امریکی دباؤ کے دوران بھارت کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ

بھارت

?️

امریکی دباؤ کے دوران بھارت کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ
 بھارت حالیہ مہینوں میں امریکی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اسی تناظر میں اس نے چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے قدم بڑھایا ہے تاکہ یہ پیغام دے سکے کہ وہ مکمل طور پر واشنگٹن کے زیر اثر نہیں آئے گا۔
چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، بھارت اور امریکہ کے تعلقات جون میں اس وقت کشیدہ ہوئے جب واشنگٹن نے نئی دہلی پر تنقید کے ساتھ ساتھ تجارتی محصولات بھی عائد کیے۔ اس کے باوجود، بھارت نے کوشش کی کہ کشیدگی براہِ راست تصادم میں نہ بدلے اور اپنی "اسٹریٹجک خودمختاری” برقرار رکھے۔
نریندر مودی، بھارتی وزیراعظم، نے اس صورتحال کے جواب میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ روابط میں بہتری پیدا کی۔ وہ سات برس بعد پہلی مرتبہ چین گئے اور شہر تیانجِن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے موقع پر صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتین سے گرمجوش ملاقاتیں کیں۔
تاہم، نئی دہلی نے محتاط توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک طرف چین اور روس سے تعلقات بڑھائے، تو دوسری جانب جاپان اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ بھی مصروفیات رکھیں۔ مودی نے نہ تو شنگھائی تعاون تنظیم پلس اجلاس میں شرکت کی اور نہ ہی چین کی دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی یادگار تقریب میں شریک ہوئے۔ اسی طرح، بھارت نے ماسکو کی تجویز کردہ تین فریقی ملاقات (چین، روس، بھارت) کو بھی قبول نہیں کیا اور بریکس کے آن لائن اجلاس میں صرف وزیر خارجہ کو نمائندگی کے لیے بھیجا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، نئی دہلی امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ کوشش ہے کہ "انڈو پیسفک اسٹریٹجی” کو فعال رکھا جائے۔ مودی کی حکومت نے برسوں تک واشنگٹن کے ساتھ تعلقات پر سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اب وہ پہلے جیسی مراعات حاصل نہیں کر پا رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ بھارت کو جاپان یا جرمنی کی طرح دیکھنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھتا ہے اور عالمی سطح پر اپنی ڈائسپورا کے ذریعے بھی اثر انداز ہے۔ یہی پہلو واشنگٹن کے لیے ایک طرح کی بے یقینی پیدا کرتا ہے۔
امریکہ کے لیے کسی بھی ابھرتی ہوئی طاقت کو برداشت کرنا مشکل ہے، خاص طور پر اگر وہ مکمل طور پر اس کے کیمپ میں شامل نہ ہو۔ بھارت اگر امریکہ کا "ثانوی اتحادی” بننے پر تیار نہ ہو تو اس کی ترقی واشنگٹن کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
اس کے برعکس، چین کے خلاف امریکہ کے پاس جاپان، آسٹریلیا اور یورپی اتحادیوں جیسے کئی مضبوط شراکت دار موجود ہیں۔ لیکن بھارت کی ہچکچاہٹ نے واشنگٹن کو اس کے بارے میں شکوک میں ڈال دیا ہے، یہاں تک کہ اگر نئی دہلی چاہے بھی تو واشنگٹن شاید اسے مکمل اتحادی کے طور پر تسلیم نہ کرے کیونکہ اس کے لیے فوجی معاہدوں اور طویل مدتی ذمہ داریوں کی بھاری قیمت چکانی ہوگی۔
یاد رہے کہ 2021 میں جب بھارت کرونا کی شدید لہر سے گزر رہا تھا، امریکہ نے ویکسین کے خام مال کی برآمد روک دی تھی اور بعد میں جزوی طور پر یہ پابندی اٹھائی، جس سے بھارتی عوام میں واشنگٹن کے خلاف ناپسندیدگی میں اضافہ ہوا۔

مشہور خبریں۔

حکومت نے عمران خان پر الزامات لگانے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرنے کا اعلان کیا ہے

?️ 16 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات

امریکہ کے تباہی پھیلانے والے ہتھیار 

?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کی اسٹریٹجک دستاویز کی اشاعت اور شمالی کوریا

لمبے عرصے بعد پاکستان کیلئے امریکی سفیر معین

?️ 20 اکتوبر 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا نے ڈونلڈ ارمن بلوم کو پاکستان

جنگ کا آٹھواں سال حیرتوں سے بھرا سال ہے: یمنی سپریم پولیٹیکل چیئرمین

?️ 30 مارچ 2022سچ خبریں:  الایمان نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے مہدی مشاط نے

سابق برطانوی سفارت کار: ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ​​نہیں چاہتے

?️ 25 فروری 2026سچ خبریں: روس میں برطانیہ کے سابق سفیر نے کہا: امریکی صدر

اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت چھپانے کیلئے گوگل اور ایپل نے میپس میں ٹریفک دکھانا بند کردی

?️ 25 اکتوبر 2023سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیز ایپل اور گوگل نے اسرائیلی فوج کی

برطانیہ روس یوکرین امن معاہدے کے مخالف

?️ 27 مئی 2022سچ خبریں:   برطانوی وزیر خارجہ لز ٹیریس نے جمعرات کو روس یوکرین

بغداد میں امریکی سفارت خانہ پر راکٹ حملہ

?️ 22 فروری 2021سچ خبریں:عراقی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے