فوری طور پر اپنے حملے بند کرے

?️ 10 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے اس ہفتے کے روز سے الاقصیٰ طوفان

علمائے کرام سے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے:ڈاکٹر فیصل سلطان

?️ 12 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی

مراکش کشتی حادثے میں متعدد پاکستانی شہری بھی شامل تھے، دفتر خارجہ

?️ 17 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ

ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچے 

?️ 8 جولائی 2026سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے